اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کا محاکمہ : شق نمبر -2تصورِ مساوات: ہیومن رائٹس چارٹر نسل؛ مذہب؛ جنس اور سماجی حیثیت سے قطع نظر تمام افراد کو یکساں حقوق اور آزادیوں کا حقدار قرار دیتا ہے۔ریاستی خود مختاری: بین الاقوامی ہیومن رائٹس قوانین کی بالادستی قومی قوانین؛ مذہبی احکام اور ریاستی خود مختاری کو محدود کرنے کا سبب بنتی ہے۔مسلم معاشروں پر اثرات: ہیومن رائٹس کا نفاذ اسلامی قوانین؛ مذہبی اقدار اور مسلم معاشروں کی تہذیبی و اخلاقی شناخت کو متاثر کرتا ہے۔مذہبی آزادی کے نتائج: مذہبی آزادی کا وسیع تصور ارتداد؛ الحاد اور مذہبی تعلیمات و مقدسات کے تمسخر کی راہ ہموار کرتا ہے۔غیر اخلاقی امور: غیر محدود شخصی آزادی فحاشی؛ جنسی بے راہ روی اور مذہبی و معاشرتی اخلاقیات سے متصادم اعمال کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔خاندانی و معاشرتی نقصان: فحاشی اور لامحدود آزادی خاندانی نظام؛ شرم و حیا؛ عفت اور حقیقی انسانی رشتوں کو کمزور کرکے معاشرتی انتشار پیدا کرتی ہے۔
  2. Everyone is entitled to all the rights and freedoms set forth in this Declaration, without distinction of any kind, such as race, colour, sex, language, religion, political or other opinion, national or social origin, property, birth or other status. Furthermore, no distinction shall be made on the basis of the political, jurisdictional or international status of the country or territory to which a person belongs, whether it be independent, trust, non-self-governing or under any other limitation of sovereignty.
  ہر کوئی اس اعلامیہ میں بیان کردہ تمام حقوق اور آزادیوں کا بغیر کسی قسم کے امتیاز کے حقدار ہے ، جیسے کہ نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی یا دیگر آراء کی بنیادیا قومی یا سماجی ، وراثتی، پیدائشی یا کسی دوسری حیثیت کی بنیاد پر۔ مزید برآں كوئی بهی شخص خواه اس كا تعلق كسی خاص سیاسی وحدت ، خاص علاقائی دائرے یا بین الاقوامی حیثیت سے ہونے کے باوجود اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا چاہے وہ خود مختاراقوام متحدہ کے زیر نگرانی علاقے سے تعلق رکھتا ہو یا غیر خود مختار علاقہ سے یا پھرکسی محدود خودمختاری کے حامل علاقہ سے متعلق ہو۔

اس شق کو دیکھ کر عموما ہمارےمسلمان بھائی اور علمائے اسلام بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ کہے بنا ان سے رہا نہیں جاتا کہ یہ تو نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کا عین ترجمہ، مفہوم اور لب لباب ہےحالانکہ اس شق کا نہ اسلام سے تعلق ہے اور نا ہی خطبہ حجۃ الوداع سے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ شق غیر اسلامی تصور ِمساوات کو عملی جامہ پہنانے کی مذموم کوشش ہے جس کے نتیجہ میں ہر نیک و بد، ہر صاحب ایمان اور کافر ہر صالح و متقی اور فاسق و فاجر کے لئے ایک ہی قانون اس طور پر وضع کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تمام افراد بغیر کسی ایمانی و اخلاقی فرق کے یکساں حقوق کے حامل ہیں کیونکہ یہ چارٹر انسانوں کے درمیان عبدیت اور خدا کے منکر و باغی ہونے کی حیثیت سے کوئی فرق نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح اخلاقی و روحانی طور پر بلند اور پست کے مابین امتیاز کا بھی کوئی معیار موجود نہیں ہے۔ اسی لئے یہ شق تمام انسانوں کو قطع نظر ان کے ایمانی، اخلاقی، روحانی اور جغرافیائی حد بندیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے بالکل اسی طرح انسان سمجھتی ہے جس طرح گھوڑوں اور گدھوں میں اخلاقی اور روحانی طور پر کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔

ان حقوق کے نفاذمیں سب سے بڑادھوکہ یہ ہے کہ اسلام اور غیر اسلام بلکہ کوئی بھی مذہب حتیٰ کہ کوئی ملک یا ریاست بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ملک اپنے باشندوں(جو ہیومن ہیں) پر اپنے قوانین لاگو کرنا چاہے تو اسے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اس کے قوانین اقوام متحدہ کے ہیومن لاء سے متصادم تو نہیں ہیں۔اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جس کے پاس اپنی مقننہ، عدلیہ ، پارلیمنٹ موجود ہے وہ ان تمام اداروں کی موجودگی کے باوجود اپنے ملکی قوانین کے نفاذ میں بالکل بے بس ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستا ن میں ریمنڈ ڈیوس کا کیس جس میں اس نے تین افراد کو بے دردی سے قتل کردیا تھا لیکن اس کے باوجود کہ وہ خود قتل کا مستحق ہوچکا تھا مگر بجائے اس کے کہ اسےملکی یا شرعی قوانین کی روسے سزا دی جاتی ملکی عدالتوں نےغیر ملکی دباؤ کے تحت اسے رہا کردیا۔ اس واقعہ کے تناظر میں جو حقیقت آشکارہ ہوکر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس امریکی شہری ہونے کے ناطے سے اقوام متحدہ کے چارٹر برائے حقوق انسانی کا سہارا لے کر پاکستان کے تمام عدالتی قوانین کے شکنجے سے بچ نکلنے میں اس لئے کامیاب ہوا کیونکہ وہ ایک ہیومن بینگ تھا جبکہ دوسری طرف وہ لوگ جسے اس نے بےدردی سے قتل کیا بظاہر تو اسی کی طرح کے انسان تھےلیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے شاید بلکہ یقینا ہیومن بینگ کی صف میں شامل اور داخل نہیں تھے۔ لہذا ان کا قتل کسی جنگلی جانور کو قتل کرنے کے مترادف تھا لہذا ریمنڈ ڈیوس کو نا قابل گرفت اور ناقابل مواخذہ ٹہرادیا گیا۔ یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے تمام واقعات اس بات کی بالکل صریح طور پر وضاحت پیش کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی ریاست اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے چارٹر کو قبول کرتی ہے تو وہ بنیادی طور پر تین سطحوں پر اپنی خود مختاری سے دستبردار ہونے کے لئے اپنی رضامندی کا برملا اعلان جان بوجھ کر یا انجانے میں کر بیٹھتی ہے جس کو درج ذیل تین اہم نکات کے ذریعہ سے سمجھنا ممکنہ طور پر مزید آسان کردے گا:

  1. تیسری دنیا (پست اقوام)کے ممالک بین الاقوامی قوانین کی ملکی قوانین پر بالادستی تسلیم کرلیں جو ہیومن رائٹس سے متعلق سول لبرٹیز کوعالمی سطح پر نافذ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
  2. قومی ریاستوں کا دستوری ڈھانچہ ان بین الاقوامی قوانین اور عدالتی تنظیموں کے ماتحت کر دیا جائے جو سرمایہ دارانہ نظام کی عالمگیریت کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
  3. معاشرتی سطح پر اغراض کی بنیاد پر ایسی گروہ بندیاں قائم کی جائیں جو حقوق کی سیاست کو فروغ دیں اور قومی ریاستوں کے عالمی سرمایہ کے ماتحت ہوجانے کے عمل کی تائید کریں اور اس کا جواز عوامی سطح پر پیش کریں۔

