3. Everyone has the right to life, liberty and security of person.
ہر ہیومن کو زندگی ، آزادی اور شخصی تحفظ کا حق حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور برائے ہیومن رائٹس کے مطابق آزادی ہر انسان کا بنیادی پیدائشی حق ہے کیونکہ وہ آزاد پیدا ہوا ہے اور اس آزادی سے مراد دو چیزوں کے درمیان اختیار نہیں بلکہ خیر و شر کے تعین میں آزادی کا اختیار ہے۔ اس منشور کے تحت انسان کی زندگی، آزادی اور اس کے ذاتی تحفظ کا حق دوسرے تمام حقوق اور آزادیوں کے نفاذ کے لئے اساس اور بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لئے اس منشورِ ہیومن رائٹس کے ایجنڈے کو لے کراستعماری ریاستوں کی سرپرستی میں سیکڑوں این- جی- او ز دنیا کے مختلف خطوں اورممالک میں کام کرتی ہیں اور قومی معاشروں میں اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ حکومتیں، ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں منشورِ ہیومن رائٹس کی پاس داری کررہی ہیں کہ نہیں؟ یہ غیر ریاستی تنظیمیں ہیومن رائٹس چارٹر کی خلاف ورزی پر باقاعدگی سے رپورٹیں شائع کرتی ہیں، احتجاجی مظاہرے ترتیب دیتی ہیں اور مختلف ذرائع سے حکومتوں پر دباؤ ڈالتی ہیں تاکہ ہیومن رائٹس چارٹر کی مکمل پاس داری ہوسکے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شق اس بات کا اعلان ہے کہ انسان ہی کائنات میں میزانِ حقیقت ہےجس کی بنیاد پر تمام امور کے حق اور باطل ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں ہیومن رائٹس کے فلسفہ کو گھڑ کر درج بالاحقوق کو بنیادی حیثیت دے کر اس کی پاسداری اور تحفظ کے لئے سیاسی، قانونی، بین الاقوامی، آئینی، معاشرتی ، حتی کے اخلاقی اور مذہبی جواز تک کو ڈھونڈ نکالا گیا ہے۔مذکورہ بالا شق میں ہیومن رائٹس کے تحت جن حقوق کے تحفظ کا ذکر کیا گیا ہے ان کی مختصر وضاحت درج ذیل ہے:
زندگی کا حق
"حقِ زندگی" سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ ہر ہیومن زندگی کا اس وقت تک حق رکھتا ہے جب تک وہ ہیومن رائٹس کی پاسداری قول و فعل کے ذریعے کرتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی دوسرا انسان، شخص یاادارہ کسی بھی طور پر اسے قتل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ہیومن کو جینے کا پیدائشی حق اس طور پر حاصل ہے جسے کسی بھی صورت میں پامال نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا اس حق کو قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے ہیومن رائٹس کو کسی بھی دوسرے نظریہ اور قانون کی روشنی میں مسترد کرنے کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی اس نظریہ کی روشنی میں کسی ہیومن کو زندگی سے محروم کرنے کا کوئی قانونی و آئینی جوازحاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب، شخص، ادارہ یا پھر حکومت اس بات کی قطعی طور پرمجاز نہیں ہے کہ وہ کسی ہیومن کی زندگی کو باوجود کسی سنگین جرم کے ارتکاب کے ختم کرے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہر حکومت اور ریاست اپنے حدود میں رہنے والےتمام ہیومنز کی زندگی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی پابند ہے۔ اس کے لئے اگر قانون سازی، آئین سازی اور دوسرےحکومتی اقدامات میں رد و بدل یا ترمیم و اضافہ اور معاشرتی و مذہبی تعلیمات کی من مانی تعبیرات و تاویلات سمیت کوئی بھی دوسرا قدم اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اس پر لیت و لعل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہاں ہیومن بینگ کے رائٹس مراد ہیں نہ کہ تمام انسانوں کے حقوق لہذا جو شخص بھی اپنے آپ کو ہیومن بینگ نہیں گردانتا وہ حق زندگی سے محروم کر دیا جاسکتا ہے یا كردیا جائے گا۔ مزید یہ کہ وہ تمام حکومتیں جو ہیومن رائٹس کے چارٹر پر دستخط کر چکی ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ تمام لوگ جو اب تک ہیومن بینگ بننے پر راضی نہیں ہیں انہیں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا، تعلیمی اداروں، معیشت دان ، این جی اوز اور سرکاری کارندوں کی ترغیب و ترہیب کے ذریعہ ہیومن بینگ بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں تاکہ عامۃالناس ہیومن بینگ بن کر صرف ہیومن رائٹس کے چارٹر کا مطالبہ کریں اور کسی بھی قسم کے ایسے مطالبہ سے اپنے آپ کو دور رکھیں جو اس چارٹرکے زمرہ میں نہ آتا ہواگرچہ کہ اخلاق و مذہبی طور پر وہ مطالبہ بالکل جائز اور مبنی بر ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔
