ہر باشعور انسان اپنی حقیقت کو جاننے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ وہ یہ جانتا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے؟ کیا ہے؟ دنیامیں کیوں آیا؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ موت کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے ارد گرد پھیلی بڑی کائنات کی حقیقت کیا ہے ؟ الغرض اس طرح کے لا تعداد سوالات ایک انسان کے ذہن میں مسلسل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جن کے جوابات تلاش کرنے کے لیے اس کے پاس تین ذرائع ہیں۔ (1) فلسفہ۔ (2) سائنس۔ (3) مذہب۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں فلسفۂ نظریہ حیات کو تلاش کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ لیکن ہزاروں سال کی سوچ و بچار اور تفکر و تدبر کے باوجود فلسفی مذکورہ بالا سوالات کے صحیح اور حقیقی جوابات پانے سے قاصر رہے ہیں۔ اہلِ فلسفہ نے اپنی تمام تر کوشش اور کاوش کے باوجود انسانوں کو مزید شکوک و شبہات کا شکار بنایا ہے۔
فلسفہ کے بعد سائنس انسان کے لیے ایک بہت بڑا ذریعہ علم (Source of Knowledge) بن کر وجود میں آیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مادّی اشیاء اور موجودات کے لحاظ سے سائنس کی بڑی دریافتیں اور ایجادات منصہ شہود پر ظاہر ہوئی ہیں۔ انسان کے لیے زندگی میں راحت اور سکون کے اسباب کی کثرت بھی سائنسی ایجادات کی مرہونِ مِنّت ہیں۔ سائنس انسان اور کائنات کی حقیقت کے بارے میں بہت کم جان سکی ہے۔ سائنس یہ تو بتا سکتی ہےکہ کوئی مادّی وجود اپنے مادّی اجزاء (Material Ingredients) کے لحاظ سے کیا ہے؟ لیکن وہ یہ بتانے سے مکمل طور پر قاصر ہے کہ کسی بھی مادّی وجود بشمول انسان کے کہ وہ اس دنیا میں کیوں موجود ہے۔ سادہ الفاظ میں سائنس "کیا " کا جواب دے سکتی ہے لیکن اس کے پاس کیوں کا جواب نہیں ہے۔ خاص طور پر انسان کو اس کی حقیقت پر مطلع کرنا، مقصدِ زندگی کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا، اس سے مطلوب وغیر مطلوب اعمال و افعال کی تفصیلات فراہم کرنا، اچھے اور بُرے، حق اور باطل، نیک و بد، خیر اور شَر اس معنی میں تعین کرنا کہ اس سے انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی کی راہ کا تعین ہوسکے۔ یہ سب کچھ سائنس کے احاطہ ٔ علم سے باہر کے موضوعات ہیں۔
سائنس کے بعد انسان کے پاس آخری ادارہ مذہب کا جس سے وہ اپنے حقیقی سوالات کے جوابات کے لیے رجوع کرسکتا ہے۔ یہاں بھی بڑی مشکل یہ ہے کہ دنیا میں کئی بڑے مذاہب موجود ہیں۔ یہ مذاہب مختلف تاریخی، ثقافتی، تہذیبی، نسلی، علاقائی، جغرافیائی، پسِ منظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلام کے سوا ان تمام مذاہب کونہ تاریخی اعتباریت حاصل ہے اور نہ ہی علمی تائید و توثیق۔ ان مذاہب کے مقدس صحیفے مرورِ زمانہ کے ساتھ لفظی و معنوی تحریف کا اس طور پر شکار ہوگئے ہیں کہ ان میں صحیح اور غلط کے مابین فرق کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ ان مذاہب کی تعلیمات خالص علمی میزان اور عقلی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ لہٰذا کسی حقیقت تک رہنمائی کرنا یا انسان کے وہ سوالات جس سے ہر با شعور آدمی دوچار رہتا ہے۔ اس کے صحیح جوابات اس طور پر فراہم کرنا کہ انسان ذہنی و قلبی اور علمی طور پر مطمئن ہوجائے۔ یہ ان مذاہب کے موجودہ تحریف شدہ تعلیمات کی وجہ سے ممکن ہی نہیں ہے۔ مذاہب اور نظریات کے اس جنگل میں صرف اور صرف اسلام وہ واحد دین ہے جس پر ہر حوالے سے اعتبار اور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اسلام کی تاریخی حیثیت ہو یا اس کی واقعاتی اعتباریت ہو، علمی صداقت ہو یا تحقیقی اثباتیت ہو، ماضی کے فکر و فلسفے ہوں یا جدید سائنس و ٹیکنالوجی کا میدان ہو، معاشرتی و سماجی علوم ہوں یا نفسی و ذہنی ریاضتیں ہوں، اَخلاق و کردار کا میدان ہو یا سِیرت اور عمل کا کوئی گوشہ ہو، انسان کا ظاہر ہو یا اس کا باطن ہو، الغرض زندگی کا کوئی میدان ہو اسلام انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک نادر تحفہ (Priceless Gift) ہے۔ اس دین کی سچائی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہ کامل سچ اور حق کا حامل دین ہے۔ اسلام ہر پیاسی روح کے لیے آبِ حیات ہے۔ وہ زندگی کو با معنی بنانے کا ایک جامع ہدایت نامہ ہے۔ اسلام کو پانا اپنے آپ کو پانا ہے۔ اسلام کو پانا اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کو پانا ہے۔
اسلام ہی کیوں؟
حضرتِ آدم
سے لے کر نبیٔ کریم ﷺ تک آنے والے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار خدا کے پیغمبروں کا سچا اور حقیقی دین اسلام ہی رہا ہے۔ اس دعویٰ کی بنیاد کسی جذبات پر نہیں بلکہ عقلی، روحانی، تاریخی، علمی اور اَخلاقی دلائل پر ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے سارے مذاہب خدا تعالیٰ پر ایمان اور دنیا و آخرت کی زندگی میں امن و نجات کا راستہ دکھاتے، سکھاتےاور بتلاتے ہیں۔ حالانکہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں موجود تمام مذاہب اپنا جداگانہ تصوّرِ خدا، تصوّر نجات، تصوّر انسان، تصوّر کائنات، اور تصوّر علم رکھتے ہیں۔ حقیقت اعلیٰ کو پانے کی جستجو بھی ہر مذہب میں دوسرے مذہب سے یکسر مختلف ہے۔ اس حوالے سے اسلام دنیا کے بقیہ تمام مذاہب میں اپنا نہایت ہی منفرد تصوّر علم، تصوّر انسان اور تصوّرِ خدا رکھتا ہے۔
اسلام دوسرے مذاہب سے بالکل مختلف اور ممتاز اس معنی میں ہے کہ وہ اپنی محفوظ آسمانی کتاب، تعلیمات اور تاریخ کی وجہ سے تمام آسمانی مذاہب کا خلاصہ ہونے کے ساتھ ساتھ جامع و کامل دین کی صورت میں آج بھی بالکل اسی طرح موجود ہے جس طرح اپنے آغاز میں تھا۔ اس کی تعلیمات بغیر کسی ابہام کے نہایت واضح اور آسان صورت میں موجود ہیں۔ جس پر روزانہ دنیا کے ہر قوم سے اور ہرخطہ سے تعلق رکھنے والےاربوں انسان پوری دنیا میں عمل پیرا ہوتے ہیں۔ یہ تمام لوگ جو اہلِ ایمان یامسلمان کہلاتے ہیں وہ اپنے لیے اسلام کو دنیا کی زندگی اور ما بعد الموت جسے آخرت کہا جاتا ہےاس میں ہدایت اور اَبدی نجات کا واحدذریعہ سمجھتے ہیں۔ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اسلام کے عقائد ہر قسم کی پیچیدگیوں سے پاک ہیں۔ اس حوالے سے اسلام کے پیش کردہ تصوّرِ خدا کی مثال لی جائے تو وہ بھی انتہائی واضح اور ہر قسم کے شک و شبہہ سے پاک ہے ۔ اسلام کے تصوّرِ خدا کا تقابل دنیا کے دوسرے مذاہب کے تصوّرِ خدا سے کرکے دیکھا جائے تو یہ بات محض دعویٰ نہیں رہتا کہ اسلام کا پیش کردہ تصوّرِ خدا انسان کی حقیقی اور عملی ضرورت ہے جس کو جھٹلانا ایک عقلمند آدمی کے لیے ممکن نہیں ہوسکتا۔
اسلام کے تصوّرِ خدا کے مقابلے میں دنیا کے دوسرے مذاہب کی فہرست میں بعض ایسے مذاہب بھی موجود ہیں جو سرے سے خدا کے وجود پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ مثلاً بدھ ازم کی مثال لی جائے تو وہاں خدا کا کو ئی واضح تصوّر موجود نہیں ہے۔ ہندو مت میں خدا پر ایمان کامطلب شاید خود ہندو مت ماننے والے کو بھی معلوم نہیں ہے۔ کیونکہ ہندو مت لاکھوں بلکہ کروڑوں خداؤں کو ماننے والا بلکہ خداؤں کو تخلیق کرنے والامذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مت مسلسل نئے خدا دریافت کرتا رہتا ہے۔ ہندومت کا مطالعہ اور مشاہدہ کیا جائے تو جو چیز واضح ہوکر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ وہ مذہب ہے جہاں خدا کے نام پر غیرِ خدا کو معبود قرار دیا جاتا ہے اور خالق کے نام پر مخلوق کی عبادت اِس طرح کی جاتی ہے کہ مخلوق خالق بن جاتی ہے اور خالق مخلوقات کی قطار میں شامل ہوجاتا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)اِسی طرح سکھ اِزم بذاتِ خود مستقل بنیادوں پر کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ ہندومت کے خلاف ردِّ عمل اور بغاوت کی ایک تحریک ہے جس میں خدا کا حقیقی تصوّر نامعلوم ہی رہتاہے۔
یہودیت ایک قومی اور نسلی مذہب (Racial Religion) ہے جو ایک ایسے خدا کا تصوّر رکھتے ہیں جس کی نگاہ میں صرف اور صرف یہودی ہی اللہ تعالیٰ کی محبوب اور منتخب قوم ہیں۔ اس لیے دنیا کی بقیہ تمام اقوام پر یہودیوں کو فوقیت اور فضیلت حاصل ہے اور آخرت میں بھی نجات (Salvation) صرف اور صرف یہودیوں ہی کے لیے مقدر کی گئی ہے۔ نسلی طور پر یہودی ہونا دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے مقابلے میں اس قدر برتر اہمیت کا حامل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی اور عقیدے کو چھوڑ کر یہودیت کو بطور مذہب کو قبول کرلےتو تب بھی اس کی حیثیت اصلی یہودی کی سی نہیں رہتی۔