مذکورہ بالا تینوں نکات کے ذریعے یہ جاننا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر آف ہیومن رائٹز کو قبول کرنے کی صورت میں ملکوں اور ریاستوں کا اختیار نہ صرف محدود ہوجاتا ہے بلکہ براہ راست اقوام متحدہ اور بالادست ممالک کی بالادستی کو اپنے تمام اندرونی قوانین اور اداروں پر فوقیت دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی خود مختاری پر زور دیتے ہوئے اپنے مذہبی ، اخلاقی، قانونی اور معاشرتی حالات کی وجہ سے اقوام متحدہ کے چارٹر آف ہیومن رائٹز کو قبول کرنے سے انکار کردے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اسے پوری نام نہاد مہذ ب دنیا(ترقی یافتہ اقوام) کی دشمنی مول لینی پڑے گی۔جس طرح اقوام متحدہ کے سابقہ سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے ایک بار بالکل واضح الفاظ میں تمام ممالک کو یہ دھمکی دیتے ہوئے کہا اور لکھا تھا:

  ”کسی حکومت کو حق نہیں کہ وہ قومی خود مختاری کو آڑ بنا کر ہیومن رائٹس سے انکار کرے۔ سوڈان اور افغانستان کے مظلوم عوام کا حق یہ ہے کہ ہم ان پر ہونے والے ظلم کو ختم کریں اور ان ممالک کو ترقی کی راہ پر لائیں۔ ہم ان ممالک میں فوجی مداخلت کریں کیوں کہ یہ مداخلت ہیومن رائٹس کے عالمگیر طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق ہوگی۔“

مندرجہ بالا تصریحات کے بعد آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حقوق انسانی کا منشور عالمی سطح پر تسلیم شدہ واحد ”الحق“ ہے، جسے تسلیم کیا جانا اور ریاستی معاملات کو ہیومن رائٹس چارٹر کے مطابق استوار کرنا لازم ہے۔ جو ریاستیں انسانی حقوق کے طے شدہ منشور کے برخلاف ”الحق“ بمعنی اسلام یا شریعتِ اسلامی کو نافذ کرنے کی کوشش کریں تو ان کے ساتھ لڑائی، ان کا قتل عام اور ان کی املاک کو لوٹنا اور ان پر فوج کشی کے کرنا ضروری ہے۔مثلاً افغانستان میں طالبان نے شریعت اسلامیہ کا نفاذ کیا اور افغانستان کو امارت اسلامی قرار دیا تو امریکا نے نیٹو افواج کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا۔ تب بش نے کہاتھا کہ وہ افغانستان کے باشندوں کو آزادی دلانے اور جمہوریت رائج کرنے آیا ہے۔ یہ آزادی وہی تھی جس کا دعویٰ ہیومن رائٹس میں کیا گیا ہے اور جمہوریت کو شریعت کے متبادل جگہ دی گئی ہے۔

اس شق کے مسلم ممالک پر اثرات

جن ممالک نے اس چارٹر پر دستخط کئے ہیں وہ اس بات کے پابند ہوگئے ہیں کہ وہ تمام احکامات کا فیصلہ اسلام کی الہامی ہدایات و احکامات کے بجائے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹز کےچارٹر کے مطابق کریں۔اس کا نتیجہ اسلامی ممالک میں بڑھتے ہوئے ارتدادی اور توہین آمیز واقعات کی صورت میں رونما ہونا اس طور پر شروع ہوگیا ہے کہ وہ تمام قوانین جو براہ راست قرآن و سنت سے مأخوذ ہیں اور ان کا تعلق حساس ترین مذہبی و دینی معاملات مثلا توہین رسالت، اہانت قرآن، الحاد، ارتداد، اسلامی تعلیمات کا تمسخر، غیر اخلاقی امور کے لئے جواز کی فراہمی اور سود کی تمام مروجہ اقسام کے جواز کی صورتوں میں سامنے آرہی ہیں ۔ اس شق کے ذریعے مسلمان ممالک کے اندر عملی طور پر مداخلت کی راہ یوں ہموار کی گئی ہے کہ ان کی معاشرت اور ثقافت براہ راست مغربی تہذیب کے حملے کے زیر اثر آگئی ہے جس نے اسلام کے معاشرتی، سماجی اور ثقافتی اقدار و اخلاق کو تہہ و بالا کرنا شروع کردیا ہے۔

توہین رسالت و اہانت قرآن

اسلامی شریعت کی رو سے توہین رسالت و اہانت قرآن وہ سنگین ترین جرائم ہیں جن کی کم سے کم سزا موت ہے لیکن تمام مسلمان ریاستوں میں حکومتیں عملا اس سزا کے نفاذ کے معاملہ میں پس و پیش کا شکار رہتی ہیں کیونکہ اقوام متحدہ اور طاقتور مغربی ممالک ان سزاؤں کو کسی بھی صورت میں قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بحیثیت ایک خود مختار اور آزاد مخلوق کے اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ جب چاہے، جیسے چاہے اور جو چاہے اس کے ذریعہ اپنی آزادی کا اظہار کرسکتا ہے خواہ اس کی آزادی کی زد دوسروں کے مذہبی عقائد، معاملات اور احکامات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو کیونکہ مغرب انسان کے آزادی کے حق کو دوسرے تمام حقوق پر فوقیت اور بالادستی دیتا ہےخواہ اس کے نتیجہ میں کسی کا مذہب اور عقیدہ کا حق مغلوب ہوکر ہی کیوں نہ رہ جائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص آزادی کے مقابلہ میں اپنے دین و ایمان کو رکھتا ہے تو اس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ حقوق انسانی کے مقابلہ میں اپنے دین و مذہب کو فوقیت دینے والا ہے جو اسے ایک مخصوص دائرہ میں احکاماتِ خداوندی کی پابندی پر مجبور کرتا ہے اور وہ اس بات پر بھی اپنی عقیدہ کی رو سے مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی عبدیت کے مقابلہ میں آزادی کےتصور کو کلیتا رد کردے۔لہذا حقوق انسانی کا چارٹر اپنی مستور خباثت اور ضلالت کے تحت ایسی مخلوق یا اللہ پر ایمان رکھنے والی قوم کو انسا ن بمعنی ہیومن بینگ(Human Being) نہیں سمجھتی جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے تمام حقوق بشمول جان، مال، عزت وآبرو یا تو سلب کرلئے جاتے ہیں اور خود سلب نہ بھی کئے جائیں بلکہ کوئی اور غاصب ان حقوق کو پامال کر رہا ہو تو اسے تھپکی دی جاتی ہے کہ وہ جن انسانوں کا قتل عام کر رہے ہیں وہ ہیومن بینگ نہیں ہے لہذا ان کو قتل کرنا ہیومن بینگ کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ اس کی مثال پاکستان میں سینکڑوں وہ واقعات ہیں جس میں ملزمان کو ان کے اہانت قرآن و توہین رسالت کے جرم ثابت ہونے کے باوجود عدالتیں تختہ دار پر لٹکانے سے نہ صرف گریزاں ہیں بلکہ عالمی دباؤ کی وجہ سے بعض بڑے مجرموں کو خود حکومتِ وقت نے فرار کرانے کے لئے تمام مطلوب وسائل اور راہیں فراہم کی ہیں۔اس میں مشہور ترین واقعہ ملعونہ آسیہ مسیح کا ہے جس کا جرم ثابت ہونے کے باوجود اس کو خاص طیارے کے ذریعے فرانس بھیجا گیا جہاں اس کا پروٹوکول کے ساتھ استقبال کیا گیا اور وہاں کی شہریت اور بہت سے انعاموں کے ساتھ نوازا گیا۔

