الحادی دعوؤں کی کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ صدیوں تک مذہب نے انسان کو بٹھائے رکھا، خدا اور تقدیر کے نام پر اس کے ہاتھ باندھ دیے، بچہ بخار میں تڑپا تو کہا گیا کہ آزمائش ہے ، صبر کرو، فصل جل گئی ،تو کہا گیا ، گناہوں کا نتیجہ ہے ،توبہ کرو، خدا کے حضور کچھ اور بھینٹ چڑھاؤ، طاعون پورا شہر نگل گیا تو ہاتھ اٹھا دیے، تحقیق کا کسی نے نہیں سوچا انسان آسمان کو تکتا رہا اور زمین ویران پڑی رہی۔ اس کے بعد الحاد آیا اور اس نے صرف ایک جملہ کہا وہ خدا موجود ہی نہیں جس سے تم مدد مانگ رہے ہو۔ جب وہ ہے ہی نہیں تو اوپر سے کوئی مدد آئے گی ہی نہیں، جو کرنا ہے خود کرو اور اسی لمحے سے دنیا بدلنے لگی، بیماریوں کا علاج ہونے لگا، اسٹیم انجن سے فاصلے کم ہوگئے، بجلی نے پوری دنیا روشن کردی، انسان فضاؤں میں اڑنے لگا، خلاؤں کو تسخیر کیا، چاند پر قدم رکھا، اور یوں الحاد، انسان کو مذہبی جہالت کے اندھیروں سے نکال کرترقی کی روشنیوں میں لے آیا۔ یہ الحاد کی ایک مختصر سی کہانی ہے۔
ملحدین کے اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ انسان کی موجودہ سائنسی ترقیاں اور جدید علوم کے میدانوں میں پیشرفت، خدا کو چھوڑنے اور مذہب کو خیر باد کہنے ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکے ہیں۔ اگر انسان صرف اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرکے بیٹھا رہتا تو آج بھی وہ خدا سے رحم کی بھیک مانگ رہا ہوتا، بیماریوں کے لیے تعویذ اور دَم درود پر اکتفا کرتا اور کچھ نہ ہونے پر صرف وہ یہی کرپاتا کہ اپنی تقدیر پر شاکر اور قانع ہوکررہ جاتا کیونکہ وہ یہ سمجھتا کہ اس کے نصیب میں صرف پسماندگی کی زندگی گزارنا ہی لکھا ہوا ہے۔ یہ ہے الحاد کا مذہب اور اہلِ مذہب پر ایک بڑا اعتراض۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بظاہر یہ اعتراض بہت مؤثر معلوم ہوتا ہے لیکن کسی چیز کا موثر ہونا اور اس کا سچ ہونا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس پوری کہانی میں ایک بڑی خرابی ہے کہ یہ تفصیل بغیر کسی متعین تاریخی ذکر (Mentioning The Specific Dates) کے محض کہانی کے انداز میں واقعات اور حقائق کو گڈ مڈ کرکےداستان گوئی کے انداز میں بیان کی جاتی ہے۔ اِس پوری کہانی کا نہایت عجیب اور اہم پہلو یہ ہے کہ جیسے ہی ہم اس کہانی میں تاریخیں ڈال کر اسے بیان کریں گے تو پوری کہانی پلٹنا شروع ہوجائے گی۔تاریخی حقیقت اور سچ کو بیان کرنے کے لیے اس پوری کہانی کو اَب ہم چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ چار سادہ سے سوال جنہیں ہم تمام لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں وہ یہ ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ یہ سب کب ہوا؟ یعنی سائنسی ترقی کب ہوئی؟ اور الحاد کب آیا؟۔
دوسرا سوال سائنس کی موجودہ ترقی کا اصل ذریعہ اور وجہ کیا ہے؟ یعنی کیا موجودہ علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انسانی ترقی کا سبب الحاد یا غیر الحادی سائنس ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا مذہب نے انسان کو واقعی ترقی سے روکا تھا؟