اِسی طرح عیسائیت میں تین خداؤں کا عقیدۂ تثلیث (Trinity) اِسے ہر لحاظ سے غیر عقلی اور غیر منطقی بنادیتا ہے کیونکہ تین خداؤں کے نام پر ایک عیسائی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ اُس کے ایک محبوب بندے اور ایک سچے رسول کی عبادت اور بندگی بھی خدا کے شریک کے طور پر بجالارہاہوتا ہے۔
اِس کے مقابلے میں اسلام ایک خدا کا واضح، سادہ اور صاف ستھرا تصوّر پیش کرتا ہے۔ وہ ایسا خدا ہے کہ جس کا کوئی شریک نہیں اور نہ وہ خود کسی کابیٹا ہے اور نہ ہی وہ کسی کا والد ہے۔ وہ اِس طور پر زندہ ہے کہ تمام مخلوقات ہمہ وقت اُس کے علم میں ہیں۔ وہ انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہے۔ وہ انسان کی دعاؤں اور التجاؤں کو سننے والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابَد تک رہے گا۔ کوئی انسان خواہ وہ اپنے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے کتنا ہی بڑاہو اُس کا ہمسر نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر شے کا خالق و مالک ہے اور باقی ہر شے اُس کی مخلوق و مملوک ہے۔
اسلام کی حقّانیت کی سب سے بڑی اور روشن دلیل، پیغمبرِ اسلام، حضور نبیٔ کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس، سیرتِ طیبہ، اخلاقِ حسنہ، کردار اور آپ ﷺ کی تئیس سالہ نبوی زندگی کا وہ غیر معمولی، محفوظ اور مستند ریکارڈ ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں کسی اور شخصیت کے حوالے سے نہیں ملتی۔ آپ ﷺ ایک ایسے روشن تاریخی دور میں پیدا ہوئے جہاں آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی نظروں کے سامنے تھا۔ ولادت سے لے کر جوانی تک، جوانی سے اعلانِ نبوت تک اور پھر اعلانِ نبوت سے وصال تک آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ نہایت باریکی اور صحت کے ساتھ محفوظ ہے۔ آپ ﷺ کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، کھانا، پینا، رہن سہن، عبادات، عادات، انفرادی اور اجتماعی زندگی، گھریلو معاملات، سیاسی و سماجی طرزِ عمل، امن و جنگ کے اصول، دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ رویّے، اخلاق و کردار، اقوال و افعال، حتیٰ کہ روزمرہ زندگی کے معمولی سے معمولی معاملات تک نہایت احتیاط کے ساتھ محفوظ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری شخصیت ایسی نہیں جس کی زندگی اس قدر جامع، واضح، محفوظ اور اِس قدر جامعیت کے ساتھ قابلِ مطالعہ ہو۔
پیغمبرِ اسلام ﷺ کی صداقت، امانت اور کردار خود اسلام کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ آپ ﷺ نے اعلانِ نبوت سے پہلے چالیس سال تک مکہ کے معاشرے میں زندگی گزاری، مگر کسی دشمن تک کو آپ ﷺ کے کردار، امانت، دیانت اور سچائی پر اعتراض کرنے کا موقع نہ ملا۔ آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی سے دھوکہ کیا اور نہ ہی دنیاوی اقتدار، حکومت، مال و دولت یا ذاتی مفاد کی خواہش اشارے اور کنایے تک میں ظاہر کی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ کے شدید ترین مخالفین بھی آپﷺ کو "الصادق" اور "الامین" کے القابات سے یاد کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا تو ابتدا ء میں اگرچہ مخالفت ہوئی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صرف غریب اور کمزور افراد ہی نہیں بلکہ عرب کے بااثر، صاحبِ اقتدار، مالدار اور ذہین سرداروں نے بھی آپﷺ کی نبوت و رسالت کی سچائی کو تسلیم کیا۔ اگر نعوذباللہ آپ ﷺ دنیاوی مفاد کے طلبگار ہوتے تو سردارانِ مکہ کی وہ پیشکش قبول کرلیتے جس میں آپ ﷺ کو دولت، حکومت، اقتدار اور عرب کی حسین ترین عورت سے نکاح کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہ سب صرف اس شرط پر تھا کہ آپ ﷺ دعوتِ اسلام ترک کردیں۔ مگر آپ ﷺ نے انتہائی استقامت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ فرمایا کہ اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تب بھی میں ایک اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دینے سے باز نہیں آؤں گا۔ یہ غیر معمولی استقامت اس بات کی دلیل تھی کہ آپ ﷺ کسی ذاتی مقصد یا منفعت کے لیے نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا کی خاطر اپنے اوپر عائد فریضہ کے تحت خلق خدا کو اللہ کی طرف دعوت دے رہے تھے۔
آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کا ایک عظیم پہلو آپ ﷺ پر قرآنِ کریم کا نزول بھی ہے۔ وہ شخصیت جس نے نہ کبھی شاعری کی، نہ کسی فلسفی، مفکر یا دانشور کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، نہ کسی علمی درسگاہ میں تعلیم حاصل کی، جب اپنی زبانِ مبارک سے قرآنِ کریم جیسا بے مثال کلام پیش کرتی تو عرب کے بڑے بڑے شعراء، خطباء، فصحاء اور اہلِ بلاغت حیران و ششدر رہ جاتے ۔ قرآن کا اسلوب، ادبی معیار، فصاحت، بلاغت، علمی گہرائی، فکری جامعیت اور روحانی اثر ایسا تھا کہ عرب کے نامور اہلِ زبان بھی اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ یہ حقیقت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے۔
نبیٔ کریم ﷺ کی زندگی کا ایک اور حیران کن پہلو آپ ﷺ کی بے مثال سادگی، زہد اور قناعت ہے۔ آپ ﷺ اپنی زندگی کے آخری دور میں پورے عرب کے بے تاج حکمران بن چکے تھے، مگر باوجود اس عظیم اقتدار کے آپ ﷺ کی رہائش مٹی اور گارے کے سادہ گھر میں تھی، لباس پر پیوند لگے ہوتے، آپ ﷺ لوگوں کے درمیان کسی بلند تخت یا خصوصی مقام پر بیٹھنے کے بجائے زمین پر ان کے ساتھ بیٹھتے، اور کئی کئی مہینے گھر میں چولہا نہ جلتا بلکہ کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا۔ اگر آپ ﷺ دنیاوی بادشاہت یا ذاتی مفاد کے طالب ہوتے تو اقتدار ملنے کے بعد شاہانہ زندگی اختیار کرتے، مگر آپ ﷺ کی سادگی، عاجزی اور انکساری نے واضح کردیا کہ آپ ﷺ کا مقصد دنیاوی عظمت نہیں بلکہ انسانیت کی اصلاح اور اللہ کا پیغام پہنچانا تھا۔
مزید برآں، نبیٔ کریم ﷺ صرف روحانی پیشوا ہی نہیں بلکہ ایک عظیم مدبر، بے مثال قائد، عادل حکمران، بہترین معلم اور اعلیٰ کردار کے مالک بھی تھے۔ آپ ﷺ نے محدود وسائل، قلیل افرادی قوّت اور شدید مخالفت کے باوجود اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمنوں کا مقابلہ کیا اور نہایت مختصر مدت میں عرب کے منتشر، متحارب اور جاہلیت میں ڈوبے ہوئے قبائل کو ایک متحد، مہذب، تعلیم یافتہ اور بااخلاق امت میں تبدیل کردیا۔ وہ عرب جو معمولی باتوں پر نسلوں تک جنگیں لڑتے، ظلم و ناانصافی، شراب نوشی، طبقاتی تفاوت، عورتوں پر ظلم اور اخلاقی پستی کا شکار تھے، آپ ﷺ کی تعلیمات کے نتیجے میں عدل، اخوت، مساوات، علم، تقویٰ اور انسان دوستی کے علمبردار بن گئے۔ آپ ﷺ نے ایسے افراد تیار کیے جنہوں نے نہ صرف عرب بلکہ پوری انسانی دنیا کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
ان تمام حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات نہایت واضح ہوجاتی ہے کہ ایسی کامل، صادق، امانت دار، انقلابی، باکردار، بااصول، بے غرض، بے مثال اور تاریخ کی سب سے زیادہ محفوظ شخصیت کے نبی اور رسول ہونے اور ان کے پیش کردہ پیغام کے مبنی برحق ہونے میں کوئی معقول شبہ باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ حضور نبیٔ کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ، سیرتِ پاک، کردار، تعلیمات، انقلاب اور زندگی کا محفوظ ترین تاریخی ریکارڈ اسلام کی حقانیت کی سب سے بڑی، مضبوط اور ناقابلِ تردید دلیل ہے۔
اسلام کی حقّانیت کی دوسری بڑی دلیل یہ ہے کہ اسلام کی مقدس کتاب قرآنِ مجید جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے اُتاری ہےوہ کتاب آج ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اپنے الفاظ اور مفاہیم کے لحاظ سے بالکل محفوظ حالت میں ہے۔ اِس کا ہر ہر لفظ، آیت، رکوع اور سورۃ اپنی ترتیب کے اعتبار سے بالکل اُسی نظم و ضبط کے مطابق ہے جس طرح اِسے نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں مرتب اور جمع کروادیا تھا اور پھر اسے خود نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے پنج وقت نمازوں میں تلاوت فرمایا تھا۔ جب سے اِس مقدّس کتاب کانزول مکمل ہوا ہے تاریخ میں کوئی ایسا دور نہیں گزرا جب دنیا کے مختلف خطوں اور مسلمانوں کی تمام آبادیوں میں لاکھوں کی تعداد میں پورا قرآنِ پاک زبانی حفظ کرنے والے افراد موجود نہ رہے ہوں۔