ہماری اس توضیح کےجواز پرسینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مثلاً اس وقت فلسطین، غزہ اور لبنان میں گزشتہ ایک سال سے روزانہ کی بنیاد پرلگاتار بم باری کرکے اسرائیل نہتے اور معصوم فلسطینی عورتوں، بچوں، بوڑھوں ، بیماروں اور معذوروں کو بغیر کسی تخصیص کے انتہائی سفاکی کے ساتھ پوری دنیا کے سامنےان کا قتل عام کر رہا ہے۔ ان لوگوں کو زندگی کا حق اس لئے حاصل نہیں کیونکہ اہل مغرب کے نزدیک اہل افغانستان، اہل عراق، اہل شام، برمی مسلمان، اہل غزہ و فلسطین ، اہل لبنا ن اور امریکہ کے اصل مالک و ابنائے ارض ریڈ انڈینز اور آسٹریلیا کے اصل باسی ایبورجینیز ہیومن نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے مذہب اور رسوم و رواج سے متصادم کسی عالمی استعماری و سرمایہ دارانہ تصور حق اور نظریہ حیات کو قبول کرنے کے بجائےرد کرتے ہیں ۔ اس حوالہ سے مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں وہ ہمیشہ مغرب کے لئے اس لئے ناقابل قبول ہیں کہ وہ مغرب کے تصورِ حق کے مقابلہ میں اسلام کو الحق مانتے ہیں ۔لہذا مغرب کی نگاہ میں موجودہ اسرائیلی ظلم و بربریت اس لئے قابل مذمت نہیں کیونکہ غزہ و فلسطین اور اب لبنان، شام ، یمن اور ایران کے باسی ہیومن بینگ نہیں بلکہ وہ تو اس نظریہ کے ہی خلاف ہیں۔ لہذا ان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں سے بھی بد تر ہے اور انہیں زندگی کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس لئے جب حماس کے مجاہدین نے سینکڑوں اسرائیلی ہیومن بینگز کو جہنم واصل کیا تو پوری دنیا میں واویلہ مچ گیا جب کہ 50000 مسلمانوں کے شہید ہونے کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی۔
اس کے برعکس اسلام بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مسلک و مذہب، ہر شخص چاہے وہ ہیومن ہو یا غیر ہیومن ہو کو زندہ رہنے کا حق اس وقت تک دیتا ہے جب تک وہ اس زمین پر فتنہ و فساد مچا کر دوسروں کے جان، مال اور ایمان کو غیرمحفوظ نہ کردے۔مغرب کے اس ہیومن فلسفہ کے برعکس ہر انسانی جان کے احترام کو اسلام فرض قرار دیتا ہے۔ اسی لئے ہر انسان کو جینے کا حق صرف اسلام نے دیا ہے۔ مغرب نے اگر اپنے دستوروں یا اعلانات میں کہیں حقوق انسانی کا ذکر کیا ہے تو فی الحقیقت اس میں یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ یہ حقوق ہیومنز کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔اس کی ایک مثال آسٹریلیا کی ہے جہاں سفید نسل ہیومنز کے لیے قدیم باشندوں/انسانوں کا شکار کرکے زمین کو خالی کرایا گیا اور امریکا میں وہاں کے پرانے باشندوں (ریڈ انڈینز )کی نسل کشی کی گئی اور جو بچ گئے ان کو مخصوص علاقوں میں مقید کر دیا گیا۔ اسی طرح افریقہ کے مختلف علاقوں میں گھس کر انسانوں کو جانوروں کی طرح ہلاک کیا گیا اورآج فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی کرکے یہودی ہیومنز کے لئے جگہ خالی کروائی جارہی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہم بلاخوفِ تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ اہل مغرب کے نزدیک انسانی جان کا بحیثیت ''انسان'' کوئی احترام ان کے دل میں نہیں ہے، بلکہ اگر کوئی احترام ہے تو ہیومنزم کی بنیاد پر ہے لیکن اسلام تمام انسانوں کے لیے اس حق کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک انسان کے قتل کو تمام انسانوں کے قتل کے مترادف گردانتا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید میں واضح طور پر ارشاد فرمایا:
...كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا...32 1
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں تمام انسانوں کو اللہ تعالی کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے زندگی کا حق عزت و حرمت کے ساتھ حاصل ہے جسے بغیر کسی شرعی وجہ کے تلف نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت مبارکہ میں قتل کے حوالہ سے جس طرح انسانی جان کی حرمت کا ذکر ہےاس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاشرہ میں موجود اعلیٰ طبقات کے ساتھ ساتھ غلاموں اور خواتین کی جان کی حرمت بھی اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے لئے قابل قدر اور لائق عزت قرار دی ہے۔ اس لئے کوئی بھی شخص دوسرے کومعاشرتی طور پر کم تر سمجھ کر اس کی جان لینے کا کسی بھی صورت میں حق دار نہیں ہے۔درج ذیل آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نےناحق قتل کرنے والوں کی سزا خود ان کے قتل کی صورت میں متعین فرمائی ہے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ178 2
اے ایمان والو! تم پر ان کے خون کا بدلہ (قصاص) فرض کیا گیا ہے جو ناحق قتل کئے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر اگر اس کو (یعنی قاتل کو) اس کے بھائی (یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ (یعنی قصاص) معاف کر دیا جائے تو چاہئے کہ بھلے دستور کے موافق پیروی کی جائے اور (خون بہا کو) اچھے طریقے سے اس (مقتول کے وارث) تک پہنچا دیا جائے، یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے، پس جو کوئی اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اسی طرح زندگی کے حق کے حوالہ سے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
أنه قال في خطبته بمنى: «ألا إن دمائكم وأموالكم وأعراضكم حرام عليكم، كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا» 3
تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں، تم پر (آپس میں) اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن اور اس مہینے میں تمہارے اس شہر کی حرمت ہے۔
اسی طرح ایک موقع پر ارشاد فرمایا:
قال رسول الله: «إنما هن أربع لا تشركوا بالله شيئا، ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق، ولا تزنوا، ولا تسرقوا» 4
آگاہ رہو، ان چار باتوں سے بچنا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ کی حرام کردہ کسی جان کو نا حق قتل نہ کرنا، زنا نہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔
قرآن و سنت میں وارد مذکورہ حوالہ جات و دیگر کی روشنی میں یہ بات نہایت وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ جتنا انسانی زندگی کا تحفظ و احترام اسلام غیر جانبدار انہ طور پر کرتا ہے دنیا کا کوئی دوسرا آئین و قانون اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔البتہ ریاستی طور پر شریعت مطہرہ کی روشنی میں عدلیہ و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسلامی ریاست میں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے کہ کوئی ایسا شخص جو کسی کے ناحق قتل کا مرتکب ہوا ہو یا پھر اسلا می ریاست کے خلاف فتنہ و فساد کے ارتکا ب میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک رہا ہو تو ایسے شخص کو بغیر کسی استثناء کے ان اعمال بد کے ارتکاب کے نتیجہ میں قتل کردیا جائےگا۔ اسلام کے قانون قصاص میں کسی ہیومن و غیر ہیومن کا امتیاز نہیں کیا جاتا اور نہ ہی سزاؤں کے اجرا میں کسی مسلم اور غیر مسلم کی تفریق روا رکھی جاتی ہے۔
اسلام میں زندگی کا حق جیسے ہر انسان کو عمومی طور پر حاصل ہے ویسے ہی حالت جنگ میں بھی اس کا احترام ان افراد کے لئے لازم قرار دے دیا گیا ہے جو غیر مسلح ہوں اگر چہ کہ وہ کافرہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران کسی بھی صورت میں غیر محارب عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور عبادت گاہوں میں موجود لوگوں کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ وہ تمام اشیاء جو ذی روح ہیں مثلا تمام اقسام کے پالتو و غیر پالتو حیوانات ان کو بھی زندگی کا حق دیا گیا ہے اور ان کے قتل سے سختی سے روکا گیا ہے۔ اسلام نے تو جنگ نہ کرنے والے افراد کے استعمال اور ضروریات میں آنے والی تمام اشیاءمثلا درخت، پودے ، فصلیں ، گھاس پھوس، پانی کے چشمے اور اس طرح کے دوسرے تمام قدرتی وسائل جن سے انسان و حیوانات کی زندگیوں کا تحفظ اور بقا مشروط ہے، انہیں بھی تباہ کرنے یا تلف کرنے کی ممانعت کی ہے۔ اس حوالہ سے حضرت ابو بکر صدیق نے اسلامی فوج کو کفار کے خلاف جہاد کے لئے روانہ کرتے ہوئے فرمایا:
يا أيها الناس، قفوا أوصكم بعشر فاحفظوها عني: لا تخونوا ولا تغلوا، ولا تغدروا ولا تمثلوا، ولا تقتلوا طفلا صغيرا، ولا شيخا كبيرا ولا امرأة، ولا تعقروا نخلا ولا تحرقوه، ولا تقطعوا شجرة مثمرة، ولا تذبحوا شاة ولا بقرة ولا بعيرا إلا لمأكلة، وسوف تمرون بأقوام قد فرغوا أنفسهم في الصوامع، فدعوهم. 5
اے لوگو! رک جاؤ، میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں، انہیں مجھ سے یاد رکھو: خیانت نہ کرنا، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا، بدعہدی نہ کرنا، مثلہ (لاش کو بگاڑنا) نہ کرنا، کسی چھوٹے بچے، بڑے بوڑھے، یا عورت کو قتل نہ کرنا، کسی کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا اور نہ ہی اسے جلانا، اور نہ ہی کسی پھل دار درخت کو کاٹنا، اور نہ ہی کسی بکری، گائے یا اونٹ کو ذبح کرنا مگر کھانے کے لئے۔ اور تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جنہوں نے خود کو (عبادت کے لئے) خانقاہوں میں مشغول کر لیا ہے، تو انہیں چھوڑ دینا۔
منفی طریقہ سے تحفظ آزادی و زندگی
منفی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ریاست ہیومن بینگز کی آزادی اور تحفظ کے حق کے خلاف ورزی سے باز رہے یعنی ہیومن بینگز کے حوالہ سے ایسی کوئی قانون سازی ریاست نہیں کر سکتی جو ہیومن بینگز کوان کے ہیومن رائٹس سےمحروم کردے جو انہیں اس چارٹر کے تحت حاصل ہیں۔ لہذا ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص کو جو ہیومن رائٹس کو قبول کرنے والا ہو یا ہیومن رائٹس کے طے شدہ اصولوں کے تحت شر اور خیر کا ارتکاب کر رہا ہو تو اسے کسی بھی طور پر حراست میں نہ لے اور نہ ہی اس پر ریاست کا کوئی قانون یا اس کی کوئی شق نافذ کرے۔ اس بات کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں چار دیواری کے اندر کسی بھی قسم کا غیر اخلاقی کام جسے مذہب اور مذہبی تعلیمات مسترد کرتی ہوں لیکن ہیومن رائٹس کے تحت اسے کسی شہری یا شہریوں کا حق گردانا گیا ہو وہ قابل گرفت یا لائق مواخذہ نہیں ہے۔اس کی تازہ ترین مثال پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ختم نبوت ﷺ کے منکرین قادیانیوں کے حق میں دیا گیا فیصلہ تھا جو بعد میں انہیں تبدیل بھی کرنا پڑا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس کی رو سے قادیا نیوں کو اس بات کا حق ہیومن رائٹس کی روشنی میں دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ اپنی چار دیواری میں تبلیغ ِ قادیانیت یا احمدیت کے لئے اسلام کے شعائر کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ذیل میں قاضی فائز عیسیٰ کے متنازعہ فیصلے کا پیراگراف 42 دیا گیا ہے جس میں چیف جسٹس صاحب نے اس حکم نامے کو اپنے پہلے فیصلے کے طور پر جاری کیا:
"سپریم کورٹ نے پیراگراف 42 میں لکھا ہےکہ قانون کے مطابق قادیانیوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کے اظہار اور اس کی تبلیغ کا حق اس شرط کے ساتھ حاصل کہ وہ عوامی سطح پر مسلمانوں کی دینی اصطلاحات استعمال نہیں کریں گے، نہ ہی عوامی سطح پر خود کو مسلمانوں کے طور پر پیش کریں گے ،تاہم اپنے گھروں، عبادت گاہوں اور اپنے نجی مخصوص اداروں کے اندر انہیں قانون کے تحت مقررہ کردہ ‘معقول قیود’ کے اندر ‘ گھر کی خلوت’ کا حق حاصل ہے ۔ "
جب اس فیصلے کے خلاف پورے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں، تنظیمات و تحریکات نے احتجاج شروع کیا تو اس کے طویل بحث و مباحثہ اور سپریم کورٹ میں علمائے کرام کے مفصل دلائل کی روشنی میں چیف جسٹس صاحب نے اپنے سابقہ فیصلے سے مجبورا رجوع کیا اور اس پیراگراف کو حذف کر دیا۔ چیف جسٹس صاحب کے اپنے فیصلے سے رجوع کرکے قرآن سنت کے مطابق دوسرا فیصلہ جاری کرنے پر انہیں عالمی و ملکی طور پر ہیومن رائٹس تنظیمات کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چیف جسٹس صاحب کا دوسرا فیصلہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کے تحت قادیانیوں کو ان کے حق ِ آزادی سے محروم کرتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ قرآن و سنت کی رو سے مبنی بر حق ہے۔
اس منفی آزادی کی دوسری مثال بہت ساری دوسری جامعات کی طرح کراچی کی ایک معروف و پرائوٹ یونیورسٹی میں مؤرخہ19 اکتوبر 2024 کو منعقد کی گئی شیطان پوجا پارٹی ہے جسے (Illuminati Themed Party) کا عنوان دیا گیا تھا۔اس پارٹی میں حاضرین محفل کے دل و دماغ پر شیطان پرستی کے تصور کو نقش کرنے کے لئے جن کلمات کا اعلانیہ سہارا لیا گیا تھا وہ یہ ہیں:”Satan is happy with your progress “، اس کا معنی ہے شیطان تمہاری ترقی اور کامیابی سے بہت خوش ہے ۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کی تاریخ ، تہذیب، ثقافت اور مذہبی اقدار اور اخلاقی روایات کے یکسر منافی تھا۔ اس خباثت ، ضلالت، شیطنت اور اظہار کی جرأت چند مذہب اور خدا بیزار افراد کو صرف اس لئے ہوسکی کہ انہیں پتا ہے کہ ان کی اپنی چار دیواری کے اندر ان کے اسلام دشمن اور مذہبی اقدار کی مخالفت پر مبنی کسی بھی بیہودہ اور فحش پروگرام کا انعقاد ان کے حق آزادی(Right to freedom) کا اظہار ہے اگرچہ کہ ملک کے اندر بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت اس کی شدید مخالفت ہی کیوں نہ کرے۔
اس کے برعکس اسلام غیر شرعی چیزوں سے اجتناب اور ان کو روکنے کے بارے میں واضح اور جامع تعلیمات دیتا ہے۔ اسلام نہ صرف برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے بلکہ برائیوں کو روکنے اور معاشرے میں اچھائی کو فروغ دینے پر بھی زور دیتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس حوالے سے مختلف احکام دیے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
سب سے پہلے قرآن کریم نے ایک جماعت جو صاحب اختیار و اقتدار بھی ہو سکتی ہے اور اصحاب ِ علم و دانش پر بھی مشتمل ہوسکتی ہے جنہیں قرآن کریم اولوالامر قرار دیتا ہے ان کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی معاشرہ میں کسی بھی قسم کی برائی کو پنپنے یا پھیلنے نہ دے۔ دوسری طرف وہ اس بات کا بھی بھرپور اہتمام کریں کہ برائی کو برائی قرار دے کر اہل ایمان کو کار خیر اور اعمال صالحہ کی طرف مسلسل متوجہ کرتے رہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 104 6
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔
دوسرے درجے میں اسلام نے اصحاب الرائے اور اہل اقتدار کو اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اعمالِ خیر کی تعلیم، تبلیغ ، تذکیر اور نشر و اشاعت سے غافل نہ ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ برائی کو کسی بھی صورت میں اور کسی بھی اصطلاح سے دھوکہ کھاتے ہوئے خیر نہ سمجھا جائے۔اسی طرح کسی خیر کو ہیومنز کی وضع کردہ تعریفات کی روشنی میں شر نہ سمجھا جائے بلکہ خیر و شر کو خدائی تعلیمات اور الہامی ہدایات کی روشنی میں جان اور سمجھ کر اس کے پرچار کے لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیا جائے۔اس حوالہ سے اللہ تعالی نے قرآن کریم کے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ 110 7
تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقیناً ان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اسلام کے پیش کردہ تصور خیر و شر کو صرف نصیحت و دانش تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر شخص خواہ وہ معاشرہ کا عام فرد ہو یا خاص، صاحب علم ہو یا صاحب قوت و طاقت ہو اور یا پھر صاحب اختیار و اقتدار ہو یا عامی ، اسے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق برائی کو اپنے تئیں ختم کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ایسا شخص جو اپنے آپ کو کسی ایسے ماحول میں پائے جہاں قوت و طاقت اور زبانی تذکیر و نصیحت پر عمل کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہو تو وہ بھی برائی کو اپنے دل ہی میں کم از کم برا جانے اور سمجھے کیونکہ یہ ایمان کا وہ آخری درجہ ہے جس کے بارے میں لاپرواہی ایسے شخص کو ایمان کی نعمت و دولت سے محروم کرسکتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے برائی کو روکنے کے بارے میں فرمایا:
من رأى منكم منكرا فليغيره بيده. فإن لم يستطع فبلسانه. ومن لم يستطع فبقلبه. وذلك أضعف الإيمان. 8
تم میں سے جو کوئی شخص برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو اپنے دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں برائیوں کو روکے اور نیکیوں کو فروغ دے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں، اسلامی ریاست کو حکم ہے کہ وہ ایسے قوانین اور نظام وضع کرے جو معاشرتی اصلاح اور امن و انصاف کو یقینی بنائیں۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینا) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنا) کو نافذ کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ 41 9
(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے۔
قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی روشنی میں اس حقیقت کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ اللہ تعالی جب بھی مسلمانوں کو زمین پر قوت، اقتدار اور اختیار عطا فرماتا ہے تو اس سے غرض و غایت اور مقصود رب تعالی کی یہ ہوا کرتی ہے کہ اہل ایمان بغیر کسی خوف و تردد کے اللہ تعالی کے نازل کردہ احکامات کو بعینہ اسی طرح نافذ کریں جس طرح نبی کریم ﷺ نے اور خلفائے راشدین نے شریعت اسلامی کے احکامات کو ان کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ فرمایا تھا۔ تنفیذ احکام کے ضمن میں یہ بات یاد رکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ یہ احکام دو طرفہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف امر بالمعروف پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ نہی عن المنکر کو بھی اسی قوت کے ساتھ نافذ کرنے کی جدوجہد کی جائے تاکہ صالح فطرت انسانوں کو دعوت دین کے ساتھ ساتھ خبیث الفطرت انسانوں کو بزور قوت و طاقت منکرات کے ارتکاب سے روکا جاسکے۔ اگر وہ برائی سے باز نہ آنے پر بضد ہوں تو انہیں تعزیر و حدود کی سزاؤں کے ذریعے سے راہ راست پر رکھ کر معاشرہ کو ان کے معاصی و جرائم کے شر سے محفوظ رکھا جاسکے۔
مثبت طریقہ سے تحفظ آزادی و زندگی
اقوام متحدہ کے منشور برائے ہیومن رائٹس کے مذکورہ قانون کے مطابق ایک ہیومن بینگ کوہر قیمت پر زندگی کا حق حاصل رہے گا جب تک وہ ہیومنز کے بنائے ہوئے نظریات و قوانین پر ایمان رکھتے ہوئے ان کی پاسداری کرتا رہے گا۔ اس نظریہ کے مطابق خیر وہ ہے جس کو ہیومنز خیر قرار دیں اور شر وہ ہے جس کو وہ شر قرار دیں۔ لہذا اگر کوئی شخص دینی و اخلاقی طور پر کسی عمل کو شر قرار دینے کے باوجود اس کا ارتکاب کرتا ہے تو ایسی صورت میں وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگا جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ہیومنز کے بنائےو ہوئے خیر کو شر اور شر کو خیر قرار دے یا پھر خیر و شر کی مذہبی تعریف کو قبول کرے تو ایسے شخص یا افراد کے گروہ یعنی راسخ العقیدہ مذہبی لوگوں کو ہیومنز کی بنائی ہوئی ریاستوں میں زندگی کا حق حاصل نہیں ہوتا ۔
اس کو اس مثال سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ تمام دستوری ا ور جمہوری ریاستوں میں مذہبی نقطہ نگاہ سے شر اور فساد جسے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کے چارٹر کے مطابق خیر گردانا گیا ہو، مثلا اسلامی معاشرے میں شراب نوشی ، سود خوری، جنسی بےراہ روی کی حمایت کرنے والے یا اس کا ارتکاب کرنے والوں کو روکنا، ان پر حملہ آور ہونا یا انہیں نقصان پہنچانا یا کسی بھی طریقہ سے ان کا تدارک کرنا ایک غیر قانونی کام قرار پاتا ہے۔ اس نام نہادغیر قانونی کام کے تدارک کے لئے جمہوری و دستوری ریاستیں جبری قانون یعنی سزا کا حق بہر صورت محفوظ رکھتی ہے۔اس کی مثال میں پاکستا ن کی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ جس نے بعد میں باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کرلی وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کا ہے۔ اس کو قتل کرنے والا سرکاری ایلیٹ پولیس فورس کا ایک اہلکار ممتاز قادری تھاجس نے سلمان تاثیر کو نبی کریم ﷺ کی توہین یعنی قانون توہین رسالت کی اہانت پر واصل جہنم کر ڈالاتھا۔ ملکی قوانین کے تحت حضور ﷺ کی توہین کرنا قابل سزا جرم ہے جس کے ثابت ہونے پر موت کی سزا مجرم کو دی ہی جا نی چاہئیے تھی کیونکہ یہ قانون مسلمہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وضع کرکے قانون ساز اسمبلی نے باقاعدہ ملکی قوانین کا غیر متبدل حصہ بنا یا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کے چارٹرکی رو سے یہ قانون اس لئے صحیح نہیں ہے کیونکہ ہیومن رائٹس کے تحت ہر انسان کو اس بات کی آزادی کا حق حاصل ہے کہ وہ جب، جہاں، اور جیسے چاہے انبیاء و رسل سمیت مذہبی شخصیات ، مذہبی شعائر ، مذہبی تعلیمات اور علامات کی توہین کرسکتا ہے کیونکہ یہ ہیومنز کا بنیادی حق ہے کہ وہ آزادی اظہار رائے کے حق کو تمام دوسرے مذہبی حقوق پر مقدم رکھے اس لئے سلمان تاثیر کے قتل کے بدلے میں ممتاز قادری کو شہید کیا گیا اور انہیں پھانسی کی سزا سرکاری سطح پر دی گئی۔