اور چوتھا سوال یہ ہے کہ خود موجودہ الحاد کی اصل کہانی کیا ہے؟
ہم آپ کے سامنے ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتے ہیں جس سے ملحدین کی طرف سے پیش کردہ پوری کہانی بالکل واضح ہوکر آپ کی سمجھ میں آجائے گی۔ ایک عمارت یا بلڈنگ جو تقریباً 20 مہینے میں تیار ہوئی، نقشہ کسی اور نے بنایا، بنیاد کسی اور نے رکھی، ڈھانچہ برسوں میں تعمیر ہوا، آخری مہینے میں ایک شخص آتا ہے وہ رنگ و روغن کرتا ہے اور اپنے نام کا بورڈ لگا دیتا ہے کہ یہ عمارت میں نے بنائی ہے۔ اَب آپ اس سے پوچھیئے کہ جناب آپ رسیدوں کا ریکارڈ لے آیئے ، تاریخ خود بول پڑے گی کہ وہ کب آیا تھا اور اصل میں عمارت کس نے بنائی ہے۔ الحاد کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ آیئے تاریخوں (Dates) کو دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ طے کرلیتے ہیں کہ الحاد کب آیا؟ اور سائنس کب آئی؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم الحاد کی تاریخ کو چار مرحلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
پہلا مرحلہ یعنی الحاد سے مراد خدا کا انکار ہی ہے تو پہلا مرحلہ انفرادی انکار کا ہے جو کہ ہر زمانے میں موجود رہنے کے باوجود کبھی بھی قابلِ ذکر نہیں رہا۔ دوسرا مرحلہ فکری تحریک کے طور پر خدا کا انکار ہے۔ اس حوالے سے پہلا ملحد مفکر ہول باخ (dholbach) ہے جس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام "نظام فطرت" ہے۔ یہ کتاب 1770 ء میں شائع ہوئی۔ یہ پہلی اعلانیہ ملحدانہ کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بعد 1841 ء دوسرے ملحد مفکر فور باخ کا نام آتا ہے۔ 1843ء میں کال مارکس 1859ء میں ڈارون اور 1882 ءمیں نطشے نے یکے بعد دیگرے فکری الحاد کو تحریری سرمایہ اور دلائل فراہم کرنے کی کوشش کی۔
الحاد کا تیسرا مرحلہ ریاستی سطح پر خدا کا انکار ہے۔ ایک مستقل ریاستی نظام کے طور پر پہلی بار سوویت یونین نے 1917ء کے اندر الحاد کو ریاستی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ یہ ہے الحاد کی پوری تاریخ یعنی پہلی الحادی فکر پر جو کتاب لکھی گئی ہے اس کا سن ہے 1770ء ہے۔ ان تاریخوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم جب اَب دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ سائنسی انقلاب کب مکمل ہوا تو صورتحال بالکل واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ کیونکہ الحاد کا دعویٰ یہ ہے کہ جدید سائنس، الحاد، مذہب اور خدا کے انکار کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
مذکورہ بالا الحادی دعویٰ ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم حقیقی صورت حال کو جاننے کے لیے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں کہ الحاد کب پیدا ہوا؟ اور سائنس کب تخلیق پا چکی تھی؟ یا سائنس کی اصل بنیادیں کب رکھی جاچکی تھیں؟ تو یہ جان کر انسان کو حیرت ہوتی ہے کہ جس سائنس کو الحاد کا نتیجہ قرار دے کر مذہب اور خدا کو مسترد کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، اس سائنس کی اساس اور بنیاد الحادی نہیں بلکہ مذہبی ہے۔ یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی وہ بات ہے جسے تاریخی حقائق کی روشنی میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ نکولس کوپرنکس (Nicholas Copernicus) کی کتاب (On the Revolution of the Heavenly Spheres)، 1543ء میں شائع ہوئی۔ گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) کی کتاب "دوربینی مشاہدات" 1610ء میں چَھپی۔ ولیم ہاروے (William Hervey) نے انسانی جسم میں دوران خون کا انکشاف 1628ء میں کیا۔ بوائل کا مشہور قانون 1662ء میں، نیوٹن (Isaac Newton) کی پرنسپیا 1687ء میں چَھپی، جس کاموضوع تھا "قدرتی فلسفہ کے ریاضیاتی اصول "۔ اس کے علاوہ کئی دوسری کلیدی سائنسی نظریات، تجربات اور مشاہدات پر مبنی کتابیں اُس وقت چَھپ کر آچکی تھیں جب پہلے منظم ملحد نے قلم اٹھانا ابھی سیکھا بھی نہیں تھا، اس وقت تک جدید سائنس کی پوری بنیاد رکھی جاچکی تھی جس میں نظام شمسی، قانون کشش، دوران خون، خردبین، فزکس کے بنیادی قوانین سب کی بنیادیں موجود تھیں اور اُن پر مزید گہری تحقیق کا سلسلہ قبل از دورِ الحاد کے زمانے میں جاری تھا۔
اگر ہم تاریخ میں مزید پیچھے چلے جائیں تو معاملہ اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ یورپ کی ایک مشہور تحریک جسے ہم تحریکِ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ تحریک چودہویں صدی (1400ء) سے شروع ہوتی ہے۔ تحریکِ نشاۃ ثانیہ کوئی ملحدانہ (Atheistic) تحریک نہیں تھی وہ ایک مذہبی معاشرے کے اندر مذہبی سرپرستی میں مذہبی اداروں کے پیسوں سے چلنے والی ایک علمی، فکری، تحقیقی اور نظریاتی تحریک تھی۔ تحریکِ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے پیچھے مذہب یا اہلِ مذہب کھڑے تھے۔ یہ ہماری طرف سے کوئی جذباتی اور غیر واقعاتی دعویٰ (Claims)نہیں ہےبلکہ مغربی مؤرخین کا اپنا تسلیم کردہ نظریہ ہے۔
اَب اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر مذہب واقعی سائنس کا دشمن تھا اور سائنس مذہب سے بغاوت کرکے پیدا ہوئی تو پھر ایک سوال کا جواب تو مذہب کے منکرین کو دینا ہوگا کہ سائنس کے بانی خود مذہب کے سب سے بڑے وکیل کیوں تھے۔ چند نام دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ کوپرنکس جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کلیسا کا باقاعدہ عہدے دار تھا کیپلر (Johannes Kepler) علم دین (Theology) کا طالب علم تھا اور وہ پادری بننا چاہتا تھا ۔ اس لیے کہا کرتا تھا کہ وہ خدا کے خیالات کو خدا کے پیچھے چل کرسوچ رہا ہے۔ اسحاق نیوٹن نے فزکس پر جتنی تحریریں لکھی ہیں، علم دین اور بائبل کی تفسیر پر اس سے کہیں زیادہ تحریریں لکھی ہیں۔ اس کی کتاب پرنسپیا کے آخری حصے میں اُس نے کائنات کے نظام کو ایک صاحب ارادہ یعنی (Intelligent Being) کی دلیل قرار دیا ہے۔ رابرٹ بوائل (Robert Boyle) جدید کیمسٹری کا بانی ہے، اس نے اپنی وصیت میں مذہب کے دفاع کے لیے سالانہ لیکچروں کا ایک وقف قائم کیا۔ بوائل لیکچرز (محاضرات بوائل) کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ مائیکل فیراڈے (Michael Faraday) برقی مقناطیسی میدان کے تصوّر کا بانی سینڈمینین (Sandemanians) نامی سخت پابند مذہبی تحریک کا رُکن تھا۔ اِسی طرح جیمس کلارک (James Clerk Maxwer 1831-1879)میکسویل الیکٹرو میگنیٹک تھیوری کا خالق، زندگی بھر عبادت گزار رہا۔ مینڈل ،جینیٹکس کا بابائے آدم خود ایک راہب تھا اور اس کے تجربات خانقاہ کے باغ میں ہوئے۔ لوئی پاسچر (Louis Pasteur) جرم تھیوری یعنی جراثیمی نظریہ کا بانی مذہب کا سخت پابند شخص تھا۔ گارجس لیمیٹر (Georges Lemaitre) بگ بینگ (Big Bang) کے مشہور نظریے کو پیش کرنے والا سائنسدان اپنے اصل پیشے کے اعتبار سے کیتھولک پادری تھا۔ یہ فہرست اور بھی طویل ہوسکتی ہے لیکن اس کی یہاں ضرورت نہیں۔ سوال یہ ہے کیا یہ سب کے سب لوگ ملحد تھے یا مذہبی تھے؟ یہ خدا پرست تھے یا خدا کے منکر تھے؟ اگر یہ خدا پرست تھے اور مذہبی تھے اس کے باوجود بھی یہ سائنس دان تھے تو الحاد کا یہ دعویٰ کہ الحاد کی ہی وجہ سے سائنس انقلاب آیا ہے، الحاد کی وجہ سے سائنس نے ترقی کی ہے اور الحاد کی وجہ سے جدید ترقی ممکن ہوئی ہے۔ یہ کسی طور بھی درست نہیں ہے۔
اَب اس سے آگے کی بات جو اکثر نظر انداز ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ یورپ میں جتنی تحریکیں اُٹھیں وہ سب کی سب مذہبی ماحول کے اندر اُٹھیں۔ مذہب کے خلاف نہیں تھی اور نہ ہی وہ کوئی ملحدانہ نہ تحریکیں تھیں۔ اس ضمن میں پہلی تحریکِ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی تھی جو چودہویں صدی سے 16 صدی تک جاری رہی۔ اس تحریک نشاۃ ثانیہ کا مقصد سائنسی و سماجی علوم کا احیا تھا خدا کا انکار ہر گز نہیں تھا۔ اس کے سب سے بڑے سرپرست خود کلیسا کا ادارہ اور مذہبی شہزادے تھے۔ مغرب میں برپا ہونے والی دوسری تحریک اصلاح مذہب (Reformation Movement) کی تحریک تھی، جو 1517 ءمیں آئی۔ یہ خالص مذہبی تحریک تھی جو مارٹن لوتھر (Martin Luther) نے برپا کی۔ اس کا جھگڑا کلیسا یعنی رومن کیتھولک سے تھا خدا سے نہیں تھا۔ اس تحریک سے الحاد پیدا نہیں ہوا بلکہ ایک اور عیسائی فرقہ وجود میں آگیا جسے ہم پروٹیسٹنٹ (Prostentism) کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک اور تحریک جس کو ہم سائنسی انقلاب (Scientific Revolution) کہتے ہیں یہ 16 سے 17 صدی تک جاری رہی۔ اس کے تقریباً تمام بانی صاحب ایمان تھے۔ ایک بھی علمی، فکری اور سائنسی تحریک ایسی نہیں جس کا مقصد الحاد کو قائم کرنا ہو بلکہ ان کا مقصد علم تھا اور علم اس زمانے میں عبادت کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ مغرب میں برپا ہونے والی اس پوری بحث میں واقعات کی ترتیب نہایت صحت کے ساتھ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ساری حقیقت اسی وقت ترتیب کے ساتھ سمجھ میں آسکتی ہیں جب تاریخیں ذہن میں مستحضر ہوں۔
اس کے مقابلے میں منظم الحاد کی بنیاد اٹھارہویں صدی کے اندر رکھی گئی۔ جبکہ ریاستی الحاد کے تو بیسویں صدی کے اندر آیا۔ جو چیز آخر میں آئی وہ اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتی جو اس سے 200 سال پہلے مکمل ہوچکی ہو۔