اس کتاب کی صداقت کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ جس زبان یعنی عربی میں اتارا گیا ہے وہ زبان آج بھی ایک زندہ زبان ہے۔ کروڑوں انسان اُس زبان کو لکھنے، بولنے اور سمجھنے والے آج بھی موجود ہیں۔ اِس کتاب کی حقّانیت کی ایک دلیل بھی یہ ہے کہ پوری مسلم دنیامیں صرف ایک ہی قرآنِ کریم کا نسخۂ تلاوت کیا جاتا اور پڑھا جاتا ہے۔ اِس کی علمی، تاریخی اور کائناتی صداقت یہ ہے کہ خود قرآنِ کریم آج بھی عرب وغیرعرب کو یہ چیلنج دیتاہے کہ : "اگر تمہیں اِس کتاب کی حقّانیت میں شک ہے تو اس جیسی صرف ایک سورت ہی بنالاؤ"۔ 1 2 ماضی کی طرح آج بھی عرب دنیا میں ہزاروں پڑھے لکھے غیر مسلم عربی زبان و ادب کے ماہرین (Linguists) اور دانشور موجود ہیں لیکن کسی نے بھی آج تک قرآنِ کریم کے اس چیلنج کو قبو ل کرنے کی ہمت نہیں کی۔ جنہوں نے اپنے طور پر اِس چیلنج کو قبول کرکے قرآن کی طرح کی آیات یا چھوٹی سورتیں بناکر پیش کرنے کی کوشش کی وہ اپنے مقصد میں بری طرح ناکام ہوئے۔
اسلام وہ واحد دین ہے جو صرف اپنے آپ کو سچا دین نہیں گردانتا بلکہ وہ تمام آسمانی مذاہب کو ان کے نزول کے زمانہ میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ اس دور کے انسانوں کی ہدایت کے لیے سچا دین ہدایت مانتا ہے۔ اس لیے اسلام یہ نہیں کہتا کہ صرف محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر اور رسول ہیں بلکہ حضرت آدم
، حضرت نوح
، حضرت ابراہیم
، حضرت موسیٰ
، حضرت عیسیٰ
اور تمام وہ انبیائے کرام
جو انسانی تاریخ کے کسی دور میں انسانوں کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے خواہ ہم ان کے نام سے واقف ہوں یا نہیں لیکن پھر بھی وہ اللہ کے سچے اور منتخب کردہ الوا لعزم پیغمبر تھے۔ اس کی وجہ ہے کہ تمام انبیاء
کا پیغام ایک ہی تھا۔ وہ پیغام ایک ہی خدا پر ایمان لانا اور اس کی بندگی تھی۔ لہٰذا مسلمان تمام انبیاء و رسل
کو اسلام ہی کا پیغمبر سمجھتے ہیں۔ اسلام تمام انبیائے کرام
کو خدا کے برگزیدہ اور منتخب کردہ بندے قرار دے کر اُن کی عزّت ، توقیر، اَدب و احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے یہ بات شرط ہے کہ وہ حضرتِ آدم
سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک دنیا میں تشریف لانے والے انبیائے کرام
کو اللہ کا سچا پیغمبر جان کر اُن کی نبوت و رسالت کی دل و جان سے تصدیق کرے ورنہ اُس کا مسلمان ہونا اللہ کی نگاہ میں معتبر نہیں ہوگا۔
اسلام کی صداقت اور حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ صرف قرآنِ کریم ہی کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سچی کتاب قرار دے کر باقی ماندہ تمام آسمانی کتابوں کی صداقت و حقانیت کو مسترد نہیں کرتا بلکہ جو مسلمان جو تورات، زبور، انجیل یا صحف ابراہیم میں سے کسی کا انکار کر بیٹھے تو اس کا ایمان ناقص اور نامکمل ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے شرائط ایمان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ قرآنِ کریم سمیت تمام آسمانی کتابوں یعنی تورات، زبور، انجیل کو وحی الٰہی (اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ پیغام) سمجھ کر ان پر ایمان لائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ کریم سے قبل نازل شدہ کُتبِ سماوی زمانے کی دست و برد سے محفوظ نہیں رہ سکی اور نہ ہی اِن کُتبِ سماوی کو ماننے والوں نے ان کی حفاظت کا وہ انتظام کیا جو ان آسمانی کُتبِ کی حفاظت و حقانیت کے لیے ضروری تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ مزید غلطی یہ ہوئی کہ اِن الہامی کُتبِ کو حفظِ متون کے لیے مطلوب افراد بھی میسر نہیں آسکےجو قرآن کریم کی طرح از اوّل تا آخر ہر دور میں اِن کُتبِ سماوی کو زبانی یاد کرکے اپنے دل و دماغ میں محفوظ رکھ سکیں۔ کُتبِ سابقہ کے ماننے والوں نے بڑا ظلم اپنی مقدس کتابوں کے ساتھ یہ کیا کہ ایک ہی الہامی کتاب کو مختلف راویان سے منسوب کرکے اُس کے کئی کئی نسخے بنادیئے۔ اس کے نتیجے میں لفظی اختلاف تو پیدا ہونا تھا لیکن معنوی طور پر بھی کئی اختلافات اُبھر کر سامنے آئے۔ کُتبِ مُقدسہ کی ترتیب، نظم و ضبط، تقدیم و تاخیر اور حقائق و واقعات سب خلط ملط ہوگئے۔ انسانوں کی پسند اور ناپسند یا انتخاب کی بنیاد پر الہامی کُتب کو قبول یا مستردکیا گیا۔ ان سارے اختلاف کی نوعیت اس قدر گھمبیر رہی ہے کہ اگر قرآنِ کریم اِن کُتبِ مُقدسہ کی تقدیس و عظمت اور من جانب اللہ ہونے پر گواہ نہ بنتا تو شاید یہ کُتبِ مقدّسہ بھی تاریخ کے پردوں میں محض ایک دیو مالائی داستانوں کے طور پر باقی رہ جاتیں۔ مسلمان آج بھی ان کُتبِ مُقدسہ کی نزولی حیثیت و کیفیت پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں۔ کُتبِ مُقدسہ کا وہ حصہ جو اللہ تعالیٰ کی توحیدِ خالص نبوت و رِسالت کے منصب عظیم اور معاد سے متعلقہ امور کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور وہ تمام تعلیمات جو قرآن و سنّت کی کسوٹی پر پوری اترتی ہوں انہیں آج بھی مسلمان اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی کا سچا حصہ سمجھتے ہیں۔
الہامی کُتبِ (Revealed Books) کے علاوہ وہ تمام کُتبِ مُقدسہ (Holy Scriptures) جنہیں غیر الہامی مذاہب کے پیروکار اپنے لیے قابلِ احترام اور لائق تقلید سمجھتے ہیں اسلام اُن تمام کُتبِ مُقدسہ کا احترام بھی بجالاتا ہے۔ اَلبتہ اسلام کی طرف سے مسلمانوں پر ایسی کتابوں کے بارے میں جو غیر مُنزل ہوکسی بھی درجے میں کوئی ایمان و یقین مطلوب نہیں ہے۔ اگر اِن کُتبِ مُقدسہ میں کوئی حکمت، معرفت اور حقیقت سے متعلق کوئی تعلیم موجود ہو تو اسے کسی طالبِ حق اور سالکِ معرفت کے تجربے اور مشاہدے پر محمول کرتے ہوئے کسی عارف یا سالک کا ذاتی فہم، تخیل، ادراک، بصیرت اور وارداتِ قلبی قرار دیا جائے گا۔ مسلمان ان غیر الہامی کُتب کے بارے میں منفی رویہ نہیں رکھتا بلکہ وہ دل و جان سے ان مذہبی کُتب کا ادب و احترام، عزّت و توقیر بجا لاتا ہے۔ وہ کسی کتاب کے لیے تحقیر اور اہانت پر مبنی روّیہ اِس لیے اختیار نہیں کرسکتا کہ اُسے حکم خداوندی کے تحت اِس بات پر پابند کردیا گیا ہے کہ وہ دین و مذہب کے معاملے میں اپنے ایمان و اسلام کو نہ چھوڑے اور نہ ہی دوسروں کے مذہب کو چھیڑے۔ (قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "تمہارے لیے (اے غیر مسلموں) تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے" ۔3
اسلام کی حقانیت کی اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوگی کہ کسی مذہب کے صحیح اور غلط ہونے سے قطع نظر وہ دنیا کے تمام الہامی و غیر الہامی مذاہب کے مکمل اَدب و احترام کا درس دیتا ہے اور اُن کی کُتبِ مُقدسہ کے غیر تاریخی اور غیر مستند ہونے کے باوجود خود اِ ن مذاہب اور اِن مذاہب کی بڑی اور محترم شخصیات کا ادب و احترام بجا لانے والا دین اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک یہودی، عیسائی اور کسی بھی دوسرے مذہب کو ماننے والا جب اسلام قبو ل کرتا ہے تو اس سے اس کے سابقہ مذہب، مذہبی کُتب اور مذہبی شخصیات کی توہین اور بے ادبی ہر گز مطلوب نہیں ہوا کرتی ہے۔
اسلام آج کے ہر انسان کا دین ہے کیونکہ وہ اسے زندگی کی معنویت عطا کرتا ہے۔ اسلام ہر اس آدمی کو جو حق کا متلاشی ہو اس کی تلاش کا صحیح اور درست جواب دینے کی استطاعت اور استعداد رکھتا ہے۔ہر پڑھا لکھا اور باشعور انسان اپنی زندگی میں معنویت کو تلاش کرتا ہے یہ وہ فطری جذبہ ہے جو ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔وہ اپنے اس جذبے کی تسکین کے لیے ہر طرف دوڑتا ہے مگر دوسری تمام اشیاء، فلسفوں اور مذاہب کے اندر یا تو اس کی اس فطری مقصد کی طلب کا جواب ہی موجود نہیں ہے اور یا پھر جو کچھ بطور جواب کے انسان کو ملتا ہے وہ اس نا مکمل اور جزئی جواب سے مطمئن ہی نہیں ہو پاتا۔انسان کو اس کی زندگی سے متعلقہ تمام اہم سوالات کے تسلی بخش جوابات اگر کہیں مل سکتے ہیں تو وہ دین اسلام ہے۔اس کی وجہ اس دین کا ہر حوالے سے انسانی تحریفات اور تبدیلیوں سے محفوظ ہونا ہے۔اسلام کی یہ وہ امتیازی خصوصیت ہے جو دنیا کے کسی بھی دوسرے مذہب کو حاصل نہیں ہے۔