واضح رہے کہ توہین رسالت و اہانت ِ قرآن دونوں انتہائی سنگین نتائج کے حامل جرائم ہیں جن کی معافی کا اختیار نہ تو کسی شخص کے پاس ہے اور نہ کسی حکومت کے ہاتھ میں ہے لہذا اس کا مرتکب کوئی بھی ہو اس کی سرکوبی بہر صورت کی جائیگی کیونکہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں توہین رسالت کے مجرم کو بیت اللہ کے غلاف میں چھپنے کے باوجود امان نہ مل سکی۔صحیح مسلم کی حدیث میں مذکور ہے:

  عن ‌أنس بن مالك « أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة عام الفتح، وعلى رأسه مغفر، فلما نزعه جاءه رجل فقال: ‌ابن ‌خطل ‌متعلق ‌بأستار ‌الكعبة، فقال: اقتلوه»؟ 1
  انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں فتح مکہ کے سال داخل ہوئے، آپ ﷺ کے سر پر خود تھا، جب آپ ﷺنے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور عرض کی: ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس کو قتل کر دو"۔

شروح آحادیث میں ابن خطل ، كعب بن اشرف سمیت دوسرے مرتکبین توہین رسالت کو بیت اللہ کے غلا ف میں چھپنے کے باوجود وہاں سزا کے طور پر قتل کردیا گیا ۔یہ بات واضح رہے کہ توہین رسالت کے مرتکبین کی سزا جو نبی کریم ﷺ نے قتل متعین فرمائی ہے اس کا تعلق خاص دور رسالت مأب ﷺ سے ہرگز نہیں ہےبلکہ یہ وہ عمومی حکم ہے جس کا اطلاق بطریق اولیٰ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ کسی بھی دور اور کسی بھی جگہ جہاں توہین انبیاء و رسلAlaihmus Salam کے ارتکاب کی کوشش کی جائی گی تو توہین کرنے والوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے گا جس کا ثبوت درج ذیل حدیث ِ رسول ﷺ میں نہایت صراحت کے ساتھ ملتا ہے:

  عن علي رضي الله عنهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من سب الأنبياء قتل ، ومن سب أصحابي ‌جلد»2
  حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے انبیاء Alaihmus Salam کو گالی دی تو اسے قتل کردیا جائے، اور جس کسی نے میرے صحابہ کو گالی دی تو اسے کوڑے لگائے جائیں۔

اس کے مقابلہ میں اقوام متحدہ کا منشور جب سے خود انسانوں نے مرتب کیا ہے انہوں نے توہین رسالت یا توہین کتب مقدسہ اور بالخصوص اہانت قرآن کو نہ صرف یہ کہ جرم سمجھنے سے عملا انکار کر رکھا ہے بلکہ اگر کوئی ریاست ان جرائم کے لئے شرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کرے تو اس پر اقتصادی پابندیاں، اس کی مصنوعات کا دنیا بھر میں برآمدات پر روک لگانا ، اس کے شہریوں کو غیر ملکی اسفار کے لئے ویزوں کی فراہمی پر پابندیاں عائد کرنےسمیت کئی دوسرے سخت فیصلوں کی زد میں لاکر اسے اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین مذہب پر مبنی ہدایات و احکامات اور قوانین کو عملا منسوخ کر ڈالیں یہی وہ ممالک ہیں جو اپنے کسی چھوٹے یا بڑے غرض کے تحت دنیا کے کسی بھی قوم کے اہم ترین افراد کو اگر خود قتل کرواڈالیں تو وہ اپنے آپ کو اس بات کا جائز مستحق سمجھتے ہیں کہ ہر اس شخص یا گروہ کا صفایا کردیا جائے جو ان کے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔پاکستان میں کئی راسخ العقیدہ علمائے کرام کی پے درپے شہادتیں شاید اسی حقیقت کا شاخسانہ ہے۔مسلمان خلفاء اور فقہاء کا بھی توہین رسالت کے معاملہ میں ہمیشہ مؤقف سخت اور مبنی بر عدل رہا ہے تاکہ امت نت نئے نظریات اور مفسدانہ و ملحدانہ افکار کا شکار ہوکر کسی بھی صورت میں اس عمل شنیع کو برداشت نہ کرنے کی روایت کو برقرار رکھیں اور اس دروازہ کو ہمیشہ کے لئے بند کردیں جس سے توہینِ رسالت قولا، فعلا ، عملا، اشارۃ، اور کنایۃ بھی صادر ہوسکتا ہو۔ درج ذیل واقعہ میں مسلم تاریخ کے جلیل القدر خلیفہ کا امام مالک سے اس مسئلہ میں استفسار اور حضرتِ امام مالک کا ایمان افروز جواب مسلم ریاستوں اور ان کے حاکمین و ذمہ داران کے لئے ایک طرف تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے اور دوسری طرف انہیں عملی قانونی و شرعی اقدامات کے اٹھانے کے لئے راہ کا تعین کرتا ہے:

  وسأل الرشيد مالكا في رجل شتم النبي صلى الله عليه وسلم وذكر له أن فقهاء العراق أفتوه بجلده، فغضب مالك وقال: «يا أمير المؤمنين. ما بقاء الأمة بعد شتم نبيها؟! من شتم الأنبياء قتل ومن شتم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم جلد. 3
  خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، اورامام مالک سے ذکر کیا کہ عراقی فقہاء نے اسے کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے، امام مالک غضبناک ہوئے اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! امت مسلمہ کی بقا اور سلامتی (زندہ رہنے کا) کیا جواز حضور نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے کے بعد باقی رہ جاتا ہے ؟؟ پس جو انبیاء Alaihmus Salam کی توہین کرے گا اسے قتل کیا جائے گا اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کرے گا اسے کوڑے مارے جائیں گے۔

