عام طور پر "انسانی حقوق" کی اصطلاح کا ترجمہ ہیومن رائٹس کیا جاتا ہے۔"ہیومن" کی اصطلاح مغربی فلسفہ وفکر میں خاص مقام رکھتی ہے ۔ اس اصطلاح ہیومن (human) کا خاص معنی ومطلب ہے ۔لہذا"ہیومن" کا ترجمہ"انسان" کر کے اسے صحیح طور پر سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ "ہیومن" مغربی فکر میں گاڈ مین (godman)کو کہتے ہیں یعنی ایک ایسا انسان جو کہ آزاد ہو، خود مختار (Autonomous) ہواور ہر شے و عمل کا میزان ہو۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ انسان اللہ کا بندہ ہونے کی بجائے ایک ایساآزاد فرد ہے جو خیر و شر کے تعین اور تحدید میں بذات خود ایک پیمانہ ہے۔ مغربی فلسفیوں (ڈیکارٹ، کانٹ، مارکس، نطشے، روسووغیرہ) کے نزدیک کائنات کو صرف اور صرف ہیومن کے پیمانوں پر پرکھنا ہی مغربی علمیت کی اساس و میراث ہے۔

مغربی مفکرین کی ان تعریفات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں کسی اَن دیکھی ہستی کا وجود خدا کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ان کے ہاں انسان ہی ان تمام طاقتوں کا مظہر ہے جنہیں کوئی بھی مذہب ان دیکھی ہستی کے ساتھ وابستہ تصورکرتا ہے۔ مغرب کا "سپرمین" انہی خدائی طاقتوں کا مظہر ہے۔ مغرب مذہب اور خدا کو کس طرح خیر باد کہہ چکا ہے اس کا اظہار ڈنمارک کے بدبخت شاتم ِرسول فلیمنگ روز نے ان الفاظ میں کیا تھا:

  ہم میں اور مسلمانوں میں فکری اور ثقافتی یا تہذیبی طورپرفرق یہ ہے کہ ہم نے تو خدا،رسول اور کتاب کاحوالہ اپنے ذہنوں سے اتار دیا ہے، ہم کوئی فیصلہ کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ بائبل میں کیا لکھا ہے۔ کوئی قانون طے کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ خدا کیا کہتا ہے،کوئی بات کہتے وقت عیسیٰ کا حوالہ نہیں دیتے کہ اس بارے میں انہوں نے کیا کہاتھا،ہم آزاد (شیطانی)ذہن سے فیصلہ کرتے ہیں۔

اس مخصوص تصورِ علم اور تصورِ انسان کو ہیومن بینگ (Human Being) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مغربی مفکرین کے مطابق جب انسان ہی کائنات کا محور و مرکز ہے اوروہ اشیاء کی حقیقتوں کو بغیر کسی خارجی علم کی مدد کے خود پہچان سکتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی استوار کر سکتا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی چاہت و خواہشِ نفس کا مطیع ہے۔ انسانی خواہشات کا بنیادی عنصر لذات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونا ہے۔یہ بات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان اول درجے کا حریص اور حاسد نہ ہو۔ حرص اور حسد دیگر کئی اخلاقی بیماریوں اور کمزوریوں کا مجموعہ ہیں۔ حریص اور حاسد انسان خود غرض، سفاک، قاتل، انتہائی درجے کا فریبی اور مکار اور نہ جانے کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ جو شخص خود کو"فری" (Free)بمعنی آزاد خیال کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگہبانی میں اور عبدیت میں رہنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ دراصل نفس وشیطان کا بندہ ہوتا ہے ان معنوں میں ہیومن بینگ شیطنت(طاغوت) کے مساوی ہے۔ یہی ہیومن رائٹس کا علمیاتی پس منظر ہے۔

ہیومن رائٹس كا تاریخی پس منظر

سترھویں صدی عیسوی میں جب جدیدیورپ کی ابتدا ہوئی توا س دور میں جو فکر ابھر کر سامنے آئی اس كے مطابق انسان کسی کا عبد نہیں بلکہ وہ آزاد(Free) ٹھہرایا گیا۔ آزادان معنوں میں کہ وہ جو چاہنا چاہے، چاہ سکے اور جس چیز کی خواہش اس کا نفس کرے اسے حاصل کر سکے۔ یہ ایک مغربی فکر ہے جس کے مطابق انسان قائم بالذّات اور اپنا خالق خود(Existent by itself)ہے۔اس فکرکی اساس پانچ صدی قبل مسیح کی یونانی فکر میں بھی ملتی ہے جس میں یونانی مفکر پروتاگورس کہتا ہے:

  انسان کا ئنات کی تمام اشیا کا پیمانہ ہے۔

یعنی وہ اس کائنات میں مقصود بالذات ہستی ہے اور وہ کائنات کی ہرشے کو اپنی مرضی(decision) اور منشاء (will) کے تابع کرنے کا حق رکھتا ہے۔یہ نظریہ عبدیت انسانی کے بجائے "الوہیت انسانی" کا مظہر ہے، اور اسی تناظر میں تہذیب مغرب کا کلمہ لا الہ الا اللہ کے بجائے"لاالٰہ الا انسان"ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا مرکز ذاتِ باری تعالی نہیں ہے بلکہ انسان ہے۔اس تصور کو ہیومنزم بھی کہتے ہیں۔ ہیومن ازم ہر اس فلسفہ کو کہتے ہیں جو تمام دوسری اشیاء بلکہ خود خالقِ کائنات کی عظمت کے مقابلے میں انسانی قدر یا عزت کو برتر تسلیم کرے اور اسے "تمام چیزوں کا میزان" قرار دے یعنی میزانِ حق و باطل کا تعین خود انسان کرےگا اس کے لئے کوئی بھی خارجی قوت بشمول ذاتِ خداوندی، وحی الہی، انبیاء و رسل Alaihmus Salam یا صالحین اور علمائے کرام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ہیومن ازم کی تحریک اپنی اصل کے اعتبارسے وحی الٰہی اور ہدایت ربّانی کی ضد تھی۔ اس تحریک کا مقصدمذہبی معاشرے میں تصورِ الٰہ، تصورِ رسول اور تصورِ آخرت کو ختم کر دینا تھا، چنانچہ اس تحریک نے اہل مذہب کو ہر اس ہدایت کے انکار کی طرف ابھارا جو ربانی یاآسمانی ہواو ر ہر اس ضابطے سے بغاوت پر آمادہ کیا جس کی بنیاد ہدایت الٰہی تھی۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا آف ریلجن اینڈ ایتھکس میں بیان کیا گیا ہے:

  فلسفہ میں ہیومن ازم ہر طرح کی فطریت(ربانیت) اور کلیت کی ضد ہے۔ یہ ایک ایسا فلسفیانہ رحجان دیتا ہے جو انسانی تجربوں کی تشریحات کو ہر طرح کے فلسفہ کا اولین مرکز توجہ دے اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کام کے لیے انسانی علم کا فی ہے۔

یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس

تاریخی طورپر دیکھاجائے تو ۱۷۷۶ء میں امریکا کا اعلانِ آزادی سامنے آیا۔ ۱۷۸۸ء میں امریکی دستور مرتب ہوا۔ امریکی دستور کا ماخذ فیڈرلسٹ پیپزز ہیں۔ فیڈرلسٹ پیپرز وہ مضامین تھے جو دستور کی حمایت میں امریکا کے پہلے وزیر خزانہ الیگزینڈر ہملٹن، امریکا کے پہلے چیف جسٹس جان جے اور امریکی صدرجیمس میڈسن نے امریکی اخباروں میں لکھے تھے۔ ہیومن بینگز کے حقوق سے متعلق یہ تمام مضامین مغرب کے ملحد مفکرین کے تصوراتِ انسان ہی کی روشنی میں لکھے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کا منظورکردہ انسانی حقوق کا منشور اسی امریکی دستور کا چربہ ہے۔ اس منشور کی مصنفہ سابق امریکی صدر کی بیوی ایلینا روزویلٹ تھی۔ اقوام متحدہ کے ذریعہ تمام ممبر ممالک کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کے اس منشور کو عالمی اور ناقابل چیلنج قانون تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخظ کریں۔ چنانچہ مسلم ممالک بھی یواین او کے رکن ہونے کی حیثیت سے اس کفرمطلق اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت پر مبنی منشور پر دستخط کرتے ہیں۔ وہ پابند ہوتے ہیں کہ اپنے ممالک کے دستور وقانون کو انسانی حقوق کے چارٹر سے ہٹ کرعمل میں نہ لائیں۔

یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹز کی پہلی شق

  1. All human beings are born free and equal in dignity and rights. They are endowed with reason and conscience and should act towards one another in a spirit of brotherhood.
  تمام ہیومن بینگز آزاد پیدا ہوئے ہیں اور عزت اور حقوق میں مساوی ہیں۔ وہ عقل اور شعور(خیر اور شر میں فرق کرنے کی صلاحیت) کے حامل ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کے جذبے سے کام لینا چاہیے۔

یونائٹڈ نیشنز کے چارٹر آف ہیومن رائٹس کی شقیں ایسی اصطلاحات پر مشتمل ہیں جس کو سمجھے بغیر ایک عام انسان اور خاص طور ہر مسلمان دھوکہ کا شکار ہوجاتا ہے اور اس چارٹر کو عین اسلامی اور انسانیت کی بھلائی پر مبنی سمجھ کر نا صرف اس کو قبول کرتا ہے بلکہ اس کو عام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ درج ذیل سطور میں ان اصطلاحات کی اصل تعریف اور ان کے حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے مؤقف کو پیش کیا جائے گا۔

ہیومن بینگ اور انسان

اسلام میں نہ ہیومن بینگ ہیں اور نہ ہی ان کے حقوق کا کوئی تصور موجود ہے۔اسلام حقوق العباد کو تسلیم کرتا ہے جس کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگی مقدم اورحقوق العباد کی ادائیگی مؤخر ہے یعنی حقوق العباد کا شعور حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجے میں پیداہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسان کی حیثیت اپنے عبد کی رکھی ہے اور اسی لئے اس سے مراد ہر لحظہ و لمحہ عبدیت مطلوب ہے کیونکہ انسان کا مقصدِ تخلیق ہی عبودیت قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

  وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ 59 1
  اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔

قرآن کریم میں اس آیت مبارکہ میں مذکور "انسان" سے مرادہیومن (Human)ہرگز نہیں ہےکیونکہ وہ اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اللہ کا بندہ اورخدا کے کسی بھی پیغمبر کا پیروکار نہیں ہوسکتاکیونکہ Human جس مذہب کا پیروکار ہوتا ہے وہ Humanism کہلاتاہے۔ یہ ہیومن(Human)کا کسی بھی الہامی مذہب،الہامی عقائد و تصورات اور نظریات کے برعکس انسانی پیش کردہ فکروفلسفہ اور قوانین و نظریات کا پیروکار ہوتا ہے۔یہی وہ انسان ہے جو خالق کائنات کو رب نہیں مانتا بلکہ اپنے نفس کو ہی اپنا رب بنالیتا ہے لہذا ُس کا نفس اُسے جس بات کا حکم دے وہ جائز اور ناجائز،حلال حرام اور صحیح و غلط کی تمیز سے بالاترہو کر اُسے بجالانا اپنا فریضہ جانتا ہےکیونکہ ان کے نزدیک خیر و شر وہی ہے جس کا تعین ہیومن بینگ کرے۔ لہذا اگر کسی ہیومن کی خواہش شراب پینے ،جوا اور سٹہ کھیلنے ،سود کمانے یا بدکاری کرنے کی ہو تو اُسے بلاتردد ان تمام کاموں کو بجا ل لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ نفس کی خواہش اور چاہت ہے البتہ اُسے صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان تمام رذائل کو روبہ عمل لانے کے دوران کسی اور ہیومن بینگ کی اس طرح کی آزادی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بنے ۔ایسا انسان ہی حقیقی معنی میں مغرب کی نظر میں اصلی ہیومن بینگ ہے ۔پوری انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ بیسویں صدی عیسویں میں خلق خداکی بڑی اکثریت (Human being)بن گئی ہے ورنہ سترویں صدی سے پہلے(Human being)کا کوئی وجودنہیں تھا۔لہذا مغرب جب حقوق انسانی کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد ہر ابن آدم ہر گز نہیں ہے بلکہ صرف وہ مادر پدرآزاد ،انسان نما جانور یعنی ہیومن بینگ ہیں جو وحی کے مقابلے میں عقل،دین کے مقابلے میں فلسفہ،خدا کے مقابلے میں نفس کی بندگی اور کلام اللہ کے مقابلے میں انسانی فکر ودانش کو ہادی و رہنماء سمجھنے کے قائل ہوں۔

مذکورہ بالاآیت کی تعلیم کے مطابق انسان یعنی کہ عبداپنے شب وروز الله کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کرے۔ ہر اس کام کو کرنا اس کے لیے جائز ہو گا جس کی اجازت رب نے اسے عطا کی ہے اور ہر اس کام سے بچنا واجب ہو گا جس سے رکنے کا حکم دیا ہے۔ اس طور پر انسان کے لیے حلال رزق کا حصول، حلال کھانے پینے کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے، ضروریات زندگی کی تکمیل کرنے، اپنی جائز خواہشات کو پورا کرنے کی اجازت ہے ،لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے امور دین (وحی الہی) کے اصولوں اور طریقوں کے مطابق ہی سر انجام دیے جائیں گے۔

آزادی

آزادی کے لغوی معنی یہ ہیں کہ آپ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس معاملہ میں مجبور نہیں ہیں مثلاً جانور حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اس معنی میں آزاد ہیں لیکن وہ کلام (بمعنی گفتگو نہیں کرسکتے ان معنوں میں وہ مجبور ہیں)۔لغوی اعتبار سے آزادی ایک صفت اور صلاحیت ہے جیسے سانس لینے کی صلاحیت ہے، کھانا کھانے کی صلاحیت ہے۔ اصطلاحی طور پر آزادی سے مراد یہ ہے کہ ہر انسان ہر معاملہ میں آزاد و خود مختار ہے یعنی وہ کسی ان دیکھی ہستی کا عبد نہیں ہے۔ اس کی عقل جو کہ نفس امّارہ کے تابع ہے اس کے لئے واحد اتھارٹی (authority)ہے جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ شر کیا ہے اور خیر کیا ہے۔ کسی خارجی ذریعے یا خارج از عقل ہستی کو خیر اور شر کے تعین کا حق حاصل نہیں ہے۔ آزادی خیرِ مطلق ہے اور آزادی سے مراد یہ ہے کہ انسان کا اختیار کائنات پر لامحدود ہوتا چلا جائے، اصولاً انسان آزاد ہے وہ اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ قائم باالذت اور خالقِ کائنات بن جائے لیکن عملاً وہ آزاد نہیں، اس کی آزادی کو مادی (Material) قوتیں بھی محدود کرتی ہیں اور معاشرتی (Social) قوتیں بھی۔ عملاً انسان آزاد ان معنوں میں ہے کہ وہ اپنی تصور کردہ مطلق العنان ربوبیت کے قیام کی مستقل جدوجہد کرنے پر مجبور ہے۔ اسی عملی مجبوری کو اصولی آزادی کہتے ہیں۔ اس قاعدہ کے مطابق اگر کوئی شخص بذات خود کسی بھی وجہ سے زنا کا مرتکب نہیں ہوتا تو اس معاملہ میں وہ آزاد ہے لیکن اگر کوئی اور کسی کے ساتھ زنا بالرّضا کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ عمل بد نہیں ہے بلکہ زانی ، زنا کے ذریعے اپنی آزادی کا اظہار کرتا ہے ۔ اسی لئے کسی ریاست یا قانون کواسے اس عمل پر سزا دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا ۔

اسلام آزادی کو بحیثیت ایک قدر (Value) کے کلیتاً اور صریحاً رد کرتا ہے کیونکہ آزادی اللہ سے بغاوت کی جدید شکل اور جدید نعرہ ہے۔مسلمان کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ آزادی کو بطور قدر کے اپنی پیدائش کے وقت سے لےکر تا دمِ واپسیں اس لئے رد کرتا ہے کہ آج آزادی غلامی کی ضد کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالی، وحی الہی اور بندگی کے انکار کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔اس آزادی کا مطلب یہ ہےکہ انسان اگرچہ کہ مسلمان کیوں نہ ہواگر کفر کو اختیار کرنا چاہے تو وہ کفر کو اپنے آزاد ہونے کی وجہ سے اختیار کرلے اور جب چاہے ملحد و منکر ِ خداو دین بن جائے۔اسی طرح اسلام میں آزادی کا یہ تصور کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہوسکتاکہ کسی مسلمان کے سامنے کسی بھی قسم کے گناہ کا ارتکاب کیا جائے اوروہ یہ سمجھے کہ گناہ کے اس ارتکاب کے لئے گناہ گار کے پاس حق آزادی کی وجہ سے اس کو روکنا، منع کرنا یا برا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کے ایمان کی تعریف حضور ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے:

  عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال :سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول "‌من ‌رأى ‌منكم منكرا فليغيره بيده. فإن لم يستطع فبلسانه. ومن لم يستطع فبقلبه. وذلك أضعف الإيمان". 2
  حضرت ابو سعید خضری Radi Allah Anho سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو کوئی کسی منکر (برائی)کو ہوتا ہوا دیکھے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے ہاتھ(بزور قوت) سے روکےاور اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اسے اس منکر کو زبان سے روکنا چاہئے اور اگر اس کے لئے یہ بھی ممکن نہ ہو تو اسے چاہئے کہ اسے دل میں برا جانے حالانکہ یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے۔

مذکورہ بالا حدیث میں کسی بھی انسان کو آزادی کے نام پر یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ وحی الہی کے مقرر کردہ خیر کو شر اور شر کو خیر سمجھے۔ اسی طرح وحی الہی نے نیکی اور گناہ کا واضح تصور دیا ہے جس پر انسان کی اخروی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔ لہذا انسانی معاشروں میں انسان اور بالخصوص مسلمان کسی بھی انفرادی یا اجتماعی گناہ سےاس لئے لاتعلق نہیں رہ سکتا کہ اسے انسانوں نے نام نہاد "آزادی" کی آڑ میں جائز قرار دے رکھا ہے۔ مسلمان اپنی حیثیت اور قوت کے لحاظ سے ہر قسم کی برائی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا کیونکہ یہی اس کا حق و فرض بندگی ہے جسے ادا کرنے کے لئے اسے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔ اسی بات کو درج ذیل آیات بینات میں بیان کیا گیا ہے:

  كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ... 110 3
  تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
  إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ 904
  بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو۔

مذکورہ بالا آیات میں واضح طور پر اہل ایمان کو خیر امت قرار دینے کے بعد ان پر اللہ تعالی کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہیں کہ وہ مسلسل اسلام کی دعوت اور وہ تمام اعمال جو اسلامی تعلیمات کی ضد اور ممنوعات ہیں ان کے سرکوبی کے لئے جہاد کرتے ہیں گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ خیر امت کا فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ آزادی کے نام نہاد تصور کو رد کرکے اپنی بندگی کے اقرار کے ساتھ عدل و احسان ، حقوق العباد کی ادائیگی اور فحاشی، برائی اور اللہ سے بغاوت کی ہر صورت کو رد کردیں۔

مساوات

مغرب کے نظریہ مساوات سے مراد یہ ہے کہ تمام انسان پیدائشی اعتبار سے برابر ہونے کی وجہ سے یکساں ہیں لہذا تمام انسان اپنی عقل کے اعتبار سےبھی برابر ہیں جس کے نتیجے میں ہر شخص کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی خارجی ذریعہ کے بغیر خود اپنی عقل کی بنیاد پر اپنے لئے جس طرح کی زندگی کو تعمیر کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے اور جس طرح ایک انسان اپنی زندگی عقل کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح دوسرے تمام افراد بھی اس حق کے اختیار کرنے میں مساوی ہیں کہ وہ جس طرح کی زندگی کو چاہیں اختیار کریں۔یعنی کوئی شخص یہودیت کو اختیار کرے یا عیسائیت کو اپنائے، ہندومت سے وابستہ ہو یا الحاد کو اپنے لئے پسند کرے تو کسی دوسرے شخص کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ اس کے اس اختیار پر پابندی عائد کرےکیونکہ جس طرح کسی نے اپنے لئے ایمان و اسلام کو پسند کیا تھا اسی طرح دوسرے افراد کے اختیار ِ مذہب و عقیدہ اور انتخاب ِ اخلاق و عمل میں وہ بالکل برابر ہے لہذا خیر و شر یا حق و باطل اضافی بات ہے جس کے اختیار یا رد کرنے پر اصرار کسی دوسرے انسان کی مساوات کے حق سے انکار کے مترادف ہے۔لہذا کسی متقی کو کسی فاجر و فاسق پر کوئی برتری حاصل نہیں اور نہ ہی کسی صاحبِ کردار کو کسی بد کردار کے مقابلہ میں اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ذاتی اختیار کا معاملہ ہے جس کے تحت کوئی شخص انفرادی طور پر مسجد میں جاکرکے عبادت کرنا پسند کرے یا کسی بدکاری کے اڈے میں جاکر حظِ نفس حاصل کرے یا کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت کرےیا کہیں بیٹھ کرکے گانا گائے(نعوذباللہ) سب دنیاوی قدر و اہمیت کے لحاظ سے برابر(مساوی) ہیں۔

اس کے برعکس اسلام میں اس طرح کی مساوات کا کوئی تصور موجود نہیں بلکہ معاشرے میں موجود انسانوں کے مختلف درجات اور فضیلت کے معیارات ایمان اور تقوی کی بنیاد پر جدا جدا ہیں ۔ اسلام میں ایمان اور کفر برابر نہیں کیونکہ ایمان کو نور اور کفر کو ظلمت سے تعبیر کیا گیا ہے اور مومن کو بینا جبکہ کافر کو اندھا کہا گیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:

  وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ 19 5
  اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے۔

اسی طرح نیکی اور بدی برابر نہیں اور نہ ہی نیک اور بد برابر ہیں کیونکہ نیکی انسان کو جنت میں لےجانے والا عمل ہے جبکہ بدی انسان کو دوزخ میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اصحاب جنت میں سے ہوجائے اور اپنی ہر ممکن کوشش کرے کہ اس کا شمار اصحاب النار میں نہ ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے:

  لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ 206
  اہلِ دوزخ اور اہلِ جنت برابر نہیں ہوسکتے، اہلِ جنت ہی کامیاب و کامران ہیں۔