اسلام ہی کو بطورِ دین اختیار کرنے کی ایک عقلی و منطقی توجیہہ یہ ہے کہ اسلام ہی دنیا کے تمام مذاہب میں وہ واحد دین ہے جو انسان کی زندگی میں توازن رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ (واضح رہے کہ اسلام میں دین اور دنیا کی کوئی تفریق موجود نہیں ہے بلکہ دنیا کے بغیر دین اور دین کے بغیر دنیا کی زندگی کو لا یعنی قرار دیا گیاہے۔ لہٰذا دنیا کی تمام نعمتوں سے جائز طور پر بہرہ مند ہوکر آخرت کی کامیابی اگر کسی دین کے ذریعے ممکن ہے تو وہ اسلام ہے۔)دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی ضروریات کا خیال رکھنا اور دنیا میں رہتے ہوئے اپنی اُخروی زندگی کی بہتری کے لیے مسلسل تیاری کرتے رہنا اسلام کی اساسی تعلیم ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی امور سے لا تعلق رہنے کو اسلام نے سختی سے منع کردیا ہے اور دنیا کی زندگی میں دنیاوی مصروفیات یا دنیاوی چکا چوند کی وجہ سے اپنی حقیقی منزل کو بھلا بیٹھنا، دنیا میں بے مقصد زندگی گزارنا یا دنیا ہی کو مقصد بناکر زندگی کے دن پورے کرنا یہ وہ اہم ترین معاملاتِ زندگی ہیں جن کے بارے میں عموماً دنیا کے مذاہب کوئی متوازن تعلیم پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ اسلام نے دنیا میں رہتے ہوئے ہر نیک اور جائز کام کو خواہ اس کاتعلق معاش سے ہو یا سیاست سے، کاروباری معاملات سے ہو یا رشتے داری کے دائرے سے، دنیاوی فرائض کی بجا آوری سے ہو یا اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے تگ و دو سے، انسانوں کے فلاح و بہبود کے کاموں سے ہو یا تمام انسانوں کی خیر خواہی سے، کسی صدقہ جاریہ کے کام سےہو یا اَخلاق و کردار سے، علم و تدریس سے ہو یا فکر و تدبر سے، انفرادی ہو یا اجتماعی، مسلمانوں کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ سب کو عبادت قرار دیا ہے۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جو جملہ مخلوقات اور تمام انسانوں کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔
اسلام روحانیت اور مذہبیت کودنیا کے دائرے سے باہر کا کوئی عمل نہیں سمجھتا۔اِسی لیے دنیا کے کاموں کو صداقت، امانت اور دیانت کے ساتھ سَر انجام دینا اسلام کی رو سے حقیقی روحانیت (Spirituality)کی پہلی سیڑھی ہے۔ دنیا چھوڑ کر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے دستبردار ہوکر صحراؤں، جنگلوں، ویرانوں اور انسانی آبادیوں سے دور دراز مقامات پر چھپ کر روحانیت کی طلب اسلام میں کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تمام فرض اور واجب عبادات بالخصوص نماز، زکوٰۃ اور حج کا تعلق انسانوں کی معاشرت اور اجتماعیت کے ساتھ ہے۔ جب تک ان عبادات کو انسانوں کے ساتھ مل کر ادا نہ کیاجائے اُس وقت تک نہ تو کسی روحانیت کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اِن عبادات سے مطلوب نتائج سے مستفیدہونے کی کوئی صورت ممکن ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی بندگی کے بعد ہر وہ عمل جس سے ایک انسان دوسرے انسان کو اس دنیا میں رہنے والی تمام مخلوقات، چرند، پرند، حیوانات، نباتات اور حشرات الارض کو فائدہ پہنچانے والا ہو تو تب کہیں جاکر حقیقی روحانی سفر کے آغاز کا دعویٰ کیاجاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کو ترک کیے بغیر اس کے معاملات کو زیادہ بہتر انداز سے چلانے کے لیے اور اس دنیا میں حقیقی مسرت (Happiness)اور خوشی سے ہمکنار ہونے کے لیےدین اسلام وہ واحد دین ہے جو ہر انسان کو اس کے دین اور دنیا دونوں کی ذمہ داریوں سے عہدہ برأں ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔
سچائی کا دین
انسان کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس کی سب سے بڑی جستجو ہمیشہ حق اور سچ کی تلاش رہی ہے۔ انسان نے مختلف ادوار میں فلسفے، مذاہب، نظریات، تہذیبوں اور علمی مکاتبِ فکر کا مطالعہ اسی لیے کیا کہ وہ اس حقیقت تک پہنچ سکے جو ہر قسم کے شک، تردد اور ابہام سے پاک ہو۔ دولت، اقتدار، شہرت اور مادّی آسائشیں انسان کو وقتی خوشی تو دے سکتی ہیں، لیکن قلبی اطمینان اور روحانی سکون صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے وہی حق، صداقت اور نجات کا راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یقین انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، کیونکہ یہی یقین اس کے افکار، کردار، فیصلوں اور پوری زندگی کی سمت کا تعین کرتا ہے۔
انسانی فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کسی ایسے عقیدے اور نظامِ حیات کے مطابق بسر کرے جو حقیقت پر مبنی ہو۔ اگر انسان کے دل میں اپنے عقیدے کے بارے میں مسلسل شک و شبہ موجود رہے تو وہ کبھی حقیقی سکون حاصل نہیں کر سکتا۔ ایسی صورت میں اس کی شخصیت اندرونی تضاد، فکری انتشار اور روحانی بے چینی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب انسان کو یقین حاصل ہو جائے کہ اس نے حق کو پالیا ہے، تو اس کی شخصیت میں استحکام، اعتماد، استقلال اور مقصدیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ زندگی کے ہر نشیب و فراز کا سامنا ثابت قدمی سے کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی حقیقت سے وابستہ ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔
آج کا انسان سائنسی ترقی، بے مثال سہولیات اور مادّی خوش حالی کے باوجود شدید ذہنی دباؤ، اضطراب، تنہائی اور بے معنویت کا شکار ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں بھی خودکشی، ڈپریشن، بے مقصدیت اور روحانی خلا میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے مادّی ترقی کو تو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا، لیکن اس ابدی حقیقت کو فراموش کر دیا جس سے اس کے دل کو حقیقی سکون حاصل ہوتا ہے۔ جب زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی رہ جائے تو معمولی ناکامی بھی انسان کو مایوسی کی گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے، جبکہ سچا ایمان انسان کو ہر حال میں امید، حوصلہ اور استقامت عطا کرتا ہے۔
اسلام اسی بنیادی انسانی ضرورت کا سب سے مکمل اور جامع جواب ہے۔ اسلام انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جو انسان کو محض عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ کامل یقین، واضح مقصدِ حیات اور دائمی سکون عطا کرتی ہے۔ اسلام کی بنیاد اندھی تقلید پر نہیں بلکہ علم، عقل، فطرت، وحی اور تاریخی حقیقت پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں سے بغیر دلیل کے ایمان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ انہیں بار بار غور و فکر، تدبر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں سینکڑوں مقامات پر انسان کو آسمانوں، زمین، اپنی ذات، تاریخ اور کائنات کی بے شمار نشانیوں میں غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ تحقیق کے ذریعے اس نتیجے تک پہنچے کہ اس پوری کائنات کا ایک ہی خالق، مالک اور مدبر ہے۔
اسلام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تعلیمات ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک سچائی پر مبنی ہیں۔ قرآنِ کریم اپنے بارے میں اعلان کرتا ہے:
ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ 24
یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں، اور یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔
یہ اعلان دنیا کی کسی اور مذہبی کتاب نے اس اعتماد اور یقین کے ساتھ نہیں کیا۔ قرآن نہ صرف اپنی صداقت کا دعویٰ کرتا ہے بلکہ پوری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ اگر اس کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھا دے۔ چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود دنیا کی کوئی علمی، ادبی یا فکری قوت اس چیلنج کا جواب پیش نہیں کر سکی۔ یہی قرآن کی بے مثال صداقت اور اس کے الٰہی سرچشمے کی روشن دلیل ہے۔اسلام حقیقت کی متلاشی ہر روح کی منزل ہے۔ وہ انسان کو ایسا ایمان عطا کرتا ہے جو صرف جذبات پر قائم نہیں ہوتا بلکہ مضبوط دلائل، روشن شواہد اور الٰہی ہدایت پر استوار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کا ایمان حالات کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔ اگر اسے خوش حالی نصیب ہو تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اور اگر آزمائش آ جائے تو صبر اور توکل کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کا یقین اسے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وابستہ رکھتا ہے، اس لیے وہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔
اسلام کا یقین محض نظریاتی یقین نہیں بلکہ عملی یقین ہے۔ یہی یقین ایک عام انسان کو غیر معمولی کردار کا مالک بنا دیتا ہے۔ یہی یقین غلام کو آزادی کا علمبردار، کمزور کو بہادر، غریب کو سخی، مظلوم کو ثابت قدم اور تنہا انسان کو پوری دنیا کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہی وہ ایمان تھا جس نے ابتدائی مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کو دنیا کی عظیم ترین تہذیبوں کے سامنے سربلند کر دیا۔ ان کی قوت کا راز ہتھیاروں کی کثرت نہیں بلکہ یقین کی طاقت تھی۔ ان کے دلوں میں یہ یقین راسخ تھا کہ حق آخرکار غالب آ کر رہے گا، کیونکہ حق کا سرچشمہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا ...15 5
حقیقی مؤمن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر کبھی شک میں نہ پڑے ۔
گویا ایمان کی اصل علامت ہی یہ ہے کہ دل ہر قسم کے تردد، شبہ اور فکری اضطراب سے آزاد ہو جائے اور انسان پورے یقین کے ساتھ اپنے رب پر اعتماد کرے۔ یہی یقین اسے دنیا میں عزّت ، استقامت اور باوقار زندگی عطا کرتا ہے اور آخرت میں دائمی کامیابی کا مستحق بناتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام صرف سچائی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ خود سچائی کا کامل ترین مظہر ہے۔ اس کی بنیادیں تاریخ کے روشن ترین حقائق پر قائم ہیں، اس کی تعلیمات عقلِ سلیم سے مکمل ہم آہنگ ہیں، اس کا اخلاق انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اور اس کا نظامِ حیات ہر دور کے انسان کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے اسلام کو صرف ایک مذہب نہیں بلکہ دینِ حق، دینِ صداقت اور دینِ یقین بنا دیا ہے۔
کائنات کا دین
اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کرتے ہوئے اسلام کو ان کے لیے بطورِ دین منتخب فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پوری کائنات کے اندر ہر شے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے سامنے سپرد گی (Submission)کیفیت میں ہے۔ کوئی بھی مخلوق اللہ تعالیٰ کے بتائے اور سکھلائے ہوئے رستے سے انحراف نہیں کرے گی۔ کائنات کی تخلیق کے بہت بعد جب انسان کو پیدا کرکے زمین میں بسایا گیا تو اسے حکم دیا گیا کہ وہ اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرماں برداری میں گزارے گا۔ اسی لیے پوری کائنات جس طرح اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت یعنی اسلام کو بطورِ مذہب کے اختیار کیے ہوئے ہےاور انسان کا اصل مذہب بھی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت ہے جس کا نام اسلام ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اور کائنات کے مابین ایک واضح فرق موجود ہے۔ کائنات اس بات پر مجبور ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انحراف نہ کرے، اسی لیے وہ ہر صورت میں اطاعت خدا وندی کی راہ پر ہمہ وقت گامزن ہے۔ کائنات کے مقابلے میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی میں آزمائش کی خاطر با اختیار بنایا ہے۔ اس لیے انسان کو اللہ تعالیٰ کی وہ اطاعت خود اپنی چاہت اور اختیار کے طور پر منتخب کرنی ہے جسے کائنات نے امرِ خدا وندی کے تحت جبری طور پر قبول کر رکھا ہے۔
کائنات اپنی تمام تر وسعت پذیری اور تنوع کے باوجود ایک مکمل اور جامع وحدت ہے۔ کائنات کے مختلف اجزاء ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک وحدانی نظا م کے ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔ کائنات کی ناقابلِ بیان وسعت اور لا تعداد اجزاء کا باہم ایک دوسرے سے ہر سطح پر اختلاف کے باوجود متحدالوجود (Unity in Existence)اور متفق المقصد(Unity in Purpose) کی موجود گی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ ایک خالق اور مالک کی اطاعت کرنے والی اور تنہا ہی اس کا ہی حکم ماننے والی ہے۔ انسان سے بھی اس کے اختیار کے باوجود یہی اطاعتِ ربّانی مطلوب ہے کہ وہ اپنی رضا مندی سے خدا کو ایک مان کر اس کی دی ہوئی ہدایت کے سامنے جھک جائے۔
اس دنیا میں موجود ہر مخلوق اپنے فرائض کو نہایت ذمہ داری کے ساتھ سر انجام دے رہی ہے۔ مخلوق خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، سورج چاند ستارے ہوں یا چیونٹی، مکھی، مچھر، شہدکی مکھی ہو، بلّی، خرگوش، بکری اور بھیڑ ہو یا گائے، بھینس یا اونٹ وہ انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ اپنے کام اس طرح سے سر انجام دے رہی ہے گویا کہ وہ کسی خدائی طاقت سے براہِ راست یا بالواسطہ احکامات موصول کررہی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے مذہبی اصطلاح میں وحی الٰہی (Divine Revelation)کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بھی اپنی اس ہدایت (Guidance)سے محروم نہیں کیا ہے۔ انسانوں کےدرمیان اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو مبعوث فرماکر انسانوں کی ہدایت کے لیے ان پر وحی کو اتارا ہے۔اس کامقصد صرف یہ تھا کہ تمام انسان دوسری مخلوقات کی طرح اپنی زندگی اس ہدایت الٰہی کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔ انسان سے اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے اور کیوں چاہتا ہے؟ کسی کام کے بارے میں اللہ کی رضا اور مرضی کیا ہے ؟ کن کاموں کو اللہ تعالیٰ پسند اور کن کاموں کو ناپسند فرماتا ہے۔ کون سے اعمال انسان کی نجات کے لیے ضروری ہیں اور کن کاموں سے انسان کو اپنا آپ بچانا ضروری ہے۔ یہ تمام تفصیلات اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے پیغمبروں پر نازل فرمائی۔ اسلام اس وحی کے سلسلے کی آخری اور سب سے زیادہ مستند صورت ہے۔ لہٰذا اسلام کو قبول کرنا ہی اللہ تعالیٰ کی رضا اور مرضی کو قبول کرکے اس کے سامنے جھکنے کا حقیقی مظاہرہ ہے۔
دینِ اعتدال
اسلام وہ کامل اور آفاقی دین ہے جو افراط و تفریط سے پاک، اعتدال، توازن اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام نہ یہودیت کی طرح غیر ضروری سختی اور تشدد کا قائل ہے اور نہ عیسائیت کی طرح ایسی نرمی اور رہبانیت کا جو انسان کو دنیا کی ذمہ داریوں سے الگ کر دے، بلکہ شریعتِ اسلامیہ شدت اور نرمی کے درمیان ایک معتدل، متوازن اور فطری راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ کو "امتِ وسط" یعنی اعتدال اور توازن والی امت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً... 143 6
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل اور بہترین امت بنایا ہے۔
اسی حقیقت کو نبیٔ اکرم ﷺ نے اپنے ارشاد "خیرُ الأُمورِ أوسطُها" (بہترین کام وہ ہیں جو اعتدال پر مبنی ہوں) کے ذریعے واضح فرمایا۔ اسلام کی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں توازن پیدا کرنا ہے تاکہ وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہو بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہو۔
اسلام انسان سے ایسی عبادت کا مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر تارک الدنیا راہب بن جائے، اور نہ ہی یہ پسند کرتا ہے کہ انسان دنیا کی دولت، آسائشوں اور خواہشات میں اس قدر گم ہو جائے کہ اپنی آخرت کو فراموش کر دے۔ اسلام دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔ اسی لیے وہ جائز نعمتوں اور پاکیزہ لذتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن اسراف، فضول خرچی، لہو و لعب، بے راہ روی اور ناجائز خواہشات کی پیروی سے سختی سے روکتا ہے۔ قرآنِ کریم مسلمانوں کو یہ جامع دعا سکھاتا ہے:
... فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ201 7
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
یہ دعا اس حقیقت کی بہترین ترجمان ہے کہ اسلام انسان کو صرف آخرت یا صرف دنیا کا نہیں بلکہ دونوں جہانوں کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔
اسلام کی اعتدال پسند تعلیمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے ہر نیک اور جائز عمل کو عبادت قرار دیا ہے، بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیا جائے۔ کسبِ حلال کی جدوجہد، علم کا حصول، والدین کی خدمت، اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرنا، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محتاجوں اور یتیموں کی مدد، بیماروں کی عیادت، معاشرے کی اصلاح، عدل و انصاف کا قیام، امانت و دیانت، وعدے کی پابندی اور انسانیت کی خدمت—all یہ اعمال بھی عبادت شمار ہوتے ہیں۔ اس طرح اسلام انسان کی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اطاعت کا نمونہ بنا دیتا ہے۔