ارتداد

اقوام متحدہ دنیا کے تمام مذاہب کو قبول کرنے پر اس لئے مجبور ہے کہ ان کا وجود پہلے سے موجود ہے یعنی مذاہب اور اہل مذاہب آج بھی دنیا کے آبادی کی اکثریت پر مشتمل ہیں ورنہ اقوام متحدہ کسی بھی مذہب کو اپنے چارٹر آف ہیومن رائٹز کے تشکیل دینے کے بعداس چارٹر کے خلاف کسی تصور، نظریہ اور قانون سازی کے لئے کسی بھی صورت میں قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوتی ۔اسی طرح اقوام متحدہ کے لئے یہ بات قطعا کسی اہمیت کی حامل نہیں ہے کہ کون سا دین و مذہب حق کا علمبردا ر ہے اور کون سا عقیدہ یا مذہب توہمات یا لغویات پر مشتمل ہے۔اسی لئے اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کی نگاہ میں تمام مذاہب بالکل اسی طرح برابر ہیں جس طرح ایک قانون دان کی نظر میں دنیاوی تمام قوانین مختلف ہونےکے باوجود یکساں ہوتے ہیں۔ لہذا ایک مسلمان، یہودی، عیسائی اور ہندو بحیثیتِ اپنے اپنےمذہب کے پیروکار ہونے کے اپنی ایمانی حیثیت کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی نگاہ میں بالکل برابر ہیں اور ان میں کوئی بھی فرق اور تقسیم نہ تو کی جاسکتی ہے اور نہ ہی قبول کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ان مذاہب کوترک کرکے خود کو لا مذہب کہلوانے پر اصرار کرے تو کسی مذہب یا اہل مذہب کو اس بات کا قطعا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس عملِ قبیح و شنیع کو برا سمجھے۔اسی لئے یورپی ممالک اپنے سابقہ و تاریخی مذہب عیسائیت سے افراد اور اقوام ہر دوکی سطح پر دستبردار ہوچکے ہیں جبکہ اسلامی ممالک میں اسلام سے برگشتہ ہونا اور الحاد کو اختیار کرنا آہستہ آہستہ فروغ پاتا چلا جارہا ہے جس کی راہ میں مسلمان حکومت اور ریاست اپنی اسلامی حیثیت و شناخت کے باوجود کوئی قدم اٹھانے پر اس لئے تیار نہیں ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر اس طرح کا کوئی بھی حکومتی اقدام اس کے لئے مختلف قسم کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری طرف چارٹر آف ہیومن رائٹز کے زیر اثر وہ تمام لوگ جو اپنی آزادانہ رائے اور خواہش کے تحت اسلام قبول کرنے پر تیار ہوتے ہیں ان کے خلاف سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر اپنی ایجنٹ این جی اوز اور سول سوسائٹی کے آزاد منش اور آوارہ مرد و خواتین کے ذریعے ایسی رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہیں جو کسی بھی شخص کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن جائے ۔ اسی تناظر میں پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی نے اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کے قبول اسلام کے لئے جن امور کو لازم قرار دیا وہ ابتدائی طور پر غیر مسلمین کے مسلمان ہونے کی راہ میں مستقل بنیادوں پر آئینی و قانونی رکاوٹوں کو بڑھانے اور ان میں اضافہ کرنے کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کی پشت پر مغربی طاقتوں اور عالمی استعمار کے ایجنٹون کی خواہشات شامل ہیں۔ }}

اس کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص غیر اسلامی مساوات اور آزادی کے قانون کا سہارا لے کر اسلام کو ترک کرکے مرتدد یا ملحد ہونا چاہے تو اس کے لئے ہر قسم کی قانونی اور سماجی رکاوٹ کو اس لئے رد کیا جاتا ہے کہ اس شخص نے اقوام متحدہ کے چارٹر آف ہیومن رائٹز کے تحت اپنی خود مختاری، مساوات اور حق آزادی کا استعمال کرکے اپنے ہیومن بینگ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لہذا اس کا دین یا کسی اور مذہب کو ترک کردینا جرم نہیں بلکہ قابل تعریف عمل ہے جس کی تحسین اور تعریف کی جانی اس لئے ضروری ہے کہ باقی تمام اہل ایمان کو بھی دین و مذہب سے آزاد ہیومن بینگ بننے پر اسی طرح آمادہ کیا جاسکے۔اسی طرح تمام اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان میں گذشتہ ایک عشرہ سےزائد عرصہ سے ایسے کئی گروہ اور افراد پیدا ہوچکے ہیں جو آزادی اور مساوات کی آڑ میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر مختلف پلیٹ فارمز مثلا تعلیمی اداروں، مختلف سوشل کلبز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خود اپنے ارتداد کا ببانگ دُھل اعلان کے ساتھ ساتھ باقی تمام نوجوانوں کو راہ ارتداد پر اکسانے کی دعوت دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ماضی کی طرح کسی بھی شخص یا گروہ کا اپنا ذاتی فعل اور خواہش نہیں ہے بلکہ اس تمام عمل قبیح کی پشتی بانی بیرونِ ممالک سے بڑے پیمانے پر مالی معاونت اور اخلاقی حمایت کی چھتری تلے سر انجام دی جارہی ہے تاکہ تمام انسانیت کو دین وایمان سے برگشتہ کرکے ان کا رشتہ اللہ کی عبدیت سے منقطع کردیا جائے اور انہیں اپنی آزادی، خود مختاری،اور خود اپنے رب ہونے کا یقین دلایا جائے۔ یہی وہ تصور ہے جو ہیومنزم کے فروغ کے لئے اقوام متحدہ کے حقوق ِ انسانی کے چارٹر کے ذریعے پوری دنیا میں سر انجام دیا جارہا ہے۔

آزادی اور مساوات کے نعروں کے تحت خدا سے بغاوت ، دین سے دوری، ایمانیات سے انکار اور وہ تمام اعمال جس سے کوئی انسان اپنے آپ کو مذہب و دین کا دشمن ثابت کرسکے اس کی تائید اور اس کے خبیث نظریات کے فروغ کے لئے جہاں کئی مغربی ممالک اقوام ِ متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کا سہارا لیتے ہیں وہیں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز ان کے اس مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ہمہ وقتی معاونت اور اس کے گمراہ کن افکار کے نشر و اشاعت کے لئے کسی قسم کی پابندی عائد کرنا ممنوع سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف اگر کوئی شخص دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کی خاطر اور باطل افکار و نظریات کے رد میں جوابات دینے اور شکوک و شبہات کے ازالہ کے لئے سمعی و بصری پیغامات کی ترسیل کی کوشش کرے تو اس کے علم میں لائے بغیر یا تو اس کے سوشل میڈیا پروفائل کی پہنچ کو نہایت محدود کردیا جاتا ہے یا پھر دھمکی آمیز پیغام کے ذریعے اس کے پروفائل کو ابتداء میں معطل اور پھر مستقل طور پر بند کردیا جاتا ہے ۔حالانکہ اگر تمام افراد اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مساوی آزادی کے حقدار ہیں تو پھر دین ومذہب کی بنیاد پر جس طرح بے مذہب یا لامذہب انسانوں کو لا محدود اور لامتناہی آزادی اپنے بیہودہ اور باطل نظریات و افکار کے نشر و اشاعت کے لئے حاصل ہے بالکل اسی طرح ایک مسلمان کو بھی اپنے دین و ایمان اور نظریہ حیات کے مطابق زندگی گزانے کے لئے اور لوگوں کے دل و دماغ میں موجود اسلام سے متعلق کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کے رفع کرنے کے لئے بھرپور آزادی میسر ہونی چاہئے ۔اس کے برعکس ایک مسلمان جب اپنے عقیدہ اور ایمان کے تحفظ کے لئے کسی بھی سطح پر کوئی عملی یا علمی اظہار کرتا ہے تو اس کی اس جائز کوشش کو بھی اس لئے رد کردیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو نہ تو خود مختار سمجھتا ہے اور نہ ہی خود کو اپنا خالق و مالک جان کر اپنی آزادی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے تمام اعمالِ صالحہ، دعوتِ دین اور تبلیغ اسلام کے کاموں کے ذریعے اپنی بندگی ِ رب کا ثبوت فراہم کر رہا ہوتا ہے جو ضد ہے اس ہیومن چارٹر کے فلسفہ کی۔