جس طرح اسلام کی روح سے تمام انسان برابر نہیں ہیں اسی طرح تمام اشیاء بھی اپنی تخلیق ، اثرات، احکامات اور نتائج کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں۔ان کے اندر غیر مساویت کو خود اللہ تعالی نے ودیعت کرکےاس کو جائز و ناجائز، حلال و حرام اور طیب و خبیث میں تقسیم کردیا ہے۔ بالفاظ دیگر خیر یا پاک شے وہ ہے جسے اللہ تعالی خود خیر اور پاک قرار دے جبکہ ناپاک اور شر وہ ہے جسے اللہ تعالی اپنی وحی کے ذریعے ناپاک اور شر قرار دے۔ارشاد باری تعالی ہے:

  قُلْ لَا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ1007
  فرما دیجئے: پاک اور ناپاک (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے (اے مخاطب!) اگرچہ تمہیں ناپاک (چیزوں) کی کثرت بھلی لگے۔ پس اے عقلمند لوگو! تم (کثرت و قلت کا فرق دیکھنے کی بجائے) اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

اسی طرح عالم و جاہل بھی مساوی نہیں کیونکہ وہ علم جو اللہ کی معرفت و خشیت عطا کردے (علم دین) وہ اس علم یا معلومات کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر و مفید ہے جس سے انسان اللہ تعالی کی اطاعت و بندگی سے غافل ہوجائے اگرچہ کہ وہ علم دنیاوی اعتبار سے اس معنی میں مفید ہو کہ اس کے ذریعےجاہ و منصب اور عہدہ و مال حاصل کیا جاسکے۔قرآن کی رو سے ہر وہ علم یا معلومات جو انسان کو مقصد ِ زندگی سے غافل کردے جہالت ہے۔اسی لئے ایسے علم کی اللہ تعالی نے تحسین فرمائی ہے جو بندے کو حقیقت شناس بنا دے۔ارشاد باری تعالی ہے:

  ...قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ 9 8
  ۔۔۔ فرما دیجئے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا نصوص کی روشنی میں مساوات کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات بالکل واضح اس طور پر ہیں کہ اسلام تمام انسانوں کے یکساں حقوق کا بالکل بھی قائل نہیں کیونکہ تمام انسان علم ،اخلاق،کردار، سیرت، عمل ،محنت،عبادت ،تقویٰ اور رویوں میں برابر نہیں ہیں اسی لئے اسلام میں حقوق کی ادائیگی کو فرائض کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے ۔مطلق حقوق کا تصور خود انسانی معاشروں میں بھی عملی طور پر ناممکن ہےکیونکہ اپنے ذمہ کے فرائض اداکیے بغیر باپ اپنے بیٹے کو،ماں اپنی بیٹی کو،استاد اپنے شاگرد کو اورکارخانہ دار اپنے ملازم کوکسی قسم کا حق یا حقوق دینے کا پابندنہیں کر سکتا۔اسی طرح ہر وہ شخص جو اپنا فریضہ تخلیق یعنی عبدیت و بندگی بجالانے سے انکاری ہو وہ اُن تمام حقوق سے یکسر محروم ہوجاتاہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کےلئے اُن کی بندگی و اطاعت پر رضا مندی کی وجہ سے مختص فرمائے ہیں۔برسبیل تنزل اس معاملہ کو کسی ملک کے عام شہری اور مجرم شہری کے تناظر میں دیکھا اور سمجھاجاسکتا ہے یعنی عام شہری جو ملک کے قوانین کا پاسداراور ریاست کاوفادار ہو اور وہ شخص جو ملکی قوانین کو رد کرنے والا اور ریاست کا غدار ہو شہری ہونے کے اعتبار سے یکساں ہونے کے باوجود حقوق کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتے کیونکہ ایک شہری کے حقوق فرمانبردار اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اور دوسرے کی باغی اور مجرم شہری کی حیثیت سے برابر نہیں ہوتےہیں۔

عقل و شعور (Reason and Rationality)

عقل سےعمومی مراد صحیح و غلط اور خیر و شر کا وہ پیمانہ ہے جسے اگر الہامی تعلیمات کی روشنی میں استعمال کیا جائےتو انسان اس عقل کی مدد سے حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت کو پالیتا ہے۔ اس کے برعکس مغربی تہذیب کا نظریہ عقل (reason) جو کہ تحریک تنویر کے مفکرین نے تیار کیا اس کے مطابق عقل (reason) وہ صلاحیت ہےجس کے ذریعے زندگی کا حتمی مقصد خوشی کی تلاش ہےاور چونکہ تمام انسان یکساں عقل (reason) رکھتے ہیں اسی لئے تمام لوگوں کی عقل (reason) کا یہ تقاضا ہے کہ وہ خوشی کی تلاش میں اپنی زندگی کھپا دیں اور اس کے لئے جو اعمال بروئے کار لانے ہوں لے آئیں۔ عقل (reason) کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ہیوم کہتا ہے کہ چونکہ اس کا مقصد خوشی کی تلاش ہے لہذا عقل (reason) نفس امارہ یا خواہشات نفسانی یا انسانی جذبات کی غلام ہے۔ تنویری مفکرین کے مطابق ہیومن کی عقل (reason) ہمیشہ خیر ہی ہوا کرتی ہے کیونکہ ہیومن خود سراپا خیر ہے۔ اس لئے اگر ہیومن کسی برائی یا شیطانی عمل کی چاہت کے لئے تگ و دو کرےتو تب بھی اس کی یہ چاہت برائی نہیں خیر ہی ہے کیونکہ ہیومن کی عقل (reason) کبھی کچھ غلط نہیں چاہ سکتی۔اس ہیومن کی عقل افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو اپنی چاہت کے تحت قتل کردے، بوسنیا میں لاکھوں مسلمانوں کو ہیومنزم قبول نہ کرنے کی وجہ سے جان سے ماردے یا پھر فلسطین میں یہ ہیومن صیہونیوں کے ہاتھوں سے مسلمانوں کی نسل کشی کو اس لئے جائز قرار دے کہ وہ ان کی طرح کے ہیومنز نہیں ہیں، یہ سب ان ہیومنز کی نگاہ میں خیر بھی ہے اور ضروری بھی۔ یہی عقل (reason) ہیومن کو بتاتی ہے کہ اس کےحقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں یعنی اللہ تعالی، اس کا رسول ﷺ اور آسمانی وحی کو اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ انسانوں کے لئے حقوق اور ذمہ داریوں یا فرائض و احکامات کا مجموعہ احکام الہی کے عنوان کے تحت عطا کرے کیونکہ انسانی عقل خود صحیح اور غلط یا حق وو باطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم رکھتی ہے۔