اسلام کے دینِ فطرت ہونے کا ایک نمایاں تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں پر کسی قسم کی غیر فطری، ناقابلِ برداشت یا انسان کی فطرت کے خلاف ذمہ داریاں عائد نہیں کرتا۔ اس کے تمام احکام انسانی فطرت، عقل، ضرورت اور مصلحت کے عین مطابق ہیں۔ اسلام انسان کی جسمانی، روحانی، اخلاقی، ذہنی، معاشرتی اور معاشی ضروریات کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کرتا ہے جس کی مثال کسی دوسرے نظامِ حیات میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ رہبانیت کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی بے لگام مادہ پرستی کی، بلکہ انسان کو ایک متوازن، ذمہ دار اور باوقار زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔
اسلام تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا خلاصہ، تمام آسمانی شریعتوں کی تکمیل اور تمام حکمتوں کا نچوڑ ہے۔ اس نے ہر خیر اور بھلائی کا حکم دیا ہے اور ہر شر اور برائی سے روکا ہے۔ نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا:
ما تركتُ من خيرٍ إلا وقد أمرتُكم به، وما تركتُ من شرٍ إلا وقد نهيتُكم عنه. 8
میں نے کوئی ایسی بھلائی نہیں چھوڑی جس کا تمہیں حکم نہ دیا ہو، اور کوئی ایسی برائی نہیں چھوڑی جس سے تمہیں منع نہ کیا ہو۔
اسی لیے اسلام کی تعلیمات صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ عقائد، اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست، عدل، تعلیم، خاندانی نظام، انسانی حقوق اور بین الاقوامی تعلقات سمیت زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہیں۔ اسلام انسان کو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اعتدال، عدل، رحم، حکمت، اخوت، خدمتِ خلق اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اسلام کی انہی معتدل تعلیمات پر عمل کیا تو وہ علم، تہذیب، اخلاق، عدل، سائنس، طب، تجارت اور انسانی خدمت کے میدانوں میں دنیا کی رہنمائی کرنے لگے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں توازن، انصاف، امن اور خوشحالی نمایاں تھی۔ اس کے برعکس جب مسلمانوں نے اعتدال کا راستہ چھوڑ کر افراط یا تفریط کو اختیار کیا تو ان کی اجتماعی قوت کمزور پڑتی گئی۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام دینِ اعتدال، دینِ فطرت اور دینِ توازن ہے۔ یہ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اس کی تعلیمات انسان کی فطرت کے مطابق، عقل سے ہم آہنگ اور ہر زمانے کے لیے قابلِ عمل ہیں۔ اسلام انسان کو نہ دنیا سے فرار کی تعلیم دیتا ہے اور نہ دنیا پرستی کی، بلکہ وہ ایک ایسی متوازن زندگی کا تصور پیش کرتا ہے جس میں بندگیِ رب، خدمتِ خلق، اخلاقِ حسنہ، کسبِ حلال، عدل، رحمت اور ذمہ داری سب ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہی اعتدال اسلام کی امتیازی شان ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو فرد، معاشرے اور پوری انسانیت کی حقیقی فلاح و کامیابی کا ضامن ہے۔
دینِ امن و سلامتی
اسلام امن، سلامتی، رحمت اور خیر خواہی کا دین ہے۔ لفظ "اسلام" خود سلامتی، اطاعت اور امن کے مفاہیم پر دلالت کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اپنے خالق کے ساتھ تعلق استوار کرنے، اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور دوسرے انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس دین کا بنیادی مقصد زمین پر فساد، ظلم، ناانصافی اور انسانی استحصال کا خاتمہ کرکے ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں انسان عزّت ، امن اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ قرآنِ مجید نے بار بار انسانوں کو صلح، عدل، احسان، درگزر اور باہمی احترام کی تلقین کی ہے اور ہر اس عمل سے منع کیا ہے جو معاشرے میں انتشار، نفرت اور فساد کا سبب بنے۔ اسی لیے اسلام کی تعلیمات کا مرکز انسانیت کی فلاح، معاشرتی استحکام اور عالمی امن کا قیام ہے۔
اسلام نے امن کو محض ایک سیاسی یا سماجی ضرورت قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایمان اور اخلاق کا لازمی تقاضا بنایا ہے۔ رسول اللہﷺ نے مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ 9 یہ تعلیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں حقیقی دینداری کا معیار محض عبادات کی کثرت نہیں بلکہ انسانوں کے جان، مال، عزّت اور حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ چنانچہ اسلام نے قتل، ظلم، دھوکہ دہی، خیانت، بہتان، انتقام پرستی اور انسانی حقوق کی پامالی کو سختی سے ممنوع قرار دیا اور ان کی جگہ محبت، رواداری، عدل اور خیر خواہی کو فروغ دیا۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ ایک مومن کی شخصیت امن و سلامتی کا پیکر ہونی چاہیے جس سے دوسروں کو خوف نہیں بلکہ اطمینان حاصل ہو۔
تاریخِ اسلام بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اسلام نے جہاں قدم رکھا وہاں عدل و انصاف، علم و تہذیب اور انسانی احترام کی نئی مثالیں قائم ہوئیں۔ رسول اکرم ﷺ نے مدِینہ منوّرہ میں مختلف مذاہب اور قبائل پر مشتمل معاشرے کو ایک ایسے معاہدے کے ذریعے متحد کیا جس میں سب کے حقوق اور مذہبی آزادی کو تسلیم کیا گیا۔ اسی طرح خلفائے راشدین کے دور میں مفتوحہ اقوام کے جان و مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ اسلامی تہذیب کے عروج کے زمانے میں مختلف مذاہب، زبانوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی معاشرے میں امن کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ یہ تاریخی حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ عدل، اخلاق اور حسنِ کردار کے ذریعے دلوں کو فتح کرنے والا دین ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا جنگوں، نفرتوں، نسلی تعصبات اور معاشرتی انتشار کا شکار ہے، اسلام کا پیغامِ امن پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام انسانیت کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی رب کی مخلوق ہیں اور عزّت و فضیلت کا معیار نسل، رنگ یا قومیت نہیں بلکہ کردار اور تقویٰ ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کو ان کی اصل روح کے مطابق سمجھا اور اختیار کیا جائے تو وہ نہ صرف انفرادی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کر سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی اخوت کے قیام میں بھی انتہائی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کو بجا طور پر دینِ امن و سلامتی، دینِ رحمت اور دینِ انسانیت کہا جاتا ہے۔
اسلام کے پیغامِ امن کی سب سے روشن مثال فتحِ مکہ ہے۔ مکہ کے مشرکین نے تیرہ سال تک رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا، انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور متعدد جنگیں مسلط کیں۔ لیکن جب مکہ فتح ہوا اور دشمن مکمل طور پر مسلمانوں کے رحم و کرم پر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے انتقام لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا اور ارشاد فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔" انسانی تاریخ میں فاتحین کی جانب سے ایسی عظیم مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
مدِینہ منوّرہ پہنچنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مختلف قبائل اور مذاہب کے درمیان میثاقِ مدِینہ قائم فرمایا۔ اس معاہدے کے تحت مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر قبائل کو مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور باہمی تعاون کی ضمانت دی گئی۔ یہ دنیا کی اولین تحریری سماجی و سیاسی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے جس نے ایک کثیر المذاہب معاشرے میں امن اور بقائے باہمی کی بنیاد رکھی۔
جب عمر بن خطاب کے دور میں بیت المقدس فتح ہوا تو وہاں کے عیسائی باشندوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی۔ ان کے گرجا گھروں، املاک اور مذہبی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ حضرت عمر
نے کلیسیائے مقبرہ مقدس (Church of Holy Sepulcher)میں نماز ادا کرنے کی پیشکش بھی قبول نہیں کی تاکہ بعد میں مسلمان اس جگہ پر قبضے کا جواز نہ بنا سکیں۔ یہ مذہبی رواداری اور امن پسندی کی ایک عظیم مثال ہے۔