اسلامی نظریہ کے مطابق خیر و شر کے تعین کا حق صرف اور صرف اللہ تعالی کے لئے خاص ہے کیونکہ اللہ تعالی خالق کُل مخلوقات ہے اور وہی اس بات کا قطعی تعین کرسکتا ہے کہ انسان کے لئے خیر کیا ہے اور شر کیا ہے؟ باوجو د اس حقیقت کے کہ انسان بعض مواقع پر حالات یا اپنی طبعی کیفیت کی وجہ سے مجبور ہوکر اللہ تعالی کے بتائے ہوئے خیرکو شر اور اس کے بتائے ہوئے شر کو خیر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی نفس امارہ اپنے مفاد کے لئے مختلف قسم کے تعصبات کا شکار ہو کر حق و باطل اور خیر و شر میں التباس اس لئےپیدا کردیتا ہے تاکہ اس کی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کے بر عکس اہل ایمان جو کہ اللہ تعالی کے اصلا عبد ہوتے ہیں، نفس، شیطان اور حالات کے جبر سے مجبور ہوکر اگر غلط فیصلہ کر بھی بیٹھیں تب بھی ان کاا س بات پر پختہ یقین ہوتا ہے کہ خیر وہ ہے جسے رب نے خیر قرار دیا ہے اور شر وہ ہے جسے اللہ تعالی کی ذات نے شر گردانا ہو۔جیسے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
... وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 216 10
۔ ۔ ۔ اور ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ (حقیقتاً) تمہارے لئے بہتر ہو، اور (یہ بھی) ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ (حقیقتاً) تمہارے لئے بری ہو، اور اﷲ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
کن لوگوں کو زندگی کا حق نہیں
جیسا کہ درج بالا سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کے منشور برائے ہیومن رائٹس کے تحت انسانوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایک گروہ ان افراد پر مشتمل ہے جو ہیومن رائٹس کو ایمان کی طرح قبول کرکے اس پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور باقی دنیا کو برضا و رغبت اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔یہ گروہ ان افراد اور اداروں پر مشتمل ہوتا ہے جن کی پشت پر خود ریاست اپنی قوت قاہرہ اور اور وسائل کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جبکہ ریاست کے ساتھ ساتھ عالمی جمہوری اور استعماری ریاستیں بھی ان افراد اور اداروں کی بھر پور مالی، قانونی، آئینی، عسکری اور سیاسی معاونت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔
مذکورہ بالا دعوی کو افغانستان کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے جہاں پر مجاہدین نے جہاد کے ذریعے عالمی استعمار کو شکست دی اور فتح یاب ہوئے تو عالمی استعماری ایجنٹ اور ہیومن رائٹس نافذ کرنے والا مقامی ہرکارہ جسے افغانستان کی صدارت کے منصب پربغیر کسی استحقاق کے لا کر بٹھا دیا گیاتھااور وہ برسوں تک عالمی استعمار کی کاسہ لیسی اور ان کے استعماری ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ہر ظلم و جبر بروئے کار لاکر افغان مجاہدین اور ان کے حمایتی و معاونین کا بے دریغ قتل عام کرتا رہا لیکن جب وہ خود کابل سے ہزاروں لوگوں کے قتل کروانے اور اربوں ڈالر لوٹنے کے بعد فرار ہوا تو عالمی استعمار ی قوتوں نے اس سے اس کے کئے ہوئے ظلم اور کرپشن کی بابت ایک بھی سوال کرنے کے بجائے اسے اپنی آغوش میں پناہ دے ڈالی۔ اس ساری محبت و شفقت نچھاور کرنے کا اصل سبب فقط یہ تھا کہ اشرف غنی نے اپنے آپ کو اپنے دور حکومت میں ایک اچھا مسلمان ثابت کرنے کے بجائے ایک اچھا ہیومن بینگ ثابت کیا۔ شریعتِ اسلامی کے نفاذ کےبجائے اس نےاقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کے نفاذ کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا۔ لہذا جس طرح اسلام کی روح سے اللہ تعالی اپنے بندوں سے اس وقت راضی ہوکر انہیں جنت کی بشارت عطا فرما تا ہے جب اس کے بندے اپنی حیثیت کے مطابق شریعت پر خود عمل کرکے اپنے حلقہ اثر میں شریعت کے نفاذ کو ممکن بناتے ہیں بالکل اسی کی نقل میں عالمی استعمار صرف ان ہی لوگوں کو اپنا وفادار قرار دے کر ان سے خوش ہوتا ہے جو پوری زندگی ہیومن رائٹس چارٹر کوحق سمجھ کر اس کے نفاذ کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