اسی لئے آسمانی عقائد پر ایمان سے گلوخلاصی کرنے کے بعد مغرب نے ہیومن اخلاقیات(morality) کو بھی ایمانیات سے جدا کرکے اس کی اساس و بنیاد ہیومن کی عقل (reason) پر رکھی ہےاس کا مطلب یہ ہےکہ انہیں کسی بھی مقدس صحیفہ یا کتاب سماوی کی دی ہوئی ہدایات و احکامات کے نتیجہ میں اپنے انفرادی و اجتماعی اخلاقیات کو مرتب و منظم کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ وہ ہیومن عقل (reason) ہے جو انسان کے لئے اس کے زندگی گذارنے کے عقائد اور اخلاقی اصول کو مرتب و منظم کرے۔ ہیومن کے وضع کردہ ان عقائد و اخلاقیات کو مغرب نے آفاقیت کا درجہ دے کر روئے زمین کے تمام انسانوں پر ابدی و حتمی نظامِ زندگی کے طورپر نافذ کرنےکی کوشش اس طور پر کی ہے کہ اگر ان کی اس جدوجہد کی راہ میں کسی گروہ ، ملک یا تہذیب نے رکاوٹ کھڑی کرنے کی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ کوشش کی تو اسے ملیا میٹ کرنا بھی ہیومن اخلاقیات کا بنیادی اصول ہے۔ اسی اصول کے تحت مغرب یا مغرب کے پروردہ ممالک پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہانا نہ صرف اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ اسے اپنے مزعومہ ایمان و اعتقاد اور اخلاقیات کا اولین اصول بھی سمجھتے ہیں کیونکہ یہ مسلمان ہی ہیں جو کسی بھی طور پر بھی ہیومن بمعنی خدا سے باغی بننےپر بالکل تیار نہیں ہیں۔

مغرب میں تنویری عقل (reason) کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے اوریونانی و مغربی فلاسفہ کے مقلدین مبالغہ کی حد تک اس کو وحی کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ انسان کو یہ عقل اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سےدوسری تمام مخلوقات کے مقابلہ میں فضیلت کی وجہ سے اور حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے بطور صلاحیت یا آلہ کے عطا کی گئی ہے۔ان عقلی صلاحیتوں کے بل پر جو اصول دریافت کیے گئے ہیں انہیں کسی بھی قسم کی غلطی سے پاک اور ناقابل تغیر تصور کرتے ہیں۔ اس تدبر و تعقل کی ایسی غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر انہوں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ مذہبی احکام محض بے بنیاد مفروضوں اور غیر اہم حقائق سے متعلق بیانات کا مجموعہ ہیں اور انہیں کسی بھی قسم کی برتری کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسلامی تعلیمات کےمطابق عقل (reason) اکیلے اس قابل نہیں کہ وہ کسی انسان کو اس کے اصلی مقصد کی طرف رہنمائی کر سکے اور نہ ہی وہ سراپا خیر ہے۔ انسانی عقل (reason) میں خیر بھی موجود ہے اور شر بھی کیونکہ یہ دونوں صلاحیتیں اللہ تعالی نے اس کو ودیعت کی ہیں۔ یہ سراپا خیر اس وقت بنتی ہے جب کلیۃ الہامی ہدایت کی روشنی میں حق اور باطل کے درمیان فرق سمجھ کر امتیاز کرے جبکہ اگر یہ عقل (reason) خودمختار (autonomous) اور وحی الہی سے آزاد ہو کر کچھ کرنے کی کوشش کرے گی تو لازما اس میں شر کا عنصر پایا جائے گا کیونکہ رحمانی ہدایت کےمقابلہ میں شیطانیت ہی آتی ہے اور اگر رحمانی ہدایت سے استفادہ نہ کیا جائے تو شیطان اپنے علم اور روحانیت سے انسان کو دھوکہ دے کر اپنی اتباع کرواتا ہے۔ لہذا عقل یا تو صالح ہوتی ہے یا فاسد۔عقلِ صالح کا وجود ایمان و ہدایت الہی کا مرہون منت ہوتا ہے جبکہ عقل فاسد نفس و شہوات سے مغلوب ہوتی ہے۔

امام غزالی کے نزدیک عقل صالح وہ ہے جو انسان کو رب کے پاس بزرگی دے اور اصل معنوں میں عاقل وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے چاہے (بظاہر وہ) صورت میں برا ، قد میں چھوٹا اور مرتبہ میں شکستہ حال ہو جبکہ عقل فاسد وہ ہے جو انسان کو رب سے دور کرے اور اس کے متبعین جاہل ہیں کیونکہ وہ خدا کی نافرمانی اور وحی الہی کا انکار کرتے ہیں۔کچھ اکابرین کے نزدیک اللہ تعالی نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا اور فرمایا کہ تیری ہی وجہ سے ثواب دوں گا ور تیری ہی وجہ سے عذاب دوں گا۔اسی طرح عقل صالح کے حامل شخص کو بصیر (دیکھنے والا) اور اس سے عاری شخص کو اعمیٰ (اندھا کہا گیا ہے)۔ ارشاد باری تعالی ہے:

  وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ 19
اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے۔

امین احسن اصلاحی صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں اعمیٰ سے مراد عقل و دل کا اندھا ہونا (عقل فاسد)ہے بصیر سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی عقل صالح اور دل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور وہ ان سے کام لیتے ہیں ۔اسی لئے قرآن کریم میں بھی انسان جب وحی الہی سے استفادہ کرنے کے بجائے اپنی عقل فاسد سے استفادہ کرتا ہے تو اس کو سختی سے تنبیہ کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

  لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ 10 9
  بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہاری نصیحت (کا سامان) ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے۔

یعنی یہ کتاب ہے جس میں انسان کی زندگی کا مقصد، اس مقصد تک پہنچنے کا طریقہ، زندگی گذارنے کا ڈھنگ پیش کیا گیا ہے۔ انسان کی فطرت، ساخت، اور آغاز و انجام پر تفصیل ہے۔ انسان کے ماحول سے چن چن کر نشانیاں پیش کی گئی ہیں جو حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ انسان کے اخلاقی اوصاف میں سے فضائل اور قبائح کا فرق نمایا ں کرکے دکھایا گیا ہے جس پر انسان کا ضمیر بھی گواہی دیتا ہے۔ جب یہ سب چیزیں اتنی واضح طور پر موجود ہیں تو کسی اور چیز کی طرف جیسے کہ ہیومنزم، رجوع کرنا صرف بے عقلی بلکہ جہالت اور دور جاہلیت کی طرف واپسی ہے۔

مواخات(Brother hood)

اس شق میں جس بھائی چارے کی بات ہورہی ہے وہ انسانوں کے مابین نہیں بلکہ ہیومنز کے مابین ہے۔ عام انسانوں کی حیثیت ان ہیومنز کے سامنے جنگلی بھینسوں سے بھی کم ہے۔ یہی وہ دھول ہے جو یہ تمام انسانوں کی آنکھوں میں جھونکتے ہیں کہ ہم تمام بھائی بھائی ہیں حالانکہ اصل میں یہ لوگ خاص کر مسلمانوں کو اور ان لوگوں جو ہیومنزم کے لئے خطرہ ہیں ، ان کو جنگلی جانوروں سے بھی بد تر سمجھتے ہیں۔ کوئی مسلمان خواہ کمزور سے کمزور ایمان والاہی کیوں نہ ہو ان کے اس معیار پر پورا نہیں اُتر تا۔اسی طرح بیسویں صدی کا بڑاسیاسی مفکر جان رالز لکھتا ہے کہ جو افراد مطلق آزادی کو قدرِ مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے ان کو ختم کرنا اتناہی ضروری ہے کہ جتنا ایک متعدی وباء (Pandemic) کا ختم کرنا لہذا آزادی کو رد کرنے والوں کو جواب دلیل سے نہیں گولی سے دیا جانا چاہیے۔اسی طرح مسلمان، جو ہیومنزم کے اس باطل عقیدہ کے قائل نہیں، ان کا قتل کرنا، ان کی املاک کو لوٹنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ ہیومنزم کے فروغ کے لئے ضروری ہے۔ ثانیا، کیونکہ یہ ہیومن ہیں ہی نہیں، ان کو چارٹر آف ہیومن رائٹس کے تحت کوئی حقوق حاصل نہیں۔ انہی گمراہ کن تعلیمات اور افکار و نظریات کو پیش نظر رکھ کر مغربی ممالک اور امریکہ نے عراق و افغانستان، بوسنیا اور فلسطین کے مسلمانوں کا بلا تخصیصِ جنس بڑے پیمانے پر خود قتل عام کیا اور اس قتل عام کی پشت پر مالی، سیاسی، سفارتی ، عسکری اور اخلاقی معاونت کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہے۔ اپنے اس گھناؤنے عمل پرکبھی کسی پشیمانی، پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ اسی طرح گوانتا ناموبے اور ابوغریب میں مسلمان مجاہدین پر ذہنی،نفسیاتی اور جسمانی روح فرسا تشدد کیا گیا کیونکہ یہ مسلمان آزادی کے قائل نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی سچی اور حقیقی بندگی اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت و فرما برداری کی راہ کو حق سمجھتے اور جانتے ہیں ۔لہذا ان مجاہدین کو سگریٹ سے داغنا ،کرنٹ لگانا،ان کی کھال اُدھیڑنا، ان کو جلانا ، اپنا پیشاب پینے پر مجبور کرنا،ان کے ساتھ استہزاء اور ٹھٹاکرنا،اِن کے بچوں کو قتل کرنا ،ان کی خواتین کی عصمت دری کرنا،ان کے بزرگوں کی توہین کرنا،اس لئے جائز ہوجاتا ہے کہ یہ مغرب کی نظر میں انسان ہی نہیں ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص یا قوم اسلام قبول کرکے مسلمان نہیں ہوتی تو وہ لازما یا تو محارب ہوگی یا معاہد (اہل ذمہ) ہوگی اور ان دونوں کے حقوق ہیں جو اسلامی کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ اگر کسی وجہ کوئی شخص یا قوم ان دونو ں گروہوں میں شامل نہ بھی ہو تو اس کی حیثیت غیر معاہد محفوظ گروہ کی لازما رہے گی جس کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہوسکتی جبکہ مغربی فکر و فلسفہ میں یا تو آپ ہیومن بینگ ہیں یا جنگلی درندےجنہیں بغیر کسی تخصیص کے ہر وقت ہر جگہ اور بغیر کسی عذر کے فنا کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔ لہذا انسانی حقوق کا مطلب انسان کا جانوروں اور دوسرے مخلوقات کے مقابلہ میں حقوق کا تصور نہیں ہے بلکہ یہ حقوق خود مختار اور اپنی خدائی کا اعلان کرنے والے انسان کا ان انسانوں کے مقابلہ میں حقوق کا نظریہ ہے جو اپنی عبدیت پر اصرار اور اپنی آزادی کا انکار کرتے ہیں۔

