ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ہے اس کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ضروری ہوتا ہے۔ البتہ اُس مقصد کا علم اسے ہے یا نہیں ہے یہ خود انسان کی اپنی کوشش، کاوش، چاہت اور طلب پر منحصر ہے۔ زندگی کے مقصد کو جاننے اور پانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔ یہ عقل ہر باشعور انسان سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کا کوئی بھی کام کسی مقصد کے بغیر سَر انجام نہیں دے۔ مثلاً بازار یا سُپر مارکیٹ (Super Market) میں داخل ہونے والا شخص کسی نہ کسی چیز کو خریدنے کے لیے ہی بازار میں داخل ہوتا ہے۔ گوشت کی دکان پر کھڑا آدمی یا تو گوشت کی قیمت سے متعلق معلوم کررہا ہوگا یا پھر وہ اپنے مزاج، ضرورت اور چاہت کے موافق گوشت کی قیمت کی خریداری کررہا ہوگا۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ گوشت، سبزی، پھلوں اور روز مرہ کی ضروریات کی اشیاء پر مشتمل دکان پر کوئی آدمی ویسے ہی بلاوجہ کھڑا ہو یا پھر بازار یا مارکیٹ کے اندر بغیر کسی ضرورت اور مقصد کے تحت گھوم رہا ہو۔ چنانچہ جب ایک عقلمند آدمی چھوٹے سے چھوٹے کام کو بغیر کسی مقصد کے نہیں کررہا ہوتا ہے تو ایک باشعور آدمی اس بات کا لازمی ادراک رکھتا ہے کہ وہ آخر وہ اتنی بڑی آباد دنیا میں کیوں آیا ہوا ہے؟ جس کے اِرد گرد ایک نہایت ہی وسیع و عریض کائنات اِس طور پر موجود ہے کہ وہ اپنی ساری ضروریات اور سہولیات اِس دنیا سے محنت اور کوشش کرکے حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا انسان کی زندگی کا ہر دن اُسے زندگی کی مقصدیت کو سمجھنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اِس دنیا اور اس کے اِرد گرد پھیلی ہوئی کائنات میں موجود تمام مظاہرِ فطرت (Natural Phenomena) وسائلِ حیات اور موجودات و مخلوقات اُسے زندگی گزارنے میں دن و رات مدد فراہم کرتے ہیں۔ انسان جب غور و فکر سے کا م لیتا ہے تو اُسے اپنے لیے اِس دنیا کی زندگی اور اِس کی کشائش و مرغوبات کو مقصدِ حیات سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ زِندگی کے نشیب و فراز میں دنیا کی ہر شے اُس کی نگاہوں کے سامنے عروج کے بعد زوال، زوال کے بعد عروج اور پھر عروج کے بعد زوال کی شکل میں ڈھلتی نظر آتی ہے۔ دنیا کی ہر مادّی، لذیذ اور مرغوب (Attractive)شے جس کے حصول کے لیے انسان بسا اوقات سَر دھڑ کی بازی لگاتا ہے اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اُس کے حصول کے لیے صرف کرتا ہے۔ وہ چیز حاصل ہوجانے کے کچھ ہی لمحات یا مختصر عرصہ کے بعد اُ س کی نگاہوں میں بے لذّت اور بے رغبت ہوجاتی ہے۔
انسان کا ورلڈ ویو
یہ ایک عام مشاہد ہ ہے کہ دنیا میں آنے والاہر انسان زندگی گزارنے کے لیے ایک خاص نقطۂ نظر یا زاویۂ نگاہ رکھتا ہے۔ اِس خاص طرزِ فکر کو آج کی جدید اصطلاح میں انسان کا نظریۂ کائنات (World View) کہتے ہیں۔ انسان کا یہ ورلڈ ویو یا نظریہ ٔ کائنات کا مطلب یہ ہے کہ وہ اِس دنیا اور اِرد گرد پھیلی ہوئی کائنات کے بارے میں کیا سوچتا اور مانتا ہے؟۔ انسان خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی وہ کائنات اور دنیا کے بارے میں کوئی نہ کوئی نظریہ ضرور رکھتا ہے۔ جو لوگ بظاہر کسی عقیدے اور مذہب کو نہیں مانتے تو وہ بھی یہ ضرور مانتے ہیں کہ جو کچھ اِ س دنیا اور کائنات کے اندر وقوع پذیر اور موجود ہے۔ وہ خود بخود وجود میں آیا ہے۔ اِس نقطۂ نظر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کائنات کسی بنانے والے نے نہیں بنائی بلکہ کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی ہے۔ یہ عقیدہ بظاہر مذہبی عقیدے اور ایمان کے منافی ایک نظریہ ہے جسے دہریے (Atheists) کسی باقاعدہ مذہب یا مذہبی عقائد کے طور پر نہیں مانتے لیکن اپنی اصل میں الحاد و دہریت مذہبی عقیدہ کے برخلاف ایک مکمل لا مذہبی عقیدہ ہے۔ جو ہر قسم کے مذہبی عقیدے کو جھٹلاتا اور مسترد کرتاہے۔ اِس کے باوجود الحاد یا دہریت جسے انکارِ مذہب پر مبنی فکر اور نظریہ کہا جاتا ہے اَب بذاتِ خود ایک عقیدہ اور مذہب بن چکا ہے۔ یہاں یہ حقیقت واضح کرنا مقصود ہے کہ کوئی بھی انسان دنیا میں بغیر عقیدے اور ایمان کے زندگی نہیں گزار سکتا۔
ایمان کی ضرورت
اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو آخر کسی نہ کسی عقیدے کی ضرورت کیوں ہے اور انسان بغیر عقیدے کے کیوں زندہ نہیں رہ سکتا؟ تو اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ وہ شخص جو کسی گاڑی یا ریل گاڑی میں سوار ہورہا ہو یا اُس کا جہاز کے ذریعے سفر کرنے کا اِرادہ ہو تو اس سے لازماً یہ بات پوچھی جائے گی کہ وہ کہاں جانا چاہ رہا ہے؟ اِس کے جواب میں وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا ہے کہ میں کہیں نہیں جارہا ہوں۔ البتہ وہ لازماً یہ بتلائے گا کہ وہ کسی خاص جگہ، کسی خاص شہر (City)، قصبہ(Town) یا پھر گاؤں کی طرف جارہا ہے۔ اُس کی کوئی نہ کوئی منزل ضرور ہوگی اور اُس منزل کا کوئی نہ کوئی نام بھی ضرور ہوگا۔ وہ منزل قریب بھی ہوسکتی ہے اور دور بھی ہوسکتی ہے۔ یہ ضرور ممکن ہے کہ وہ مسافر اُس منزل کی طرف اپنی چاہت ، ضرورت یا مجبوری سے جارہا ہو ۔ بہرحال ہر وہ شخص جو سفر کرنے کے لیے کسی سواری پر سوار ہورہا ہے اُس نے اپنے دماغ میں بطورِ منزل کے کوئی نہ کوئی مقام یا جگہ ضرور بٹھائی ہوئی ہوگی۔ جس کی طرف وہ جانے کا ارادہ کرچکاہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ کبھی بھی کسی گاڑی، ریل گاڑی یاہوائی جہاز میں سوار نہیں ہوگا۔ ایسے ہی انسان جو اس دنیا میں آیا ہے تو اُسے یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ وہ دنیا کی اِس زندگی کی سواری میں بیٹھ کر کہا جارہا ہے۔ اُسے یہ بھی طے کرلینا چاہیے کہ اُسے آخر جانا کہاں ہے یعنی اُس کی منزلِ مقصود کیا ہے؟ اگر وہ یہ کہے کہ مجھے کہیں نہیں جانا تو اُسے بتلایا جائے گا کہ تم جس زندگی پر سوار یہاں اِس دنیا میں آئے، ہو تم چاہو یا نہ چاہو لیکن تم نے لازماً ایک منزل کی طرف اسی طرح محوِ سفر ہوجانا ہے جس طرح دنیا میں آئےہوئے ہر شخص نے زندگی گزار کر موت کے رستے اپنی اگلی منزل کی طرف روانگی اختیار کرنی ہے۔ انسان کے لیے انتقال کے بعد وہ منزل آخرت (Hereafter) کی منزل ہے۔
حقیقی منزل کی تیاری
آخرت کی جس منزل کی طرف انسان نے لازماً جانا ہے تو اس طرف اندھا دھند چھلانگ نہیں لگائے گا بلکہ جانے سے پہلے یہ دیکھے گا کہ وہاں وہ کتنے عرصے کے لیے جارہا ہے۔ اِسے وہاں کن کن چیزوں کی حاجت و ضرورت ہوگی۔ کھانا پینا، رہنا سہنا، اُٹھنا بیٹھنا، خرچ کرنا اور دوسرے معاملات کیسے سَر انجام دیئے جائیں گے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہر منزل جس کی طرف انسان سفر کرتا ہے وہاں کی کرنسی مختلف ہوا کرتی ہے۔ جس طرح دنیا میں کوئی کام بغیر پیسے کے نہیں ہوتا ویسے ہی آخرت کی اپنی ایک کرنسی ہے۔ اُس کرنسی کی موجودگی کے بغیر آخرت کے سفر کو اختیار کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا دنیا میں کسی منزل کی طرف بغیر سوچے سمجھے صرف خالی جیب کے ساتھ چھلانگ لگانا ہوتا ہے۔ خالی جیب کے ساتھ کسی بھی جگہ انسان مانگ تانگ کر ایک دو دن گزارا کرسکتا ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوتا کہ آپ مدّتِ درا ز کے لیے کسی طرف جانے کی تیاری کریں اور اس سفر پر روانگی کے وقت خالی ہاتھ ہوں۔ انسان لازماً اپنے ساتھ زادِ راہ کے طور پر کچھ نہ کچھ جمع کرکے ہی سفر کے لیے سواری پر سوار ہوتا ہے۔ آخرت کی وہ کرنسی جس کی وہاں قدر اور اہمیت (Important)ہے کوئی مادّی چیز یا دنیاوی دولت نہیں ہے بلکہ وہ صحیح ایمان، درست عقیدہ اور عمل صالح ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرت کی ابدی و دائمی زندگی میں کامیابی کے لیے وہ کیا تیاری کرے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں مسلسل کچھ سوالات بار بار آتے اور اُبھرتےہیں کہ میں کون ہوں؟ میری حقیقت کیا ہے؟ میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ یہ سوالات وقفے وقفے سے انسان کے لوح ذہن پر بار بار اسے اپنی اصل منزل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اور آخرت کے حوالے سے اِسے شعوری طور پر بیدار رکھنے کے لیے اُبھرتے ہیں۔ اگر کوئی انسان یہ دعویٰ کرے کہ ہمارے ذہن میں اس طرح کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک بے شعور انسان ہے یا پھر زندگی کی حقیقتوں اور سچائیوں سے اُس نے اپنے آپ کو جان بوجھ کر غافل رکھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔پھر اس کے والدین اور (اِرد گرد کا ماحول) اُسے مجوسی، یہودی اور عیسائی بنادیتا ہے۔1 انسان کی پیدائش اللہ تعالیٰ حکم کے مطابق ایمان پر ہوتی ہے لیکن یہ بچہ جس ماحول میں آنکھیں کھولتاہے آہستہ آہستہ وہ اُن عقائد، اعمال اور معاملات کو اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔
مقصدِ زندگی کی تلاش
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو دنیا میں آنے کے بعد سیکھنے کا عمل شروع کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جانور اپنی پیدائش کے بعدہی وہ سارے کام شروع کردیتے ہیں جو ان کی بقاء کے لیے ضروری ہیں۔ بکری کا بچہ اپنی پیدائش کے پندرہ منٹ بعد چلنا شروع کردیتا ہے اور تقریباً ایک گھنٹے کے بعد دودھ پینا شروع کردیتا ہے۔ مچھلی کابچہ اپنی پیدائش کے فوراً بعد تیرنا شروع کردیتا ہے۔ اِس کے مقابلے میں انسان اپنی پیدائش کے بعد صرف روتا ہے۔ اُسے بھوک لگے یا پیاس ستائے یا پھر کوئی اور تکلیف لاحق ہو تو وہ صرف رو سکتا ہے بتا نہیں سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُسے چلنا پھرنا، اُٹھنا بیٹھنا سکھایاجاتا ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنے بچپن اور لڑکپن کے اَدوار سے نوجوانی اور عقل و شعور کی عمر میں داخل ہوتا ہے اور چیزوں کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس کوشش میں اُس کا ذہن خود اپنے وجود کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اِس بھری دنیا اور رنگ برنگی کائنات میں میری حیثیت کیا ہے؟ اور میں کون ہوں؟ جب وہ یہ سوال اپنے آپ سے پوچھتا ہے تو لازمی طور پر دوسرا سوال جو اُس کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ وہ اپنے آپ سے یہ سوال اس لیے پوچھتا ہے تاکہ وہ اِس بات کا تعیّن کرسکے کہ اپنی صبح و شام کام کرنے،آرام کرنے، کھانے،پینے، گھومنے، پھرنے، سیر و تفریح کرنے، کھیل کودکرنے، کمانے اور تجارت کرنے، ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے، معاملاتِ حیات کو نمٹانے اور مسائلِ دنیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے آیا ہے یا پھر اِس کی زندگی کا کوئی دوسرا ایسا مقصدہے جسے وہ نہیں جانتا حالانکہ یہی اس کی اندرونی طلب برائے حصولِ مقصدِ حیات اس کی زندگی کی اصل غرض و غایت ہے۔
انسان کی دوسری زندگی کی حقیقت
اِس سوال کے بعد اگلا سوال جو انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے اِس دنیا سے رُخصت ہوجانے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوگا؟ کیا میں مٹی میں مل کر مٹی ہوجاؤں گا؟ یا مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے گا تاکہ میری دنیا کی زندگی کے خیر و شَر کاحساب مجھ سے لیا جاسکے۔ مر کر دوبارہ جی اُٹھنا بظاہر ایک ناممکن عمل نظر آتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے جب اہلِ مکہ کو اِس بات پر ایمان لانے کی دعوت دی کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوناہے۔ تاکہ اللہ کے حضور اپنی زندگی کے اعمال کا حساب اور جواب دیا جاسکے۔ انسان کو وہاں اچھائی کے بدلے جنّت اور بُرائی کے بدلے جہنّم دی جاسکے تو ایک کافر، عاص بن وائل حضورﷺ کی خدمت میں ایک بوسیدہ ہڈی لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ کیا اللہ تعالیٰ اِس پُرانی اور بوسیدہ بلکہ گلی سڑی ہوئی ہڈی کو دوبارہ زندہ کردے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو دوبارہ زندگی عطا کرے گا، تجھ کو موت دے گا اور پھر تجھ کو زندہ کرے گا اور پھر تجھ کوجہنم کی آگ میں داخل کردے گا۔ 2 اِسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ جو ابی بن خلف کا ہے وہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک پرانی اور بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور کہنے لگا یا محمد! (ﷺ) کیا آپ ہمیں اس سے ڈراتے ہیں کہ جب یہ ہڈیاں بوسیدہ ہوکر گل سڑ جائیں گی تو خدا ہم کو نئی زندگی دے کر دوبارہ پیداا کرے گا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی اس ہڈی کو چورا چورا کرکے اس کا برادہ ہوا میں اڑادیا اور کہنے لگا: اے محمد (ﷺ) اس کو کون زندہ کرے گا؟ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو زندہ کرے گا اور تجھ کو جہنم میں ڈال دے گا، دنیا کی زندگی کے بعد دوسری دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار اور قدرت کو ایک اور طریقہ سے واضح فرمایا ہے، وہ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور نطفہ انسان کی منی کی ایک بوند ہے جس کے اگر اجزاء فرض کیے جائیں تو وہ سب مساوی اور متشابہ ہیں، پھر اس سے انسان کو بنایا جس میں خون بھی ہے، گوشت بھی ہے، بال بھی ہیں اور رگیں اور پٹھے بھی ہیں اور ہڈیاں بھی ہیں، اگر نطفہ میں مختلف اجزاء ہوتے تو کہا جاسکتا تھا کہ فلاں جزء سے خون بن گیا اور فلاں جز ء سے گوشت بن گیا اور فلاں جز سے رگیں اور پٹھے بن گئے اور فلاں جزء سے بال بن گئے اور فلاں جزء سے ہڈیاں بن گئیں، لیکن یہاں پر تو اس پانی کی بوند کے اجزاء ایک جیسے ہیں ان سے یہ مختلف چیزیں کیسے وجود میں آگئیں، پھر زبان بھی گوشت کا ٹکڑا ہے، زبان میں لمس اور ذائقہ کی حس ہے اور ناک میں سونگھنے کی ایک ٹکڑے میں ایک جگہ ایک اثر ہے اور دوسری جگہ اسی طرح ایک ٹکڑے میں اس سے مختلف اثر ہے، آنکھ میں بھی چربی ہے اور انسان کے جسم میں بھی چربی ہے، ایک چربی سے دکھائی دیتا ہے تو دوسری چربی سے کیوں دکھائی نہیں دیتا، تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس قادر و قیوم کی قدرت اور اس کی حکمت ہے کہ وہ گوشت کے جس ٹکڑے سے چاہے سُنوادے، جس سے چاہے گویائی کرادے جس سے چاہے سونگھنے کے اثرات پیدا کردے، جب انسان اپنے اعضاء میں غور کرے تو ہر عضو کے خواص اور اس کے اثرات اللہ تعالیٰ کی قدر ت کو ظاہر کرتے ہیں تو دوبارہ ایسے ہی انسان کو پیدا کرنے کو تم کیوں اس کی قدرت سے بعید سمجھتے ہو کیا اس نے تم کو پانی کی ایک بے جان بوندھ سے نہیں بنایا، پھر جب تم بے جان ہوجاؤگے تو وہ تم کو کیوں نہیں بناسکے گا، کیا اس نے تم کو مٹی سے نہیں بنایا تو جب تم مرکر مٹی ہوجاؤگے تو وہ تم کو کیوں نہیں بناسکے گا۔ 3