اسلام کے نقطہ نظر سے کسی بھی ایسے قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو انسانوں اوربالخصوص مسلمانوں کو اس بات کی آزادی دے کہ وہ اپنا دین و عقیدہ اپنی چاہت اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے بدل ڈالے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اللہ تعالی کا آخری نازل کردہ وہ دین ہےجو سابقہ تمام الہامی ادیان کاتکملہ اور مجموعہ ہے لہذا اللہ تعالی کے دیےہوئے نظامِ زندگی کو چند نفسانی خواہشات اور انسان کے بنائے ہوئے نام نہاد قوانین کی خاطر قربان نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی لئے کوئی شخص جو اس دین اسلام کو پانے اور قبول کرنے کے بعد یا مسلمان پیدا ہوکر العیاذباللہ دینِ اسلام سے دوبارہ نکل کر مرتد ہوجائے اور کفر میں داخل ہوجائے تو اس صورت میں اگر مرتد شخص مرد ہو تو تین دن تک اسے مہلت دی جائے گی، اور اس دوران اس کے شکوک وشبہات علماء دور کریں گے، اگر اس کے شکوک وشبہات دور ہوجائیں اور دوبارہ اسلام قبول کرلے تو وہ دیگر مسلمانوں کی طرح ہوگا۔ اور اگر شکوک وشبہات دور کرنے کے باوجود وہ نہ مانے اور واپس اسلام میں داخل نہ ہو تو شرعاًایسے مرتد مرد کی سزا قتل ہے۔جیسے کہ حدیث رسول ﷺ میں مذکور ہے:

  عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من بدل دينه فاقتلوه»4
  حضرت ابن عباس سےروایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اپنا دین (اسلام سے) تبدیل کردیا پس اسے قتل کردو۔

ارتداد کے حوالہ سے عورتوں کے لئے اس قانون کے نفاذ میں فقہا نے بوجوہ نرمی اختیار کی ہے اور اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ عورت خود اپنے تئیں ارتداد جیسے گھناؤنے اور بڑی برائی کا ارتکاب عمومی طور پر خود اپنے تئیں نہیں کر پاتی بلکہ وہ کسی نہ کسی شخص کے زیر اثر رہ کر ارتداد پر آمادہ ہوتی ہے۔ لہذا عورتوں کی عمومی فطرت ارتداد سے اباء کرتی ہے ۔ اسی لئے اگر ارتداد اختیار کرنے والی عورت ہے تو اولاً اس کے بھی شکوک وشبہات دور کیے جائیں گے، اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو بہتر، بصورتِ دیگر اسے تاحیات قید میں رکھاجائے، الا یہ کہ جب وہ توبہ کرلے تو اسے رہا کردیا جائے۔

مذہبی تعلیمات و شعائر کا تمسخر

پوری انسانی تاریخ مذہب اور مذہبی تعلیمات و شعائر کے احترام پر مبنی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ جب انسان نے اپنی الوہیت کا اعلان کرکے اسے اپنے لئے نا قابل تردید عقیدہ کے طور پر اختیار کیا تو اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالی کی عظمت اور خالقیت کا منکر ہوگیا اور دوسری طرف ہر وہ شے جو اللہ تعالی کی خالقیت اور وجود سے متعلق ہونے کی وجہ سے تقدس کی حامل تھی اس کا سرے سے اس حد تک انکار کرڈالا کہ اگر کہیں دلیل سے ثابت شدہ مذہبی عقائد کو رد کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے استہزاء اور تمسخر کا سہارا لے کے اس کےتضحیک و تنقیص کرنے کی کوشش کو اپنا حق سمجھ کر قبول کرے۔ یہ تنقیص کوئی شخص کرے یا گروہ اوراس تنقیص کے پیچھے کوئی ریاست کھڑی ہو یا حکومت ان سب کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی تعلیمات و شعائر کا برملا اور علی الاعلان تمسخر کا ارتکاب کریں۔ یہ محض تخیلاتی و تصوراتی دعوی نہیں ہے بلکہ عملا گزشتہ کافی عرصہ سے مغرب اپنے اس اصول اور عقیدہ کا اظہار کرتا چلا آرہا ہے ۔ اس حوالہ سے پہلی مثال نبی کریم ﷺ کی ساتھ تمسخر اور استہزاء آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی صورت میں مختلف یورپی ممالک نے باقاعدہ سرکاری سرپرستی کے تحت کئے اور کروائے ہیں۔ اس موقع پر اپنے عشق رسول ﷺ اور جذبہ اسلام و ایمان کے اظہار کے لئےمسلم و غیر مسلم ممالک میں جن افراد نے مظاہروں کے ذریعہ اس گستاخانہ عمل پر اپنی نفرت کا اظہار کیا اور جن مسلمانوں نے آگے بڑھ کر موقع پاتے ہی مجرمین کا تعاقب اور ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی، اس کے خلاف تمام مغربی ممالک نے باقاعدہ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے دنیا بھر کےمسلمانوں اور مسلمان حکومتوں کو واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے اور بالخصوص مسلمانوں کے عقائد و ایمانیات اور ان کے اپنے پیغمبر ﷺ اور مذہب کے ساتھ لگاؤ کو ہر گز قبول نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ خود ہیومن ہیں اور وہ اپنی ہیومینیٹی(humanity) کی بنیاد پر کسی غیر ہیومن کے کسی بھی قسم کے دعوے اگرچہ کہ وہ ان کے مذہب، دین، عقیدہ، ایمان اور شعائر دین کی تقدیس و احترام سے ہی متعلق کیوں نہ ہوں کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔

اس حوالہ سے عموما اسلامی ممالک و حکومتوں کا رویہ ناقبل فہم اس معنی میں رہتا ہے کہ ایک عام مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاست کےذمہ داران اور حکومت کو چلانے والے اعلی عہدیداران مسلمان ہونے کے باجود افراد اور ریاست کی سطح پر ہونے والے مذہب ، مذہبی شخصیات اور مذہبی شعائر کے استہزاء اور استخفاف پر سخت ترین رد عمل دینے کے بجائے یا تو بالکل خاموشی اختیار کرلیتے ہیں یا پھر صرف سیاسی بیانات دے کر اپنی عوام کو مطمئن اور مغربی ریاستوں کے سامنے غیر جانبدارانہ پوزیشن اس لئے اختیار کرتے ہیں کیونکہ ان حکومتوں اور ریاستوں نے اقوام متحدہ کے منشور برائے ہیومن رائٹز کومن و عن تسلیم کرکے اس پر اپنے دستخط ثبت کر رکھے ہوتے ہیں اور مغرب کی غلامی قبول کر رکھی ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ بہر صورت اس بات پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس منشور کی پاسداری اس طور پر کریں کہ مذاہب ، مقدس شخصیات اور مذہبی شعائر کی تنقیص و توہین ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں اور اگر انہیں برا لگ بھی رہا ہو تو تب بھی وہ اسی لئے خاموش رہیں کہ اقوام متحدہ کا منشور ہیومن رائٹس کے تحت ہر شخص جو ہیومن بینگ ہے وہ جسے چاہے اچھا سمجھے اور جس کا چاہے مذاق اڑاتا پھرے۔ کوئی اس سے باز پرس کرنے والا یا اس کی پکڑ کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیومن بینگ ایک آزاد(Free) ، خود مختار (Autonomous) اور خود اپنے خالق (Self Created) وجود کا نام ہے جسے کسی مذہب، مذہبی علامت ، مذہبی شخصیت، مذہبی قوانی اور مذہبی مطالبے پر پابند یا سزا کا مستحق نہیں ٹہرایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح دوسرے انبیائے کرام Alaihmus Salamخصوصا حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی ذاتِ گرامی کے ساتھ اہل مغرب یعنی ہیومن بینگز کا رویہ بھی نہایت تمسخر پر مبنی رہا ہے۔ اس حوالہ سے سینکڑوں مرتبہ حضرت عیسیٰAlaihis Salam اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم Alaihas Salam کے گستاخانہ خاکے اور ان کے استہزاء اور تنقیص پر مبنی فلمیں مغرب نے بکثرت بناڈالی ہیں اور اس کی تشہیر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ وہ پوری دنیا میں اس طرح کر رہے ہوتے ہیں گویا کہ ہر انسان پر یہ بات لازم ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ و حضرت مریم Alaihmas Salam کا خود مذاق اڑائے اور اگر اس کے اند ریہ جرات نہیں ہے تو جن فلموں میں ان دونوں مقدس ہستیوں کا مذاق اڑایا گیا ہے وہ انہیں دیکھ کر اپنے ہیومن بینگ ہونے کی کمی کو اس طور پر پورا کرے کہ آئندہ وہ اس بات کےقابل ہوسکے کہ وہ خود مذہب، مذہبی شخصیات اور مذہبی شعائر کا تمسخر اور استہزاء بھرپور انداز سے کر سکے۔

ایسے ہیومن بینگز جو دوسرے مذاہب، مذہبی شخصیات اور شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کے حوالہ سے قرآ ن کریم میں ارشاد ہے:

  وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ 14 5
  اور جب وہ (ہیومن بینگز) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب(یہ ہیومن بینگز) اپنے شیطانوں(ہیومن بینگز) سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیں۔

یہاں شیطان سے مراد مشتعل مزاج اور شریر و سرکش جنات اور انسان ہیں۔ سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ لفظ انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو دین، مذہب، خدا ، رسول اور مذہبی شعائر کو جان بوجھ کر نہ صرف قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے انکار کے حق میں بطور دلیل کے ان تمام حقائق کا مذاق اڑانا اور ان کی تنقیص کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ بظاہر عام انسانوں کی طرح چہرہ مہرہ رکھتے ہیں لیکن عام انسانوں کی طرح اپنے آپ کو اللہ تعالی کی مخلوق سمجھنے کے بجائے اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ کسی خالق کی مخلوق نہیں ہیں بلکہ وہ خود اپنی تخلیق اس لئے ہیں کہ وہ جو چاہنا چاہتے ہیں وہ چاہ سکتے ہیں اور جس چیز کو نہ چاہنا چاہیں کوئی شخص یا ذات ان کو اس چیز کی عدم چاہت پر کسی مذہبی قانون کے تحت پابندی عائد نہیں کر سکتی۔ لہذا جب وہ یہ چاہیں کہ انہیں اللہ تعالی، مذہب ، رسول ، مذہبی شعائر و شخصیات اور شریعت کا مذاق یا استہزاء کرنا چاہئے تو اس وقت کوئی مذہبی و دنیاوی پابندیاں ان کی راہ میں رکاوٹ بن کر حائل نہیں ہوسکتیں۔

اسلام، سوشل لبرٹی کے نام پر کسی بھی مذہبی و غیر مذہبی شخص کا مذاق اڑانا جرم سمجھتا ہےچہ جائکہ اعاظم مذہبی و دینی شخصیات و شعائر کاکسی طور اور کسی بھی صورت میں مذاق اڑایا جائے قطع نظر اس بات کے کہ اس کا مقصد دنیاوی مفاد ہو یا دینی غرض و تبلیغ۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

  وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 108 6
  اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے۔

ایک طرف اسلام مسلمانوں کو غیر مسلمین کی مذہبی شخصیات و عقائد کی تضحیک سے روکتا ہے تو دوسری طرف کسی طور پر انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمانوں کے خدا، انبیائے کرام Alaihmus Salam، مذہبی شخصیات اور دینی شعائر کا مذاق اڑائیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ان چیزوں کے ساتھ تمسخر کرنا سب سے بڑا کفر ہے اور اس کی سرکوبی کے لئے ایک مسلمان یا اسلامی ریاست اپنے تمام وسائل جھونک دیتی ہے۔ اس کی ایک مثال تاریخ اسلام میں سلطنت عثمانی کے سلطان عبد الحمید ثانی کی ہمیں ملتی ہے جس کے دور میں فرانس نے حکومتی سطح پر نبی کریم ﷺ کی تضحیک و توہین پر مبنی ایک ڈرامہ تیار کیا تھا جسے وہ تمام لوگوں کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ جب خلیفہ عبد الحمدین ثانی کو اس بیہودہ عمل کے بارے میں معلوم ہواتو اس نے تمام تر مسائل کے باوجود اپنی دینی حمیت و غیرت اور نسبت و تعلق رسول ﷺ کی بنا پر نہ صرف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا بلکہ فرانس کے سفیر کو بلا کر اس کی حکومت کو کھلی دھمکی دی کہ اگر حکومت فرانس نے اس ڈرامہ کو نہ روکا تو اگلے دن سلطنت عثمانیہ اپنی ساری دنیا میں پھیلی ہوئی فوج لے کر فرانس پر چڑھ دوڑے گا۔ اس دھمکی کا اثر تھا کہ حکومت فرانس نے اس ڈرامہ سے دستبرداری کا اعلان کر ڈالا۔ لہذا آج کی تمام مسلمان ریاستوں پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے نام نہاد منشور حقوق انسانی یا ہیومن رائٹس کا نظریاتی و عملی رد کریں اور اس کو اجتماعی کوششوں کے ذریعہ سے اپنی دینی تعلیمات کے مطابق بدلنے کی بھرپور کوشش کریں۔بصورت دیگر انہیں اس منشور پر دستخط کرکے اپنے آپ کو عالمی مغربی نظریاتی و فکری استعمار کا غلام بنانے کے بجائے دو ٹوک اور واضح مؤقف کی صورت میں حقوق العباد کا چارٹر بنا کر اقوام متحدہ سے منظور کروانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