اس کے مقابلہ میں انسانوں کا دوسرا گروہ ان افراد اور جماعتوں پر مشتمل ہے جو ہیومن رائٹس کے پیش کردہ تصور کو بعینہ قبول کرنے سے انکاری ہوں تو ان کو قانونی پابندیوں، آئینی جکڑ بندیوں ،کردار کشی، گرفتاریوں، ضبط املاک، اغوا، تشدد یہاں تک کہ انہیں آئین شکن اور قانون شکن ثابت کرکے ان کے قتل کو بھی جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔ہیومن رائٹس پر عمل کروانے کے لئے ریاست جن اداروں کا سہارا لیتی ہے ان میں میڈیا، پولیس، فوج، عدلیہ اور انتظامیہ سر فہرست ہوتے ہیں۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم یہاں دو مثالیں پیش کریں گے۔ پہلی مثال گوانتامو بے (امریکی قید خانہ جو ایک ٹارچر سیل تھا) کی ہےجو صرف راسخ العقیدہ مسلمان قیدیوں خصوصا افغان و غیر افغان مجاہدین پر جسمانی وذہنی تشدد و تعذیب اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے لئے مختص جیل تھی۔ ان قیدیوں کو صرف اس وجہ سے گرفتار کرکے یہاں لایا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اللہ تعالی کی دی ہوئی تعلیمات و احکامات پر عمل کرنا چاہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دائرہ عمل میں منکرات و فواحشات کو روکنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ دونوں کام حقوق انسانی کے منشور کے عالمی پاسبانوں کو اس لئے قبول نہیں تھے کہ اس سے خود ہیومن رائٹس پر عمل کی راہ میں رکاوٹ پڑنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اس کے ابلاغ اور تشہیر میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی تھیں۔ لہٰذا ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا واحد حل یہی تھا کہ تمام متقی و پرہیزگار، صوم صلاۃ کے پابند، غلبہ اسلام کے متمنی، مجاہدین ملت اسلامیہ کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں پس زنداں کردیا جائے ۔مزید یہ کہ صرف الزام تراشی اور بہتان بازی پر اکتفا کرنے کے بجائے ان پر اس قدر ظلم و تشدد کیا جائے تاکہ وہ اگر اس تعذیب سے زندہ بچ بھی جائیں تب بھی ان کی نگاہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل کرنا انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن نظر آئے ۔
اسلام كے مطابق كن حالات میں زندگی كا حق ختم ہوجاتا ہے
اسلامی قانون کے مطابق بعض نہایت اہم مواقع پر انسانوں کو زندگی کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے تمام افراد جو نہایت قبیح قسم کے جرائم میں ملوث ہوں انہیں زندگی کا حق دیا جانا باقی تمام انسانوں کو پُرسکون زندگی اور خود زندگی کے حق سے محروم کردینے کے مترادف ہے۔ وہ افراد جو دوسرے انسانوں کے قتل و غارتگری یا زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کے جرم میں ملوث ہوں اور ان کا جرم عادل گواہوں کے بیان کی روشنی میں ثابت ہوجائے تو ایسے افراد کو زندگی کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اسلامی قانون جن افراد کو زندگی کے حق سے محروم کرتا ہے ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
1- قتل کی سزا کے طور پر (قصاص)
شواہد کی روشنی میں اگر عادل گواہان اس بات کی گواہی دیں کہ کسی شخص نے قتل ناحق کا ارتکاب کیا ہے یا خود قاتل اس بات کا اعتراف کرے کہ اس نے کسی کو ناحق یا جان بوجھ کرقتل کیا ہے تو ایسے قاتل کو قصاص کے طور مقتول کے بدلے میں اس وقت قتل کردیا جائے گا جب مقتول کے وارث/وارثین دیت لینے سے انکار کردیں۔اس حوالہ سے یہ بات نہایت اہم ہے کہ کوئی حکومت یا طاقتور شخصیت مقتول کے ورثاء کو دیت کی رقم لینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ 17811
اے ایمان والو! تم پر ان کے خون کا بدلہ (قصاص) فرض کیا گیا ہے جو ناحق قتل کئے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر اگر اس کو (یعنی قاتل کو) اس کے بھائی (یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ (یعنی قصاص) معاف کر دیا جائے تو چاہئے کہ بھلے دستور کے موافق پیروی کی جائے اور (خون بہا کو) اچھے طریقے سے اس (مقتول کے وارث) تک پہنچا دیا جائے، یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے، پس جو کوئی اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
2- زمین میں فساد پھیلانے والے
اسلام کے نقطہ نظر سے دوسرا گروہ جن کی زندگی کا حق ریاست وقت صلب کر سکتی ہے وہ ایسے فسادیوں اور فتنہ باز افراد کا گروہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانیہ بغاوت اور سرکشی پر اتر آئیں۔ اس بغاوت کے برپا کرنے سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمین میں پُرامن اور پُر سکون ماحول کو اپنے جرائم اور گناہوں سے تباہ و برباد کرڈالیں اور کسی بھی اسلامی معاشرے میں لوگوں کی جان، مال، عزت و آبرو اور وسائلِ رزق و کاروبار کو بغیر کسی وجہ سے تہہ و بالا کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جو کسی اسلامی ریاست و حکومت کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرکے تمام لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال دیں۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ 33 12
بےشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔
3- بدکارشادی شدہ شخص