مقدّس صحیفوں اور انبیاء و رسل کی تعلیمات میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ مرنے کے بعد کسی بھی حالت میں ہو اللہ تعالیٰ اس بات پر مکمل طور پر قادر ہے کہ اُسے دوبارہ زندہ کردے۔ گھاس پھونس اُگنے کے کچھ عرصے کے بعد دھوپ یاگرمی کی وجہ سے اکثر اوقات جل کر ختم ہوجاتی ہے لیکن ایک ہی بارش برسنے کے بعد اس مردہ اور فنا کے گھاٹ اُتری ہوئی گھاس میں دوبارہ زندگی اس طور پر پیدا ہوجاتی ہے کہ گھاس کے جلے ہوئے کھیت اور زمینی ٹکڑے سر سبز و شاداب ہوکر اس طرح لہلہانے لگ جاتے ہیں گویا کہ مردہ اور بے روح جسم میں روح دوبارہ لوٹادی گئی ہو۔ اسی طرح مرا ہواانسان جب اس کے جسم میں روح کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا تو وہ از سر نو جیتاجاگتا اور متحرک انسان بن جائے گا۔
اس انسان کو بے مقصد زندہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی دنیاوی زندگی میں اچھے اور بُرے اعمال کی وجہ سے جنّت یا جہنّم میں داخل کرنے کے لیے اس کے اعمال کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ انسان دنیا میں جب اپنی زندگی گزارتا ہے تو اس کے عقائد، اعمال، افعال، اَخلاق، کردار، سیرت اُس کے لیے جنّت یا جہنّم میں اس کی حیثیت کو کنفرم (تصدیق) کردیتے ہیں۔ اچھے اعمال اس کے جنت میں داخلے کی ضمانت جبکہ بُرے اعمال اس کے جہنّم میں پھینکے جانے کا سبب بن جاتے ہیں۔ لہٰذا کوئی انسان اگر یہ خیال کرے کہ مرنے کے بعد اس نے فنا کے گھاٹ اتر کرکے ختم ہوجانا ہے اور دنیا کی اس زندگی کے بارے میں وہ کسی جواب دہی کے تصوّر سے بے نیاز ہوکر وہ زندگی گزارتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی پر مبنی نظریہ ضرور ہوسکتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دنیا کی زندگی میں یا تو وہ جنّت کی سواری پر سوار ہے یا پھر اس نے اپنے لیے جہنّم کی سواری کاانتخاب کر رکھا ہے۔ اس بات کو حدیث میں رسولِ کریمﷺ نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے:
عن علي رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم في جنازة، فأخذ شيئا فجعل ينكت به الأرض، فقال: (ما منكم من أحد، إلا وقد كتب مقعده من النار ومقعده من الجنة)۔ قالوا: يا رسول الله، أفلا نتكل على كتابنا وندع العمل؟ قال: (اعملوا فكل ميسر لما خلق له، أما من كان من أهل السعادة فييسر لعمل أهل السعادة، وأما من كان من أهل الشقاء فييسر لعمل أهل الشقاوة۔ ثم قرأ: {فأما من أعطى واتقى۔ وصدق بالحسنى})4
حضرت علی فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک جنازے (کی تدفین) میں موجود تھے، آپﷺ نے اپنے ہاتھ میں کوئی چیز (جیسے کوئی لکڑی یا تنکا) لیا اور اس سے زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کا ٹھکانا جہنم میں یا اس کا ٹھکانا جنت میں نہ لکھ دیا گیا ہو۔صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا پھر ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھ نہ جائیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں؟آپ ﷺنے فرمایا: تم عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہی عمل آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ جو شخص اہل ِسعادہ(خوش بختوں) میں سے ہوگا، اس کے لیے خوش بختوں والے کام آسان کر دیے جائیں گے، اور جو شخص اہلِ شقاء (بدبختوں) میں سے ہوگا، اس کے لیے بدبختوں والے کام آسان کر دیے جائیں گے۔ پھر آپ ﷺنے یہ آیات تلاوت فرمائیں:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى 5 وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى 6 فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى 7 وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى 8 وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى9 5
پس جس نے (اپنا مال اﷲ کی راہ میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی، اور اس نے (اِنفاق و تقوٰی کے ذریعے) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کی تصدیق کی، تو ہم عنقریب اسے آسانی (یعنی رضائے الٰہی) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے، اور جس نے بخل کیا اور (راہِ حق میں مال خرچ کرنے سے) بے پروا رہا، اور اس نے (یوں) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کو جھٹلایا، تو ہم عنقریب اسے سختی (یعنی عذاب کی طرف بڑھنے) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے (تاکہ وہ تیزی سے مستحقِ عذاب ٹھہرے)۔
انسان کی زندگی کے اہم سوالات
عالمِ آخرت میں دنیاوی زندگی سے متعلقہ سوالات کی جواب دہی کے امتحان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر انسان ان تین سوالات کے بارے میں صحیح علم حاصل کرے۔
پہلا سوال: انسان کو اپنے بارے میں یہ جاننا کہ میں کون ہوں؟ کیوں ہوں؟ اور میرا کیا ہوگا؟