جنگ کے اصول
اسلام نے اگر کسی وجہ سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین جنگ کی صورت پیش آجائے تو اس صورت میں بھی امن اور انسانیت کے اصول کو سختی سے قائم رکھنے کی تاکیدکی ہے۔ کیونکہ اسلام میں بغیر کسی اعلیٰ مقصد میں جنگ برائے جنگ صرف اور صرف فتنہ اور فساد مچانا ہے جس کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ فوجوں کو ہدایت دیتے تھے کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں،10 عبادت گاہوں میں مصروف راہبوں اور عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے، 11 درخت نہ کاٹے جائیں اور کھیتوں کو تباہ نہ کیا جائے۔ 12 آج کے بین الاقوامی انسانی قوانین سے صدیوں پہلے اسلام نے جنگ کے یہ اخلاقی اصول متعارف کروائے تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ تبلیغِ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ کو شدید اذیتیں پہنچائیں اور پتھر مار کر لہولہان کر دیا۔ اس موقع پر فرشتۂ پہاڑ نے ان لوگوں کو ہلاک کرنے کی اجازت طلب کی، مگر آپ ﷺ نے ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی اور فرمایا کہ شاید ان کی آنے والی نسلیں حق کو قبول کر لیں۔ دشمنوں کے لیے بھی خیر خواہی اور رحمت کا یہ جذبہ اسلام کے حقیقی مزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام کا اصل پیغام انتقام، تشدد اور نفرت نہیں بلکہ امن، عدل، رحمت، رواداری اور انسانی احترام ہے، اور یہی وہ اصول ہیں جن پر ایک پُرامن اور مستحکم معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی سے فائدہ حاصل کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو ان کی حقیقی روح کے مطابق سمجھا اور عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ موجودہ دنیا جنگوں، نسلی تعصبات، مذہبی انتہاپسندی، معاشی استحصال اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے۔ اسلام انسانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی رب کی مخلوق ہیں اور ان کی جان، مال اور عزّت قابلِ احترام ہیں۔ اگر افراد، معاشرے اور ریاستیں عدل، رواداری، احترامِ انسانیت اور باہمی تعاون کے اسلامی اصولوں کو اپنالیں تو بہت سے سماجی اور سیاسی تنازعات کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسلام کا پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود امن، مکالمے اور انصاف کا راستہ اختیار کیا جائے، نہ کہ نفرت، تشدد اور انتقام کا۔
اسی طرح اسلام کے پیغامِ سلامتی سے انفرادی سطح پر بھی بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آج بے شمار لوگ ذہنی دباؤ، بے چینی، خاندانی انتشار اور روحانی خلاء کا شکار ہیں۔ اسلام انسان کو اپنے رب پر توکل، صبر، شکر، درگزر، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتا ہے، جس سے قلبی سکون اور باطنی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان اپنی ذات سے دوسروں کو محفوظ رکھتا ہے، سچائی اور دیانت داری کو اختیار کرتا ہے اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے تو وہ اسلام کے پیغامِ امن کا عملی نمونہ بن جاتا ہے۔ اس طرح اسلام کا پیغام صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، استحکام، عدل اور خوش حالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسلام کا پیغامِ امن صرف نظری تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی میں اس کے بے شمار فوائد ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر معاشرے میں اسلامی اصولوں کے مطابق عدل و انصاف قائم کیا جائے، کمزوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، امیر و غریب کے درمیان توازن پیدا کیا جائے اور باہمی اختلافات کو گفت و شنید اور رواداری کے ذریعے حل کیا جائے تو معاشرتی بے چینی، جرائم اور نفرتوں میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ آج دنیا کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، مثلاً انتہاپسندی، معاشی ناانصافی، خاندانی نظام کی کمزوری اور اخلاقی انحطاط، ان سب کے حل کے لیے اسلام متوازن اور عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اگر مسلمان خود اسلام کے امن، رحمت، اخوت اور عدل پر مبنی پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں اور اپنے کردار کے ذریعے اسے دنیا کے سامنے پیش کریں تو اسلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، استحکام اور خوش حالی کا سرچشمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دینِ مساوات
تمام مذاہب میں اسلام وہ واحد دین ہے جو کسی انسانی تفریق پر یقین نہیں رکھتا۔ اس لیے اسلام میں کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کوئی فضیلت حاصل نہیں، اسی طرح کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر اُس کی رنگت کی وجہ سے کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ البتہ جو شخص پاکدامنی اور تقویٰ میں برتر ہوگا تو وہ قطع نظر اپنی نسل و رنگت کے دوسروں پر فضیلت کا حامل ہوگا۔ مساوات کی یہ تعلیم اسلام نے انسانوں کو اس دور میں دی جب قومی، نسلی، لسانی اور جغرافیائی تقسیمات کی بنیاد پر ایک اِنسانی گروہ کو دوسرے انسانی گروہ پر ترجیح اور فضیلت دینا زمانے کی عام روش تھی۔ آج جب جدید جاہلیت نے انسانوں کو ایک مرتبہ پھر مختلف خانوں میں بانٹ کر ایک انسانی گروہ کو دوسرے سے برتر قرار دینے کے لیے ہر قسم کے ظلم کو روا رکھا ہے اور مختلف نعروں کی بنیاد پر مشرق و مغرب، عرب و عجم، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، امیر و غریب اور سفید و غیر سفید اقوام میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایسی صورت میں اسلام ہی وہ واحد دین ہےجو آج دنیا بھی میں رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر بٹے ہوئے انسانوں کے درمیان وحدت اور مساوات کا حقیقی علمبردار ہے۔ اسلام نے اپنی اس تعلیم کو صرف نظریہ تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ نبیٔ کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ، خلفائے راشدین کا دورِ خلافت اور اس کے بعد جب جب اور جہاں جہاں مسلمانوں کی اسلامی سلطنت اور خلافت قائم ہوئی مساوات کی اس تعلیم کو نہایت قوّت کے ساتھ نافذ کیا گیا۔
اسلام نے تمام انسانوں کو بحیثیت انسان حضرت آدم
کی اولاد قرار دے کر باعثِ عزّت و تکریم قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس کے مقام و مرتبہ کو مزید بلند کرتے ہوئے تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا کنبہ قرار دیا ہے ۔ 13تاکہ انسان دوسرے تمام انسانوں کی عزّت و تکریم اوراُن کے حقوق کا خیال اِس طرح رکھیں جس طرح وہ خود اپنے اہلِ خانہ کے حقوق و حاجات کا خیال رکھتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کو اِس بات کی بھی تاکیدکی گئی ہے کہ وہ انسانوں میں وہ تمام لوگ جن پر ناکردہ گناہوں کی پاداش میں یا اُن کے رنگ نسل اور مذہب کے اختلاف کی وجہ سے ظلم ڈھایا جارہا ہو تو اُن کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کریں۔ ظالم خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کا ہاتھ ظلم سے روکنے کے لیے جو کچھ قولاً، فعلاً اور عملاً ممکن ہو اُسے کر گزریں۔ 14 اسلام کسی بھی مسلمان کو کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کی اجازت عام حالات میں تودرکنار خود میدانِ جنگ میں بھی نہیں دیتا اور نہ ہی کسی کے ساتھ دھوکہ بازی اور خیانت کو کسی بھی درجے میں قبول کرتا ہے۔ اس طرح کے غیر اَخلاقی کام کرنے والوں کو اسلام، مسلمانوں کی صف میں شمار ہی نہیں کرتا خواہ وہ کتنے ہی عبادات گزار اور پرہیز گار بننے کی جستجو کرتے ہوئے نظر آئیں۔
ظاہر و باطن کا دین
اسلام ایک ایسا آفاقی دین اور مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی یعنی مادّی و روحانی با الفاظ دیگر دنیوی و اُخروی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے انسان محض گوشت پوست کے ایک جسم کا نام نہیں بلکہ وہ عقل، قلب، روح اور جذبات کا ایک حسین مجموعہ ہے۔ اس لیے اس کی حقیقی فلاح اسی وقت ممکن ہے جب اس کی جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ اس کی فکری، اخلاقی اور روحانی ضروریات بھی پوری ہوں۔ اسلام انسان کو زندگی کے مقصد، کائنات کی حقیقت، خیر و شر کے معیار اور انسان و خالق کے تعلق کے بارے میں واضح اور قطعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام محض عبادات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے ایک متوازن، بامقصد اور باوقار زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