اَب ہم آتے ہیں الحاد کے سب سے اہم اعتراض کی طرف کہ تقدیر کے نام پر اہلِ مذہب اکثر بے عملی کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ملحدین اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ مذہب نے انسان کو بے عمل بنا دیا ہے۔ یہ الزام بظاہر صحیح نظر آتا ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے تمام مذاہب کے پیرو کاروں بشمول مسلمانوں میں یہ مرض کسی نہ کسی صورت میں بہرحال پایا جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مرض مذہب کی تعلیم ہے یا مذہب کے غلط تصوّر کی پیداوار۔ ہندوؤں اور عیسائیوں میں یہ نظریہ رہبانیت کی بنا پر آیا جبکہ مسلمانوں میں تقدیر پر قانع رہنے کا نظریہ ،تصوّف اور روحانیت کی غلط تعبیر و تشریح اور اصلی اہل اللہ یا اولیاء اللہ کے مقابلے میں جعلی صوفیا ء کی اُمت مسلمہ میں کثرت سے پذیرائی کی وجہ سے آیا ہے۔ اس غلط نظریہ کے مطابق سب کچھ خدا ہی نے کرنا ہے اور انسان نے بس خود کو تقدیر کے رحم و کرم کے اوپر چھوڑ کر اللہ کی وہ رضا حاصل کرنی ہے جس کا خود خدا نے بھی حکم نہیں دیا۔ ایک مثال سے اس بات کو اس طرح سمجھیں: ایک ڈاکٹر کسی مریض کے لیے دوا کانسخہ (Prescription) لکھتا ہے کہ دن میں تین بار یہ دوائی لیجیے گا اور ساتھ ہی ساتھ چہل قدمی کیجیے گا اور یہ یہ پرہیز بھی کیجیے گا۔ مریض دوا رکھ کربیٹھ جاتا ہے اور اسے استعمال نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ مجھے ڈاکٹر پر بھروسہ ہے۔ دوا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے مریض کا مرض بڑھتا چلا جاتا ہے اَب اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ؟ خود مریض؟ یا ڈاکٹر؟۔ اَب اس حوالے سے مذہب اسلام کا نسخہ کیا کہتا ہے۔ ذرا توجہ سے دیکھیے گا کہ قرآن کس طرح اپنے ماننے والوں کو سستی اور کاہلی چھوڑ کر اپنی حالتِ زار کو بدلنے کے لیے مسلسل جدوجہد اور کوشش پر اُبھارتا ہے:
... إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ... 13 1
اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت خود نہ بدلے۔
ایک اور جگہ پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے۔
وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى 39 2
انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
اسلام مسلمانوں کو زندگی گزارنے اور عمل کرنے کے لیے نہایت ہی با معنی الفاظ میں یہ دعا سکھاتا ہے:
... رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 2013
اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
آپ غور کیجیے کہ روزانہ پنج وقتہ نماز میں پڑھی جانے والی آخری دعا میں مسلمانوں کو یہ سکھایا اور سمجھایا جارہا ہے کہ وہ جس دنیا میں رہتے ہیں اس کے معاملات، ضروریات اور ذمہ داریاں پہلے ادا کرنی ہیں۔ اس کے بعد دوسری دنیا یعنی آخرت کی زندگی اور معاملات کی بہتری اور اچھائی کے لیے دعا کی تعلیم بعد میں دی گئی ہے۔ اس دعا کے پڑھنے اور سمجھنے کے بعد بھی کیا کوئی شخص دینِ اسلام کو اِس بات کے لیے مورودِ الزام ٹھہرا سکتا ہے کہ اپنے ماننے والوں کو بے عملی کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں سُست اور کاہل بننے کے لیے راہ فراہم کرتا ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ مذہب کی طرف سے مذہب کی غلط تعبیر کو مذہب کے کھاتے میں ڈال کر کوئی بھی شخص مذہب کی اہمیت کوخارج نہیں کرسکتا۔ یہ استدلال کا وہی اصول ہے جسے ملحد اپنے لیے تو استعمال کرتے ہیں مگر دوسرے کو دینے سے انکار کردیتے ہیں۔