دوسرا سوال: انسان جب شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اُسے اس کائنات کے اندر سورج، چاند، ستارے، سیارے، کہکشائیں، چرند، پرند، جمادات و نباتات اور طرح طرح کی مخلوقات نظر آتی ہیں تووہ فوراً سوال کرتا ہے کہ یہ دنیا اور اور یہ کائنات کیا ہے؟ اسے کیوں بنایاگیا؟اس کاانجام کیاہوگا؟ اور انسان کا اس کائنات کے ساتھ تعلق کیاہے؟
تیسرا سوال: انسان کے ذہن میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ میرا، اس کائنات کا اور اس میں موجود مخلوقات کا بنانے والا (خالق) کون ہے؟
اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ زندگی کے ان اہم ترین سوالات کے صحیح جوابات انسان کو کہاں سے ملیں گے؟ یہ جوابات انسان کو کون بتائے گا؟ اس کا صحیح علم اُسے کس ذریعے سے حاصل ہوگا؟
اس بات کا بظاہر آسان جواب یہ ہے کہ انسان کو یہ سارے جوابات علم کے حصول کے ذریعے ہی حاصل ہوں گے۔ اگر اس کے پاس علم اور وہ بھی قابلِ اعتماد ذریعہ سے حاصل شدہ علم نہیں ہے تو پھر اس کے سارے جوابات یا مشکوک ہوجائیں گے یا پھر ناقص رہ جائیں گے۔ علم کے حصول کے لیے آج تک انسان نے جن ذرائع پر اعتماد کیا ہے انہیں ذرائع علم (Sources of Knowledge) کہا جاتا ہے۔ انسان کے لیے ذرائع علم تین ہیں۔ با الفاظِ دیگر انسان تین طرح سے علم کو حاصل کرتا ہے۔
ذرائع علم
- پہلا ذریعہ (Five Senses) علم حواسِ خمسہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دیکھنے، سننے، محسوس کرنے، چکھنے اور سونگھنے سے متعلقہ علم حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ کسی چیز کا اچھا یا بُرا نظر آنا، آواز کا کم یا زیادہ یا با معنی اور بے معنی ہونا، ٹھنڈا یا گرم ہونا، کسی چیز کا میٹھا یا کٹھا ہونا، کھارا یا کڑوا ہونا، خوشبو یا بدبو کا ہونا ان سب کا تعلق حواسِ خمسہ سے ہے جو انسان کے لیے علم کے حصول کے لیے پہلا اور بنیادی ذریعہ ہے۔
- دوسرا ذریعہ علم انسانی عقل ہے۔ عقلِ انسانی فہم و فراست کا مرکز ہے۔ انسان دنیاوی زندگی میں اپنی مادّی ضروریاتِ اور منفعت کی تکمیل کے لیے جو کچھ سوچتا یا غور و فکر کرتا ہے تو عموماً اُسے اپنا مدعا و مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک گاڑی چلانے والا جیسے ہی گاڑی چلاتے ہوئے کسی سگنل پر پہنچتا ہے اور وہاں سُرخ بتی جل رہی ہو تو وہ اپنی گاڑی کو روک لیتا ہے۔ اسی طرح اگر گاڑی چلاتے ہوئے اس کے سامنے سبز بتی جل رہی ہو تو وہ اپنی گاڑی کو نہیں روکتا اور اگر پہلے سے سرخ بتی پر رُکا ہوا ہو تو سگنل کی بتی کے سبز ہونے کے ساتھ ہی وہ رُکی ہوئی گاڑی کو چلا دیتا ہے۔ سگنل کی سرخ بتی پر رُکنے اور سبز بتی پر چلنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے اپنے ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے جو نظام بنایا ہے اُس کے مطابق آپ نے سرخ بتی (Red Light)پر چلنانہیں اور سبز بتی (Green Light)پررُکنا نہیں۔ انسان اس پورے نظام کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل سے کام لیتا ہے۔ اسی طرح دنیاوی زندگی کے بہت سارے دوسرے سیاسی، معاشی، معاشرتی، قانونی، بین الاقوامی، سائنسی مسائل انسان خود اپنی عقل کے صحیح استعمال کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انسان کی ایجادات، انکشافات اور کامیابیاں عقل کے صحیح استعمال کے مرہونِ منّت ہیں۔ عقل کا صحیح استعمال ہی ہے۔ جس نے انسان کو تہذیب و تمدّن کی روشنی سے ہمکنار کیا اور آداب و اقدار سے وہ روشناس ہوا۔ تمام انسانی، نفسی، طبّی، معاشرتی، نفسیاتی اور انتظامی امور کے میدان میں جو ترقیاں اس وقت ہورہی ہیں وہ بھی عقلِ انسانی کے صحیح استعمال کانتیجہ ہے۔ انسان کے مقابلے میں باقی تمام مخلوقات اگرچہ کہ اپنی سُرعتِ رفتار، قوّت، طاقت، ہمت، شجاعت اور بعض صورتوں میں جسمانی ساخت کے لحاظ سے بھی بے پناہ مضبوط ہیں لیکن یہ تمام مخلوقات آج بھی اُسی طرح زندگی گزار رہی ہے جس طرح آج سے ہزاروں سال پہلے ان کے کھانے، پینے، رہنے، سہنے، چلنے پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے کے طور طریقے ہوا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل نہ ہونے کی وجہ سے ان میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا داعیہ بالکل موجود نہیں ہے۔ - تیسراذریعہ علم وحی الٰہی ہے۔ جس طرح انسان اپنے بہت سارے مسائل حواسِ خمسہ اور عقل کے صحیح استعمال کے ذریعے حل کرتا ہے لیکن بعض امور اور حقائق ایسے ہیں جن تک انسانی حواسِ خمسہ اور عقل کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ مثلاً زندگی کا مقصدِ حقیقی، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی معرفت، اللہ تعالیٰ کی چاہت اور مرضی، پیغمبروں پر نازل کردہ وحی کی حقیقت، دوسری دنیا یعنی آخرت کا تصوّر، انسان کے مرنے کے بعد معاملات، جنّت اور جہنّم کی حقیقت، اَبدی زندگی کا عقیدہ اور دوسرے تمام غیبی حقائق کے بارے میں علم وغیرہ۔۔۔
وحی الٰہی کی حقیقت