غیر اخلاق امور کا جواز و ترویج

مذکورہ بالا شق کے مطابق دنیا میں جہاں جہاں چارٹر آف ہیومن رائٹس نافذ ہے وہاں ہر انسان کے پاس یہ اختیار آجاتا ہے کہ خیر و شر کا تعین وہ خود کرے ۔ ان کے نزدیک کوئی بھی نظریہ یا عمل بذات خود اخلاقی یا غیر اخلاقی نہیں ہوتا کیونکہ اس فلسفہ کے مطابق انسانی اخلاقیات معروضی(objective) نہیں ہوتیں۔ لہذا ہر شخص کے لئے اخلاق وہ ہے جو اس کی عقل اور خواہش کے مطابق اخلاق کے زمرے میں آتا ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ریاست، مذہب یا شخصیت کو اس بات کا بالکل بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ تمام لوگوں کے لئے اخلاقیات کے اصول وضع کرے یا اس کی تنفیذ پرزور دے۔ پس جدیدیت(post modernism) کے اس دور میں ہر انسان اپنے لئے خود ہی کسی مقصدحیات کا تعین کرتا ہے اور زندگی کا معنی اسی سے ہی برآمد کرنے کی کوشش کرتا ہے،قطع نظر اس بات سے کہ وہ چیز یا عمل کسی معاشرے میں اچھی یا بری سمجھی جاتی ہے یا بالفاظ دیگر اس کی حیثیت اخلاقی ہے یا غیر اخلاقی۔ اس چارٹر کے مطابق ہیومن بینگ اپنا یہ حق سمجھتا ہے کہ اپنے اس مقصد کی تعمیل میں مسلسل لگا رہے اور اگر دیگر لوگ بھی اس کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لئے جڑ جائیں تو یہ تمام لوگ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی خواہشات و لذات کی تعمیل و تکمیل جس طرح چاہیں کریں اور کوئی ریاست و مذہب انہیں اس عمل سے نہیں روک سکتا۔ اسی لئے آج دیکھا جاسکتا ہے کہ اغلام بازی و ہم جنس پرستی جیسی گھناؤنی ، گندی اور شیطانی تحریکات جسے LGBTQIA++ یا دیگر ناموں سے پکارا جاتا ہے باقاعدہ طور پر مغرب کی پشت پناہی حاصل کرچکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ معاشرے جن اصولوں پر آج قائم ہیں انہیں ان اصولوں کی پاسداری کی وجہ سےسول سوسائیٹیز کہا جاتا ہے جس کا مطلب وہ انسانی معاشرے ہیں جن کی اساس اور بنیاد طلب حق کے بجائے حصول لذات و شہوات پر ہے۔ اس مقصد کی خاطر وہ کسی آسمانی مذہب یا مذاہب ِ عالم کی وضع کردہ حدود و قیود کی پابندی لازم نہیں سمجھتے بلکہ بہر صورت اپنے آپ کو ہیومن بینگ جان اور مان کر خود صحیح اور غلط کے معیارات کا تعین کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وہ ریاستیں جو کہ مسلم معاشرت پر مبنی ہیں، انہیں اپنی اسلامیت اور اسلامی اساس سےاس لئے دستبردار ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کے چارٹر پر دستخط کی وجہ سے وہ اس بات کے پابند ہوجاتے ہیں کہ اس قبیح عمل کو قانون سازی کے ذریعے آہستہ آہستہ جواز دیتے چلے جائیں۔پاکستان میں باقاعدہ ٹرانسجینڈر ایکٹ کو ایک قانون کی شکل دے دی گئی ہے جس کی آڑ میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں باقاعدہ ایک اغلام بازی (gay) کلب کھولنے کی درخواست جمع کروائی جاچکی ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی اسکولوں، کالجز اور جامعات میں بھی مختلف کورسز و تعلیمی مواد کے ذریعے عوام کو یہ چیزیں سکھائی جارہی ہیں او ر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔

ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تحت اس بات کو بھی فروغ دیا جارہا ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی اپنی جنسیت (sexuality) کو ایکسپلور کرے، فحش مواد (pornography) دیکھے یا اگر دو لڑکے یا لڑکیاں یا لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے زنا یا ہم جنس پرستی میں مشغول ہوں تو یہ ان کا ہیومن رائٹ ہے اور یہ قطعا غیر اخلاقی نہیں ہے کیونکہ اس فعل و عمل کا ارتکاب کرنے والے اسے ہر گزغلط اور غیر اخلاقی نہیں سمجھتے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیومن بینگ جس چیز کو صحیح سمجھے تو کسی مذہب،شخصیت یا ریاست کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ان کے اس عمل کو غلط قرار دے ۔برائی پر مبنی ان قوانین کی پاسداری اور ان کا تحفظ دستخط کرنے والی حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی غیر اخلاقی سرگرمیاں ہیں جو ریاستی سرپرستی میں عام کی جارہی ہیں۔

اس حوالہ سے اسلام کی تعلیمات بالکل واضح ہیں ۔اسلام کسی بھی صورت میں فحاشی، عریانی، جنسی بے راہ روی اور ہم جنس پرستی اور ان سے متعلقہ تمام امور کو کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کا روادار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایسے تمام کاموں سے اہل ایمان کو روکا ہے جو انہیں یاد الہی سے غافل اور اطاعت و عبادتِ خداوندی سے دور کرکے دنیا کی عارضی و فانی لذات و شہوات میں مگن کردے ۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فحاشی اور جنسی بے راہ روی کے لئے بے عقلی اور جہالت پر مبنی دلیل کو ان الفاظ میں رد فرمایا ہے:

  وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ 28 7
  اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی (طریقہ) پر پایا اور اﷲ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ فرما دیجئے کہ اﷲ بے حیائی کے کاموں کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اﷲ (کی ذات) پر ایسی باتیں کرتے ہو جو تم خود (بھی) نہیں جانتے۔

آج کا مغرب اپنی فحاشی و عریانی کی نسبت اپنے موجودہ آباؤ اجداد جن کا شجرہ نسب بمشکل 200-300 سالوں پر مبنی ہے ان کی طرف منسوب کرکے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے جو تحریک تنویر کے بعد اپنے ہیومن ہونے کے قائل تھے ان کے نزدیک فحاشی و عریانی کوئی برائی اور گناہ کی بات اس لئے نہیں ہے کیونکہ ہیومن بینگ کے نزدیک کوئی بھی ایسا کام جو خود اس جیسے دوسرے ہیومن بینگ کے لئے تکلیف اور مشکلات کا سبب نہ بنے بلکہ ایک طرف اس کے لطف و لذت میں اضافہ کا ذریعہ ہو اور دوسری طرف خود اس کے خود مختاری () میں اضافہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہو وہ کام اور عمل کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔ اس کے مقابلہ میں اہل ایمان جواللہ تعالی کی خالقیت اور خود مختاری و قدرت کاملہ پر ایمان کامل رکھتے ہوں اور ان کا اس بات پر بھی مضبوط اور بھرپور ایمان ہو کہ وہ اللہ تعالی کے بندے ہیں اور ہیومن بینگز ہرگز نہیں ہے۔ اسی لئے وہ ہیومن بینگز کی جھوٹی بنیادوں پر گھڑے ہوئے فاسد نظریات کا کلیتا رد کرتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر ان ہیومن رائٹز اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو قبول نہیں کرتے۔ ہیومن رائٹز دنیاوی زندگی میں عملی طور پر شیطان کے اتباع کا وہ رستہ ہے جو بالآخر فرد، معاشرے اور ریاست کو اس بات پر چاہتے ہوئے یا نا چاہتے ہوئے مجبور کرتا ہے کہ وہ فحاشی ، جنس پرستی اور فسق و فجور کی راہ پر چل پڑیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

  يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 21 8
  اے ایمان والو! شیطان کے راستوں پر نہ چلو، اور جو شخص شیطان کے نقوشِ قدم پر چلتا ہے تو وہ یقیناً بے حیائی اور برے کاموں (کے فروغ) کا حکم دیتا ہے، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی (اس گناہِ تہمت کے داغ سے) پاک نہ ہو سکتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک فرما دیتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

مسلمان جو جان بوجھ کر نہ تو خود شیطان کی راہ کو اختیار کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو شیطان کی اتباع میں لگانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب کوئی مسلمان ریاست اقوام متحدہ کے چارٹر آف ہیومن رائٹز کو قبول کرلیتی ہے تو اس کے نیتجہ میں وہ پسند کرے یا نہ کرے لیکن وہ شیطان کی بہر صورت اتباع کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس ریاست کے مسلمان شہری بھی فسق و فجور کی راہ اختیار کرنے کے لئے رفتہ رفتہ آزاد ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے اندر الحاد و لادینیت سرایت کرنا شروع ہوتی ہے جو پہلی نسل میں شاید کم ہو لیکن دوسری اور تیسری نسل میں اس کا اثر اس قدر شدید ہوتا ہے کہ پوری کی پوری قوم دین سے بیزار اور الحاد کی علم بردار بن جاتی ہیں۔ مغرب کی مذہبی ریاستوں کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ہیومن رائٹز کو منشور حیات کے طور پر قبول کرنے کے بعد فسق و فجور کا وہ طوفان بد تمیزی برپا ہوتا چلا گیا جس میں مذہب اور مذہبی اقدار غیر متعلق امور حیات بنتی چلی جاتی ہیں۔ عملی طو رپر اس فحاشی و عریانی کے پھیلاؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے افراد و اقوام دنیاوی و اخروی عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

  إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 19 9
  بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں فحاشی و عریانی کے نتیجہ میں پھیلنے والے جس عذاب کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے وہ خدانخواستہ تخیلاتی و تصوراتی عذاب نہیں ہے بلکہ اگر کوئی اپنی نگاہ کو کھول کرکے اس عذاب کا مشاہدہ کرنا چاہے تو مغرب اس کا عملی نمونہ بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فحاشی و عریانی نے وہاں شرم و حیا ، عفت و عصمت ، وفاداری اور اطاعت شعاری ، اخلاص اور حقیقی رشتوں کے بندھن جیسی عظیم انسانی اقدار و روایت کو بری طرح پامال کرکے رکھ دیا ہے لہذامغرب اللہ تعالی کی پکڑ میں آج اس طور پر جکڑا گیا ہے کہ وہاں خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے ہیں، بچے والد کی شفقت اور ماں کی محبت سے محروم ہوکر آوارہ گردی کا شکار ہیں، عورتیں جو اپنی آزادی کے خاطر بچوں کی پیدائش سے انکاری ہیں وہ کثرت کے ساتھ حرامی بچوں کی پیدائش پر قطعا شرمندہ نہیں ہیں۔ اس وجہ سے مغرب کی آبادی نہایت تیز رفتاری کے ساتھ مسلسل کم ہوتی چلی جارہی ہے ، نشہ آور اشیاء کا استعمال اور فحاشی و عریانی کے فروغ کے لئے قائم کلبز اور پبز کی بھرمار نے مغرب کے پورے سماجی ڈھانچے کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے۔

فحاشی، منکرات اور مخدرات کے کثرت استعمال نے زندگی میں حصول لذت کی تمام راہوں کو جہاں آسان کرڈالا ہے وہیں دوسری طرف زندگی کے حقیقی مقصد یعنی بندگی رب سے پورے مغرب کو نا آشنا کرڈالا ہے۔ لہذا اہل مغرب کی زندگی اپنی معنویت اور مقصدیت سے بالکل عاری ہوچکی ہے ۔ زندگی میں معنویت میں پیدا کرنے کے لئے وہ نت نئی اشیاء کی ایجاد اور ایجاد شدہ اشیاء کی نئے برانڈز کے حصول کے لئے زندگی بھر تگ و دو کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے شب و روز زندگی میں مقصدیت کے تلاش کے لئے نت نئے طریقوں سے صارفانہ کلچر(consumerism) کے فروغ کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

اس شق کے تناظر میں مسلمان ریاستوں کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کو مجموعی طور پر یا جزوی طور پر کسی بھی شکل میں قبول کرنے سے مکمل طور پر انکار کرڈالیں کیونکہ ان شقوں کو قبول کرنے کا معنی و مطلب اللہ تعالی کے معبود ہونے کا انکار کرنا اور خود اپنے خالق و مالک اور خود مختار ہونے کا اقرار کرنا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہروہ ریاست میں جو اسلام کی دعویدار ہو اسے عملی طور پر اسلام سے دستبردار ہونا پڑے گا یعنی ترک مذہب، انکارِ خداوندی اور نبوت و رسالت کے عظیم المرتبت ادارہ کا مسترد کردینا اور وحی کے بجائے خود انسانی عقل کو حکم ماننا ہوگاتاکہ انہیں اپنے دروازہ سیکیولزم اور لبرلزم جیسے مذہب بیزار بلکہ مذہب دشمن فسلفوں کے لئے بہر صورت کھولنے پڑیں گے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ دنیا میں موجود وہ تمام ریاستیں جن کی اساس اور بنیاد اسلام ہے انہیں ہیومن رائٹز کے اس چارٹر کو سرکاری سطح پر قبول کرنے سے پہلے اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ انہیں اس چارٹر پر دستخط کے پر فوری بعد اپنی پالیسیوں کے تناطر میں چاہتے یا نا چاہتے ہوئے اسلامی تعلیمات سے دستبردار ہونا پڑے گا اور زیادہ آسان الفاظ میں انہیں عملی طور پر خود بھی اسلام کو ہر سطح پر ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

 
  • 1  مسلم بن الحجاج قشیری، صحیح مسلم،حدیث: 3308،مطبوعۃ: دار احیاء التراث العربی بیروت، لبنان، (لیس التاریخ موجوداً ) ،ص :572
  • 2  سليمان بن أحمد اللخمي الشامي، الروض الداني (المعجم الصغيرلطبرانی)، ج -1، حدیث: 659، المكتب الإسلامي،دار عمار، بيروت ، عمان،1985ء، ص: 393
  • 3  عیاض بن موسیٰ، الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ، ج-1، مطبوعۃ: دار الفیحاء، عمان ،اردن،1407ھ، ص:148
  • 4  محمد بن عیسیٰ ترمذی، سنن الترمذی، حدیث:1458،مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوضیع، الریاض،السعودیۃ، 2009ء، ص: 464
  • 5  القرآن، سورہ البقرہ 2 : 14
  • 6  القرآن، سورہ الانعام 6 : 108
  • 7  القرآن، سورہ الاعراف 7 : 28
  • 8  القرآن، سورہ النور 24 : 21
  • 9  القرآن، سورہ النور 24 : 19

ہمدانی، مفتی سیّد شاہ رفیع الدین اور ڈاکٹر حبیب الرحمٰن۔ (2026)اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کا محاکمہ : شق نمبر-2، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/aqwam-matehdah-ke-humen-rised-charter-ka-mahkamah-shq-nambr-2