اسلامی قانون کی رو سے تیسرا وہ شخص جسے اسلامی ریاست زندگی کے حق سے محروم کرسکتی ہے وہ شادی شدہ بدکار شخص ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لا يحل دم امرئ مسلم... إلا بإحدى ثلاث... والثيب الزاني... 13
کسی مسلمان کی جان لینا حلال نہیں۔۔۔، سوائے تین صورتوں کے: ... شادی شدہ زانی۔
کسی بھی شخص جس پر محض کوئی شخص زنا کا بہتان یا الزام لگا دے تو اس شخص پر عدم ثبوت کی صورت میں خود بہتان لگانے والے کو قرآن کریم نے حد قذف کے طور پر 80 کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے لیکن اگروہ الزام چار گواہوں کی گواہی سے درست ثابت ہوجائے تو ایسے شادی شدہ شخص کو سنگسار کردیا جائے گا۔
4- مرتد (اسلام چھوڑنے والا)
جو شخص پہلے مسلمان ہو اور پھر دین اسلام سے رو گردانی کر جائے تو اسے افہام و تفہیم کے ذریعہ اپنا شک اور شکوک رفع کرنے کے لئے باقاعدہ موقع فراہم کیا جائے گا، اس کے بعد اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو اسے تھوڑا وقت مزید غور و فکر کے لئے دیا جائے گا۔ اگر وہ پھر بھی اپنے ارتداد پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے اور ان تمام کوششوں و کاوشوں کے باوجود اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے اپنے ارتداد پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے تو اسلامی ریاست اس بات کا شرعی حق رکھتی ہے کہ وہ اسے اسلام سے بغاوت کے جرم میں زندگی سے محروم کردے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاہے:
..."مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" 14
...جو شخص اپنا دین بدلے، اسے قتل کردو۔
مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہےکہ ہیومن رائٹس کے چارٹر کے تحت دئے گئے حقوق، ان کی تفصیلات ، تشریحات اور اطلاقات انسانی ذہن کی اخترا ع ہے جس کی پشت پر کسی الہامی ہدایت کی تعلیمات اور اس کے اثرات کسی بھی صورت میں موجود نہیں۔ثانیا یہ رائٹس صرف ان لوگوں کو ہی حاصل ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو اللہ تعالی کی بندگی اور ہدایتِ باری تعالی کے سپرد کرنے کے بجائے انسانوں کے خود ساختہ بنائے ہوئے فکر و فلسفہ ہائے زندگی مثلا ہیومنزم وغیرہ کے سپرد کردیتے ہیں۔انسان کے بنائے نظام ہائے حیات میں اہمیت او رقدر صرف ان ہی انسانوں کی ہوا کرتی ہے جو خود انسانوں کی بندگی کو قبول کرنے والے ہوں اور اس بندگی ِ عبد کی روشنی میں وہ اپنے جیسے دوسرے ان تمام انسانوں کی انسانیت کے بھی قائل نہیں ہوتےجو انسانوں کے بنائے ہوئے نظام زندگی مثلا ہیومنزم وغیرہ کے قائل نہیں ہوتے۔ہیومنزم کو ماننے والےجو کسی مذہب اور خدا کے قائل نہیں ہیں بلکہ ہر انسان کوخدا اور انسان کے بنائے ہوئے قانون کو مذہب یا مذہب سے بالاتر قرار دیتے ہیں وہ دیگر انسانوں یعنی مسلمان و دیگر غیر ہیومنز کو حیوان بلکہ اس سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اور ان کی تعذیب اور تشدد کو رواں جانتے ہیں ۔اس کے برعکس اسلام اور اس کی تعلیمات تمام انسانوں کو اللہ تعالی کی مخلوق سمجھ کر ہر انسان کی عزت و تکریم کا قائل ہے اور کسی بھی انسان کو اس کے رنگ و نسل یا مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر تعصب کی بھینٹ نہیں چڑھاتا۔اگر کسی شخص سے جرم کا ارتکاب ہوجائے تو اس صورت میں بھی اس کے مذہبی، لسانی و جغرافیائی پس منظر کو بالائے طاق رکھ کر اس پر عدل و انصاف کی روشنی میں قانون کا نفاذ کردیتا ہےاور ان کی زندگی، آزادی اور شخصی تحفظ کا بھرپور اہتمام کرتا ہے جو کہ اس کے منزّل من اللہ اور حق ہونے کی بےمثال دلیل ہے۔
- 1 القرآن، سورہ المائدہ، 5 : 32
- 2 القرآن، سورہ البقرہ 2 : 178
- 3 أحمد بن الحسين أبو بكر البيهقي، معرفة السنن والآثار، ج-8، حدیث: 11985، دار قتيبة ، بيروت، دمشق ، 1991ء، ص: 305
- 4 أبو بكر بن أبي شيبة، مسند ابن أبي شيبة، ج-2، حدیث: 709، دار الوطن ، الرياض، السعودیة، 1997ء، ص: 223
- 5 محمد بن جرير الطبري، تاريخ الطبري، ج-3، دار المعارف، مصر، 1967ء، ص: 226-227
- 6 القرآن، سوره آل عمران، 3 : 104
- 7 القرآن، سوره آل عمران، 3 : 110
- 8 مسلم بن الحجاج القشيري، صحیح مسلم، حدیث: 177، مطبوعة:مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة، مصر، 1955ء، ص: 49
- 9 القرآن، سوره الحج 22 : 41
- 10 القرآن، سورہ البقرہ 2 : 216
- 11 القرآن، سورہ البقرہ 2 : 178
- 12 القرآن، سورہ المائدہ 5 : 33
- 13 ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 6878، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 1185
- 14 ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 498، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 3017
ہمدانی، مفتی سیّد شاہ رفیع الدین اور ڈاکٹر حبیب الرحمٰن۔ (2026)اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کا محاکمہ: شق نمبر-3، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/aqwam-matehdah-ke-humen-rised-charter-ka-mahkamah-shq-nambr-3