وحی الٰہی اُن تمام غیبی امو ر کے بارے میں خبر دیتی ہے کہ جن کے بارے میں انسانی عقل صرف اور صرف ظن اور تخمینہ (Speculation) پر مبنی علم رکھتی ہے۔ غیبی امور اور حقائق کا یہ دائرہ حواسِ خمسہ اور عقل کی دستر س سے باہر ہے۔ لہٰذا نہ فلسفی اور نہ ہی سائنسدان ان حقائق کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں جو ان کی دسترس سے ماورا ہیں۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ نے کائنات کو کیوں تخلیق فرمایا؟ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتا ہے؟ عبادت کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ انسان کیوں مرجاتا ہے؟ مرنے کے بعد انسان کے ساتھ کیاہوگا؟ کیا یہ دنیا ہمیشہ قائم رہے گی یا ایک دن فنا کے گھاٹ اُتر جائے گی؟ حلال اور حرام کی حقیقت کیا ہے؟ خیر اور شَر کسے کہتے ہیں؟ ثواب اور عذاب کا فلسفہ کیا ہے؟ جنّت اورجہنّم کی حقیقت کیاہے یہ سارے انسانی زندگی کے وہ اہم ترین سوالات ہیں جن کا حتمی اور حقیقی جواب نہ فلسفہ کے پاس ہے اور نہ ہی سائنس کے پاس۔ البتہ جتنے انبیاء و رسل مختلف زمانوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں تشریف لائے انہوں نے اپنی طرف سےکوئی بات کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کی روشنی میں نہایت تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ان سوالات کے جوابات دیئے۔ ان انبیائے کرام کی صداقت اور امانت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے برحق پیغمبر ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ ان تمام پیغمبروں کی پیش کردہ ہدایت (Guidance)اور ان سوالات کے جوابات بالکل یکساں ہیں۔
مذکورہ بالاسوالات کے وہ جوابات جو ہدایت ربّانی اور وحی الٰہی کی روشنی میں ہر دور کے انبیاء اور رسل نے انسانوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے عطا فرمائے۔ ان کو قبول اور رَد کرنے کی صورت میں انسان د و گروہ میں بٹ جاتے ہیں۔ پہلا گروہ اہلِ ایمان کاہےجو انبیاء کے پیش کردہ ہدایت اور حقائق کو بغیر کسی شک و شبہے کے قبول کرلیتے ہیں۔ جبکہ دوسرا گروہ ان افراد پر مشتمل رہا ہے جنہوں نے وحی الٰہی اور ہدایتِ باری تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی عقل اور خود وضع کردہ افکار و نظریات کی روشنی میں راہِ ہدایت اور منزلِ حیات مقرر کرنے کی کوشش کی۔ ایسے لوگ خواہ وہ تعداد میں کم رہے ہوں یا زیادہ جنہوں نے اپنی عقل کے ذریعے زندگی کے معنی و مفہوم کو اخذ کرنے کی کوشش کی ہے ان سب نے اپنے لیے مقصدِ حیات کو اپنے اپنے حالات سے متاثر ہوکر متعین کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عقل پَرستوں کا ہر گروہ اپنا فلسفہ زندگی، مقصدِ حیات، طرزِ زندگی، تصوّر کائنات، تصوّر الہ، تصوّرِ انسان پہلے گروہ کے مقابلے میں بالکل مختلف رکھتا ہے۔ اہلِ ایمان کا گروہ مبنی برحق گروہ اس لیے ہےکہ وہ اپنے لیے کسی طرزِ زندگی اور مقصدِ حیات کا انتخاب خود نہیں کرتے بلکہ اس انتخاب کو خالق و مالک کا حق مان کر اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کے طریقے کو قبول کرتے ہیں۔
مذہب کی ضرورت
مذہب کی ضرورت کے حوالے سے جس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی شاہکار مخلوق (Master Piece of creation) ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی پیچیدہ مخلوق بھی ہے۔ دنیا کا دستور ہے کہ مختلف اقسام و انواع کے برقی و غیر برقی آلات کو استعمال کرنے کے لیے اُس کے ساتھ ایک ہدایت نامہ(Instruction Manual) دیا جاتا ہے۔ تاکہ کسی بھی آلے کو صحیح استعمال کرکے خرابی سے بچایا جاسکے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک جدید موبائل یا لیپ ٹاپ خریدتا ہے تو اس کے ساتھ باقاعدہ تحریری ہدایت نامہ (User Guide)دیا جاتا ہے جس کے ذریعے اِن آلات کو اُس طرح استعمال کرنے کے لیے رہنمائی ملتی ہے جس طرح انہیں بنانے والے نے کسی مخصوص کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا ہوا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس ہدایت نامہ میں درج شدہ رہنما ہدایت کے مطابق ان آلات کو استعمال کرنے کے بجائے اپنی منشاء و مرضی سے استعمال کرنے پر مُصر ہو تو وہ لازماً نہ تو اپنے مقصود کو پاسکے گا اور نہ ہی اِن آلات کو مناسب طریقے سے استعمال کرکے متوقع نتائج حاصل کرپائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی اِس پوری کائنات میں انسان اُس کی وہ تخلیق ہےجسے اُس نے ہزاروں مختلف اوصاف و صفات (Functions) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسان نے کب، کیوں اور کیسے اُسے اپنے تمام فنکشنز کو روبہ عمل لانا ہے اور کس طرح اُسے دنیا میں اپنی زندگی گزارنی ہے۔ یہ ہدایات اُسے دنیا کی کسی دکان، سپر مارکیٹ، فلسفی کی فکر دانشور کے کے افکار و نظریات یا پھر اس کی ایجادات میں دستیاب نہیں ہوسکتی۔ انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لیے ہدایت دینے کا حق اُس کے خالق کا ہے کیونکہ اُس نے انسان کو ایک خاص مقصد کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ وہ مقصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک انسان کو اپنے خالق کی منشاء اور مرضی کے بارے میں حقیقی علم حاصل نہ ہو تاکہ دنیا کی زندگی میں وہ دَر بدر بھٹکنے اور گمراہ ہونے سے بچ سکے۔ یہ رہنمائی اِس طرح ہونی چاہیے کہ انسان اپنی پیدائش سے لے کر موت تک اپنے خالق کے ما سواء کسی اور کی ہدایت یا رہنمائی کا ضرورت مند نہ رہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود انسانوں کے درمیان مختلف زمانوں اور مختلف اقوام اور مختلف خطّوں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ اِن انبیاء کرام میں سے بعض پر وحی کے ذریعے ہدایت نازل فرمائی۔ اِس آسمانی وحی کو ہم کُتبِ مقدّسہ(Sacred Books) یا صحفِ سماوی (Holy Scriptures)کہتے ہیں۔ آسمانی وحی(Divine Revelation) کے سلسلے کی آخری جامع اور کامل ہدایت قرآنِ کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی۔
واضح رہے کہ تمام آسمانی کُتب اور صحف کا مرکزی اور بنیادی پیغام ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جسے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا کرکے بھیجا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر، انبیائے کرام علیہم السلام کی صداقت و امانت پر اور آخرت میں مرنے کے بعد یا دوبارہ جی اُٹھ کر اللہ کے حضور حاضر ہونے اور اپنی دنیاوی زندگی کا حساب و کتاب دے کر جنّت اور دوزخ میں داخل ہونے پر ایمان رکھے۔ مرنے کے بعد کی زندگی کو انسان نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کیا ہے لیکن اُس کی عقل اور وحی الٰہی دونوں اِس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ہم سب نے مرنے کے بعد زندہ ہوکر اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ عالمُ الغیب کی حقیقت سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اِس طور پرآگاہ کیا ہے وہاں کے جملہ معاملات ہمارے سامنے وحی الٰہی کی صورت میں موجود ہیں۔ بہت ساری چیزیں بسا اوقات ایسے ہوتی ہیں کہ وہ وقتی طور پر قابلِ مشاہدہ نہیں ہوتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتا چلا جاتا ہے۔ آج اگر ایک بیج کو دیکھا جائے تو اس میں سے نکلنے والے پودے، درخت، پھول، پھل اور دوسرے حصے انسان کے لیے قابلِ مشاہدہ نہیں ہوتے۔ کیونکہ یہ سب مستقبل کا معاملہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر ایک مردہ بیج کے اندر اُسے زمین میں بو دینے کےے بعد زندگی کی رمق اور حرارت پیدا کرسکتا ہے اور اس مردہ بیج کو زندہ کرکے اس میں سے جیتا جاگتا، پھلتا پھولتا پودا اور درخت برآمد کرسکتا ہے تو وہ انسان جو زمین پر ایک عرصہ دراز تک زندہ، متحرک، باشعور اور ایک نہایت ہی عقل مند مخلوق کی صورت میں موجود رہتا ہے اُسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے میں آخر کون سی چیز رُکاوٹ بن سکتی ہے۔ دنیا کے اندر انسان نہ تو خود بخود وجود میں آیا ہے اور نہ ہی وہ کسی ارتقائی عمل (Evolution)کے ذریعے اس موجودہ شکل و صورت اور وضع و قطع تک پہنچا ہے۔ وہ پہلے دن سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار اور اُس کا خلیفہ فی الارض ہے۔
خالقِ کائنات کی حقیقت
دنیا میں کوئی بھی چیز خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو خود بخود وجود میں نہیں آتی بلکہ اُسے کوئی نہ کوئی تخلیق کرتا ہے۔ گھر میں موجود اِنرجی سیور، بلب، پنکھے، صوفہ سیٹ، بیڈ، گدّے، تکیے، چادریں، قالین، الماریاں، کرسیاں، ٹیبل، برتن، اوزار، ہاتھ کی گھڑیاں، موبائل فون، لیپ ٹاپ سمیت نہایت معمولی قیمت کی سلائی کی سوئیاں، بال پین، پینسلیں، کاغذ، کاپیاں، کتابوں سمیت وہ تمام اشیاء جنہیں ہر انسان صبح سے شام تک استعمال کرتا ہے۔ اس کے بنانے والوں کو نہ جاننے کے باوجود ہر شخص کھلے دل سے مانتا ہے ایسا کوئی شخص آپ کو دنیا میں نہیں مل سکتا جو اِن اشیاء کے بنانے والوں کے یا اُن کے اِن اشیاء کے بنانے کے مقصد کو انکار کرسکیں۔ لہٰذا انسان سمیت اس پوری کائنات کے خالق و مالک کا اِنکار کرنا اور اِس کائنات کو خود بخود بغیر کسی خالق اور مالک کے موجودہ شکل میں وقوع پذیر ہونے کا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کے اس بے بنیاد اور ملحدانہ اعتقاد کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ ایک جگہ پر روشنائی (Ink) رکھی ہوئی تھی اور ساتھ ہی بہت سارے کاغذ رکھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک دھماکہ ہوا اور دھماکے کے بعد وہ شخص کہے کہ میں وہاں پہنچا تو دیکھا ایک نہایت ہی خوبصورت ڈکشنری بن کر تیار ہوگئی ہے۔ ایسے شخص کی بات سن کر ہر عقل مند آدمی سوائے مسکرانے اور اس طرح کے دعوے کو نظر انداز کرنے کے کچھ نہیں کرسکتا۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کسی ڈکشنری میں تمام الفاظ کے معنی و مفہوم حروفِ تہجی کی شاندار ترتیب اور تنظیم کے نتیجے میں مرتب کی جاتی ہے اُ س سے بھی زیادہ منظم اور مربوط یہ کائنات ہے۔ جس میں ہر ایک چیز نہایت ہی با مقصد اور نہایت نظم و ضبط کی (Perfect design)حامل ہے۔ موجودہ کائناتی نظام کے اندر اگر نہایت باریک سی بدنظمی وقوع پذیر ہوجائے تو اُس کے اس قدر بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کہ کم از کم درجے میں دنیا میں رہنے والے تمام انسان فناء کے گھاٹ اُترسکتے ہیں۔ سورج اور چاند کا زمین سے فاصلہ، دنیا میں موجود سمندروں کے اندر پانی کی سطح میں پیدا ہونے والے مدّ و جزر کا مقررہ حدود میں رہنا، بارش کی صورت میں بادلوں سے اُترنے والے صاف پانی کی مقدار، زمین پر موجود گلیشئروں، چشموں، نالوں، صاف پانی کے ندی نالوں اور کنوؤں کے ذریعے انسانی آبادی کی ضرورت کے لحاظ سے صاف پانی کی فراہمی، دنیا میں موجود انسانوں کی ضرورت کے لحاظ سے پھلوں سمیت غلّے اور اناج کی پیداوار، انسانوں کی ضرورت کے مطابق زمین پر موجود آکسیجن کی مقدار سمیت لاکھوں ایسے عوامل موجود ہیں جوانسان کو اعلان کرکے بتارہے ہیں کہ انسان کو دنیا میں بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا ہے۔ اِس پورے نظام کے ذریعے یہ بھی سبق دیا جارہا ہے جب اللہ تعالیٰ نے چاہا اُس نے اس کائنات اور اس میں موجود انسان کو تمام ضروریات کی فراہمی کے ساتھ تخلیق فرمادیا اور وہ جب چاہے گا ا ِس پورے نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دے گا۔ چنانچہ فرد کی سطح پہ اُسے موت اور کائنات کی سطح پر اُسے مذہبی اصطلاح میں قیامت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
انسان کا دنیا میں ایک مخصوص وقت اور جگہ میں پیدا ہونا بذاتِ خود اِس بات کا اعلان ہے کہ وہ کسی خالق و مالک کی مرضی سے دنیا میں آیا ہے۔ لہٰذا پیدائش سے لے کر موت تک وہ خود جن چیزوں کو جان سکتا ہے یا جاننا چاہتا ہے اُس کی صلاحیت اُس میں حواسِ خمسہ اور عقل کی صورت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ جبکہ وہ حقائق جو وہ خود اپنے علم، تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر جاننے سے عاجز ہے، اُن حقائق کے بارے میں انسان کے خالق و مالک، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں انبیاء و رسل پر وحی بھیج کر ادیان و مذاہب کی صورت میں انسان کو حسبِ ضرورت آگاہ فرمادیا ہے۔ اَب اگر کوئی خدا کا عطا کردہ دین و مذہب بطورِ راہِ ہدایت کے قبول نہیں کرتا تو لا محالہ اسے اپنے یا اپنے جیسے انسانوں کے بنائے ہوئے کسی عقیدے اور مذہب کو قبول کرنا ہوگا۔ لہٰذا انسان جس طرح آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اِسی طرح وہ کسی عقیدے کے بغیر بھی زندگی نہیں گزار سکتا۔ انسان کی نجات اس بات میں ہے کہ وہ انسان کے پیش کردہ کسی فکر و فلسفہ ، نظریۂ حیات ، عقیدےاور تصوّر کو راہِ نجات سمجھ کر قبول کرنے کے بجائے ایک لاکھ چوبیس ہزار خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو اپنا حقیقی ہادی و رہنما قبول کرے اور اُن پر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو اپنے لیے دنیا و آخرت میں راہِ نجات کے طور پر قبول کرے ۔ تمام انبیاء و رسل کی پیش کردہ الہامی ہدایت و تعلیمات کا آخری و مستند ایڈیشن قرآنِ کریم کی صورت میں بغیر کسی کمی و بیشی کے انتہائی محفوظ ترین صورت اور حالت میں دنیا کے اندر موجود ہے۔ اِسی طرح پیغمبرِ اسلام حضور نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ اور تعلیمات مستند و معتبر اُسوۂ حسنہ اور احادیثِ مبارکہ کی صورت میں روئے زمین پر آج ہر جگہ حق کے طلبگاروں کے لیے با آسانی دستیاب ہے۔ لہٰذا انسانیت کے پاس آج صرف اور صرف اسلام ہی کی صورت میں دینِ خدا وندی، مضبوط عقیدہ اور ایمانِ کامل کی صورت میں موجود ہے جسے قبول کیے بغیر انسان دنیا کے اندر سب پا سکتا ہے لیکن ہدایت اور اُخروی زندگی میں نجات کا واحد راستہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے۔
- 1 ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 2658، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیہ، 2000ء، ص: 1157
- 2 ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم، المستدرک علی الصحیین، حدیث: 3606، ج ـ 2، مطبوعہ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990ء، ص: 466
- 3 علامہ غلام رسول سعید، تبیان القرآن، ج-9، ص: 839،مطبوعہ: فرید بک اسٹال، لاہور، پاکستان، 2012
- 4 ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 4949، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیۃ، 1999ء، ص: 885
- 5 القرآن، سورة اللیل 92 : 5-9
ڈاکٹر حبیب الرحمن۔ (2026)انسان کو حقیقی ایمان اور مذہب کی ضرورت، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/insan-ko-haqiqi-emaan-or-mazhab-ki-zaroorat