اس لئے ہمارے یہاں وہ تمام ادارے اور تنظیمات جو حقوق انسانی کی علمبردار بنی ہوئی ہیں اور حقوق انسان اور حقوق العباد کو یکساں سمجھتے ہیں انہیں اس ضمن میں اپنی غلط فہمی جتنی جلدی ممکن ہو دور کرلینی چاہیے ورنہ وہ اپنے آپ کو انسان سمجھتے رہیں گے جبکہ مغرب اُن کو جانور سمجھنے پر بھی راضی نہیں ہوگا کیونکہ مغرب کی نظر میں جانوروں کے بھی اچھے خاصے حقوق ہوا کرتے ہیں جنہیں وہ ادا کرنا ضروری خیال کرتے ہیں اور ان کو قتل کرنا سنگین جرم و ظلم گردانتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو اور ہر وہ شخص جو ہیومنزم کے نظریہ کا مخالف ہے اس کے قتل عام کو صحیح بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔

اختتامیہ

مذکورہ بالا گفتگو جسے ہم نے یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹز کی شقِ اول کی وضاحت کے طور پر پیش کرکے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس شق میں بظاہر ان اصطلاحات کو استعمال کیا گیا ہے جس کے حقیقی معنی و مفہوم سے سوائے ان لوگو ں کے جنہیں اللہ تعالی نے مغربی فکر و فلسفہ سمجھنے کی خصوصی صلاحیت سے بہرہ مند فرمایا ہے عمومی طور پر عام پڑھے لکھے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اس ڈیکلیریشن کو پوری انسانیت کی خیر خواہی پر محمول کرتے ہوئے اسے قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے ہر ممکن طریقہ سے زور لگاتے ہیں جبکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس ڈیکلیریشن کی ہر اصطلاح اپنے معنی مفہوم اور مطلب کے لحاظ سے ان اسلامی اصطلاحات کی ضد ہے جنہیں مسلمان جانتے اور مانتے ہیں۔ یہ اصطلاحات کا وہ فریب اور دھوکہ ہے جس میں زندگی کا معنی موت ، دوا کا مطلب زہر، شفا کا مطلب مرض اور خیر کا مطلب شر ہے۔

آج پوری دنیا میں مسلمان ممالک بڑے فخر سے حقوق انسانی کے چارٹرکو حقوق العباد کا مجموعہ یا مترادف سمجھ کر قبول بھی کرتے ہیں اور اُس کی تعریف میں زمین وآسماں کے قلابے بھی ملاتے ہیں حالانکہ حقوق انسانی اور حقوق العباد میں بہت بڑا اصولی فرق ہے۔بعض لوگ اپنی لاعلمی یاعدم توجہی کے باعث یہاں تک دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ اقوام متحدہ کا عالمی منشور برائے حقوق انسانی(Charter of Human rights) شاید خطبہ حجۃ الوداعLast Sermon of Holy Prophetﷺ سے ماخوذ ہے۔ ایسا ہر گز نہیں کیونکہ حقوق کے تناظر میں چند چیزیں آپس میں یقینا ً ملتی جلتی ہیں جس سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ شاید حقوق انسانی اور حقوق العباد میں کوئی فرق نہیں حالانکہ یہ سمجھناایک بڑی علمی ،فکری اور نظریاتی بلکہ اعتقادی غلطی ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ حقوق العباد بندوں کے دوسرےبندوں کے حوالے سے اُن فرائض اور واجبات کا نام ہے جس کاتعین بندوں نے نہیں کیا بلکہ رب تعالیٰ نے خوٍد یاپھر اپنے نبی آخرالزماں کے ذریعے فرمایا لہذا ان حقوق کی حیثیت غیر متبدل اور الہامی ہے جس میں تنسیخ ، ترمیم واضافہ کا حق کسی انسان یا ادارے کو ہرگز حاصل نہیں ہے ان حقوق کی حیثیت اسی طرح ہے جس طرح اسلام میں فرائض وعبادات کا مجموعہ غیر متبدل بنیادوں پر قائم ہے۔انسانوں کا قلیل یا کثیر،بے اختیار یا بااختیار اورکم عقل یا بہت زیادہ عقلمند مل کر بھی اس مجموعے میں رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکتے ۔اسی طرح دنیا کی کوئی پارلیمینٹ یا عدلیہ کو یہ حق حاصل نہیں ہوسکتاکہ وہ اسلام کے پیش کردہ حقوق العباد کے تصور اور تعلیم کے متبادل کوئی اور فلسفہ یاتعلیمات کے مجموعے کو حقوق العباد کے نام سے پیش کرے۔

 
  • 1  القرآن، الذاریات، 56:51
  • 2  ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیساپوری، صحیح مسلم، حدیث: 177، مطبوعۃ: دار السلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 2000م، ص: 42
  • 3  القرآن، سورۃ آل عمران، 2 : 110
  • 4  القرآن، سورۃ النحل، 16 : 90
  • 5  القرآن، سورۃ فاطر، 35 : 19
  • 6  القرآن، سورۃ الحشر، 59 :20
  • 7  القرآن، سورۃ المائدہ، 5 :100
  • 8  القرآن، سورۃ الزمر، 39 :9
  • 9  القرآن، سورہ الانبیاء 21 : 10

ہمدانی، مفتی سیّد شاہ رفیع الدین اور ڈاکٹر حبیب الرحمٰن۔ (2026)ہیومن رائٹس کی تعریف – مغربی فلسفہ، ہیومنزم اور اسلامی مؤقف، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/human-rights-ki-tareef