اس حوالے سے ایک اور بنیادی بات یہ ہے کہ مذہب کبھی بھی سائنس کا متبادل (Substitute) بن کر آیا ہی نہیں۔ اس کا میدان ہی دوسرا ہے۔ سائنس اور مذہب دونوں کا میدان ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے جبکہ مذہب بتاتا ہے کہ اس میں انسان کو جینا کیسے اور کیوں چاہیے؟ یہ دونوں آپشن ایک دوسرے کے حریف نہیں ہیں بلکہ یہ دو الگ الگ سوال ہیں۔
آخر میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ الحاد عام طور پر مذہب پر شدّت پسند ہونے کا الزام لگاتا ہے اور مذہب کے حوالے سے یہ دلیل (Argument) پیش کرتا ہے کہ مذہب کے نام پر خون ریزی بہت ہوئی ہے قتل و غارت گری بہت ہوئی ہے یہ بات اگر ہم کسی حد تک درست مان بھی لیں تو اسی دلیل (Argument) کو ہم الحاد پر بھی اپلائی کریں گے۔ مثال کے طور پر سوویت یونین نے 1918ء میں مذہبی اداروں کی تمام جائیدادیں ضبط کیں۔ 1937ء میں اکیلے ایک سال میں 85000 ہزار عیسائی آرتھوڈوکس پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کا قتل کیا۔ روس میں انقلاب سے پہلے عیسائی گرجا گھروں کی تعداد 45000 اور مسجدکی تعداد 25000 تھی۔ روس کے کمیونسٹ اور اشتراکی انقلاب کے بعد گرجوں اور مسجدوں کی تعداد چند سو ہی باقی رہ گئی تھی۔
اَب آتے ہیں دو عالمی جنگوں کی طرف۔ پہلی جنگِ عظیم جو 1914ء سے 1918ء میں لڑی گئی اس میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ اموات ہوئیں۔ دوسری جنگ عظیم جو 1939ء سے 1945ء تک لڑی گئی اس میں سات سے آٹھ کروڑ ہلاکتیں ہوئیں۔ یعنی اس وقت کی مجموعی عالمی آبادی کا تین فیصد جنگ عظیم دوم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ یہاں ہم پوری دیانت سے یہ بات عرض کریں گے کہ یہ جنگیں جو لڑی گئی تھیں، ان کے محرکات، قوم پرستی، سامراج اور نسل پرستی پر مبنی رویے تھے۔ ہم اتنے بڑے پیمانے پر انسانوں کے قتل عام کا الزام الحاد پر نہیں لگارہے ہیں لیکن اصل نقطہ کچھ اور ہے کیونکہ یہ مذہبی جنگیں بھی نہیں تھیں۔ دونوں جنگوں میں انسانوں کے جان و مال کی بربادی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی تھی جسے جدید سیکولر قومی ریاستوں نے برپا کی۔ کروڑوں انسانوں کا خون ایک ایسے دور میں بہایا گیا جسے عقل اور سائنس کی صدی کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں میں جو ہتھیار استعمال ہوئے وہ لیبارٹری سے نکلے تھے کسی مسجد یا عبادت خانے میں تیار نہیں ہوئے تھے۔
لہٰذا یہ دعویٰ کہ مذہب انسان کا سب سے بڑا قاتل ہے تاریخ کے ریکارڈ کے سامنے قائم نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص جہاں الحاد سرکاری عقیدہ اور مذہب کے طور پر اختیار کیا گیا تو وہاں بات اس سے بھی آگے بڑھ گئی۔ وہاں انسانوں کا قتل عام صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ایک اعلانیہ منصوبے کے تحت مذہب مٹانے کے لیے ہوا۔ یہ فرق یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ الحاد ایک قاتل نظریہ ہے، ہرگز نہیں، ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو ترازو آپ مذہب کو تولنے کے لیے استعمال کررہے ہیں وہی میزان اپنے لیے بھی رکھیں۔ اگر مذہب ماننے والوں کے جَرائم مذہب کے کھاتے میں ڈالے جائیں گے تو الحاد کو ریاستی عقیدہ بنانے والوں کے جَرائم بھی الحاد ہی کے کھاتے میں لکھے جائیں گے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ وہ جَرائم ان کے اپنے تھے، الحاد کے نظریے کے نہیں تو ہم اسے قبو ل کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر آپ نے اپنی اصل دلیل خود واپس لے لی ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر انسان محض ایک مادے کا اتفاقی ڈھیر ہے تو انسانی جان کے محترم ہونے کی بنیاد کہاں سے آئے گی؟۔ اس سوال کے تناظر میں دوستو فسکی کے ناول کا وہ مشہور خیال یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر خدا موجود نہیں تو پھر ہر چیز جائز ہے۔
آخر میں ہم اپنی اس پوری تحریر کا خلاصہ چند الفاظوں میں یوں پیش کرتے ہیں۔
پہلی بات ؛علم اور سائنس کی ترقی کی ٹرین پہلے سے چل رہی تھی اور جدید سائنس کی بنیاد 17 ویں صدی میں مکمل ہوچکی تھی جبکہ منظم الحاد اس کے 200 سال کے بعد وقوع پذیرہوا ہے۔
دوسری بات؛ سائنس کے بانی اہل ایمان تھے مشرق میں ابن الہیثم اور ابن سینا، مغرب میں کوپرنیکس، نیوٹن، فیراڈے اور مینڈل میں سے ایک بھی ملحد نہیں تھا۔
تیسری بات؛ سماجی و تعلیمی ادارے مذہب نے بنائے، جامعات، اسپتال، کتب خانے، سب مذہبی وقف اور مذہبی سرپرستی میں قائم ہوئے۔
چوتھی بات؛ مغرب میں برپا ہونے والی تمام بڑی تحریکوں کی اصل حیثیت صرف اور صرف علمی و سائنسی تھی ملحدانہ ہر گز نہیں تھی۔ تحریکِ نشاۃ ثانیہ (Renaissance)، تحریک اصلاح مذہب (Reformation Movement )، سائنسی انقلاب (Scientific Revolution) سمیت دوسری تمام تحریکات کا مقصد خدا کا انکار نہیں تھا۔
پانچویں بات؛ بے عملی مذہب کی تعلیم نہیں یہ رہبانیت اور تصوف کی غلط تعبیر و تشریح کا نتیجہ اور پیداوار ہے۔ قرآنِ کریم کا حکم اور تعلیمات اس کے بالکل برعکس بلکہ اِس تصوّر اور نظریہ کی ضد ہے۔چھٹی بات؛ بیسویں صدی کا ریکارڈ الحاد کے حق میں نہیں ہے کیونکہ سب سے بڑی تباہی مذہبی جنگوں سے نہیں جدید سیکولر ریاستوں اور ریاستی الحاد کی ملحدانہ سوچ اور فکر سے ہوئی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کس کے پیروکاروں نے زیادہ غلطیاں کی ہیں بلکہ یہ کہ کون سا تصوّر انسان کے وجود، اخلاق اور مقصد حیات کی زیادہ جامع اور قابل دفاع وضاحت کرتا ہے۔ آخری بات جو ہم اِس سلسلے میں کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ خرد بین (Microscope) آپ کو یہ تو بتاسکتی ہے کہ خون کے ایک قطرے میں کیا کچھ ہےلیکن وہ آپ کو کبھی یہ نہیں بتا سکتی کہ اس کو بہانا کیوں غلط ہے۔ پہلا سوال سائنس کا ہے اور دوسرا سوال مذہب کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے انسان کو دونوں کی ضرورت ہے۔ ایک کو قبول کرکے دوسرے کا انکار کرنا خود اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست کا رَد کرنا ہے۔
ڈاکٹر عقیل، تہذیب و تقدیم ڈاکٹر حبیب الرحمن۔ (2026)الحادی دعوؤں کی حقیقت، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/ilhadi-dawon-ki-haqiqat