دنیا میں مختلف ادوار میں بے شمار مذاہب، فلسفے اور نظریات انسانوں کی رہنمائی کے دعوے کے ساتھ سامنے آئے، لیکن ان میں سے اکثر یا تو وقت کے ساتھ تحریفات کا شکار ہو گئے یا انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو تک محدود ہو کر رہ گئے۔ بعض مذاہب نے روحانیت کو اس قدر اہمیت دی کہ دنیاوی زندگی کے تقاضے پس منظر میں چلے گئے، جبکہ بعض جدید نظریات نے مادّی ترقی کو زندگی کا واحد مقصد قرار دے کر انسان کی روحانی اور اخلاقی ضرورتوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ انسان کے بنائے ہوئے بعض نظام، زندگی کو مادّی و معاشی آسودگی تو فراہم کرتے ہیں مگر قلبی سکون اور روحانی اطمینان سے محروم رکھتے ہیں، جبکہ بعض نظریات انسان کی روح کو تسکین دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عملی زندگی کے مسائل کا کوئی جامع حل پیش نہیں کرتے۔ اس کے برعکس اسلام ایک ایسا متوازن نظام پیش کرتا ہے جو انسان کی پوری شخصیت کو مخاطب کرتا ہے اور اس کی تمام ضرورتوں کو ایک وحدت میں جمع کر دیتا ہے۔
اسلام انسان کے ظاہر کی اصلاح کے لیے عدل، امانت، دیانت، حسنِ اخلاق، معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور اجتماعی ذمہ داری جیسے اصول عطا کرتا ہے، جبکہ اس کے باطن کی پاکیزگی کے لیے ایمان، تقویٰ، اخلاص، صبر، شکر، توکل اور محبتِ الٰہی جیسی صفات پیدا کرتا ہے۔ نماز انسان کو اپنے رب سے جوڑتی ہے، روزہ خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے، زکوٰۃ ایثار اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور حج عالمگیر اخوت و مساوات کا عملی مظہر بن جاتا ہے۔ اس طرح اسلام انسان کے باطن کو نورِ ایمان سے منور کرتا ہے اور اس کے ظاہر کو بہترین کردار اور عمدہ عمل سے آراستہ کرتا ہے۔
اسی جامعیت اور اعتدال کی وجہ سے اسلام ہر دور اور ہر خطے کے انسانوں کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ فہم دین ہے۔ یہ کسی مخصوص نسل، قوم، زبان یا جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام ہے۔ اسلام انسان کو نہ دنیا سے فرار کی دعوت دیتا ہے اور نہ دنیا پرستی کی؛ بلکہ وہ اسے دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جو اسلام کو دیگر مذاہب اور نظریات سے ممتاز کرتا ہے اور اسے حقیقتاً انسان کے "ظاہر و باطن کا دین" بناکر پیش کرتا ہے، اسلام انسان کے جسم کو بھی سکون کی تعلیم دیتا ہے، اس کی عقل کو بھی اطمینان بخشتا ہے اور اس کی روح کو بھی اپنے خالق کے قرب سے ہمکنار کرنے کے لیے ایک جامع نظام ہدایت رکھتا ہے۔
تجربہ شدہ دین
اس تناظر میں نظریہ اسلام نے مسلمانوں کو اس قابل کیا کہ وہ دنیا کے مختلف خطوں پر کم و بیش ایک ہزار برس تک حکمران رہےاور اسلامی تہذیب دوسری تہذیبوں پر غالب رہی۔ لیکن اسلام اور اسلامی تہذیب نے کبھی کسی صورت مذہب اور کسی دوسری قوم اور تہذیب پر اپنا جبر نافذ نہیں کیا۔ نہ کسی کے ساتھ ظلم و ستم پر مبنی روّیہ اختیار کیا گیا اور نہ ہی وعدوں اور عہد کی خلاف ورزی کی گئی۔ (غیر مسلم فرد ہو یا قوم ان کے ساتھ امتیاز اور ماورائے قانون و انصاف کوئی جابرانہ طرزِ عمل اختیار نہیں کیا گیا۔ جس طرح ماضی میں اسلام اور اسلامی تہذیب، عدل و انصاف اور مساوات پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ تمام انسانوں کی بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب کے خیر خواہی کے تصوّر پر مبنی تھی اسی طرح آج بھی دوبارہ اگر اسلامی تہذیب اور اسلامی حکومت دنیا کے کسی خطے میں قائم ہوگئی تو نظریۂ اسلام دنیا کے تمام انسانوں کے لیے حقیقی سائبان کی مانند ہوگا۔
آج اگر دنیا دوبارہ بطورِ آزمائش کے اسلامی نظامِ زندگی کو اختیار کرلے تو اس میں تمام انسانی گروہوں کو امن و سکون میسر آسکتا ہے۔ اسلام کی معاشی اور معاشرتی تعلیمات موجودہ دور کے عالم گیر معاشی، معاشرتی اور اخلاقی بگاڑ اور فساد کےخاتمہ کے لیے تریاق ثابت ہوسکتا ہے۔ حرص و ہوس اور مادّی مفادات و لالچ کا خاتمہ اگر کسی فلسفہ اور نظریئے کے تحت ممکن ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔
ہر پڑھا لکھا اور با شعور انسان سوچتا ہے کہ وہ کونسا مذہب ہے جس کو وہ اختیار کرے۔ خالص علمی و عقلی اعتبار سے اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو صرف اور صرف اس مذہب کو اختیار کرناچاہیے جو ہر لحاظ سے مستند اور ثابت شدہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذہب ایک طرف تو تاریخ کے اعتبار سے بھی مستند ہو اور عقل و فکر کے لحاظ سے بھی اس کے عقائد ہر قسم کی پیچیدگیوں (Complications) سے پاک و صاف ہوں۔ ہر صالح فطرت اور باشعور انسان چاہتا ہے کہ وہ جس مذہب کو اختیار کرے اس کی تعلیمات سمجھنا سادہ، آسان، قابلِ فہم ہو۔ اس مذہب کی مقدس کتاب یا صحیفہ اپنی اصل تعلیمات کی صورت میں محفوظ ہو۔ اس مذہب کے بانی یا پیغمبر کی ذات بھی تاریخی اعتبار سے معتبر ہو اور اس پیغمبر کی پوری زندگی بطورِ آئیڈیل کے اس کے سامنے موجود ہو۔ اس مذہب کی تعلیمات دنیا کے تمام انسانوں کے لیے یکسا ں ہدایت کا ذریعہ ہو۔ وہ تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہونے کے ناطے سے قابلِ قدر، لائق تکریم اور یکساں قانون کا پابند سمجھتا ہو۔ وہ مذہب اچھے اور برے انسان میں فرق روا رکھ کر ہر انسان کی دنیاوی و اُخروی کامیابی کو اس کے اعمالِ صالح اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ سمجھتا ہو۔ اس مذہب میں کوئی ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہوں پر محض کسی مخصوص نسل کے تعلق کی وجہ سے فضیلت و برتری کا تصوّر نہیں رکھتا ہو۔ وہ مذہب کسی گناہ اور جرم کی پاداش میں کسی مخصوص طبقے کی استثناء کاروا دار نہ ہو۔ جہاں مرد اور عورت کے حقوق برابر ہوں۔ جہاں کسی خاص طبقے (Elite Class)کا تصوّر نہیں پایا جاتا ہو۔ جہاں ہر بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہو۔ جہاں ہر انسان خواہ وہ پرہیز گار ہو یا گناہ گار اس کا اپنے رب کے ساتھ تعلق بغیر کسی درمیانی واسطے کے براہِ راست قائم ہوسکے۔ جس مذہب میں انسان کی عزّت نفس کا بھرپور خیال رکھاجاتا ہو۔ جس مذہب کی عبادات کی ادائیگی چھوٹے بڑے، مرد عورت، صحت مند وبیمار اور مقیم و مسافر کے لیے یکساں و آسان ہو۔ جو مذہب انسان سے صرف اس قدر تکلیف برداشت کرنے کا تقاضہ کرتاہو جس کا تحمل کمزور سے کمزور ترین افراد بھی کرسکتےہوں۔ جو مذہب عبادات کے ایک مکمل نظام کے ساتھ ساتھ معاملات، اَخلاق، انسانی تعلقات سمیت زندگی کے تمام دائروں میں ہدایت و رہنمائی فراہم کرنے والا ہو۔ وہ مذہب جس کاہر پہلو انسان کے لیے سمجھنا اور برتنا آسان ہو۔ یقین جانیے بغیر کسی مصنوعی اور جذباتی دعوے کے اگر روئے زمین پر ایسا کوئی مذہب آج موجود ہے تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔
انسان کے لیے وہی مذہب قابلِ قبو ل ہوسکتا ہے جو ذاتی تجربات، انسانی قلبی واردات، ذہن میں اٹھنے والے انسانی خیالات، دل میں پیدا ہونے والے جذبات اور کسی ردّعمل کی نفسیات کا نتیجہ نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر کسی انسان کی چاہت یا عدمِ چاہت کا نتیجہ بھی نہ ہو بلکہ انسانوں کے خالق کی چاہت اور رضا پر مشتمل تعلیمات کا محفوظ مجموعہ ہو۔ اس ضمن میں اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی تعلیمات میں شروع سے لے کر آج تک کوئی انسان خواہ وہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو اپنی چاہت اور مرضی کو داخل نہیں کرسکا۔ اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کا دعویٰ نبوت انسانی تاریخ میں حق و صداقت (Authenticity)کے اس معیار پر پہنچا ہوا ہے، جس کو جھٹلانے کی ہمت نبیٔ کریم ﷺ کے بدترین دشمن بھی نہیں کرسکے۔ آپﷺ کے دشمنوں میں سے کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ قرآنِ کریم کا آسمانوں سے نزول، جبرائیل کا آپ کی خدمت میں آنا، قرآنی آیات کا آپ پر مختلف اوقات میں نازل ہونا محض آپﷺ کا جھوٹا دعویٰ ہے۔ یہ سب کچھ حقیقت پر مبنی ایک زندہ اور سچا عمل اس لیے قرار دیا گیا کہ نزول وحی کا مقدس ترین عمل ہزاروں انسانوں (صحابہ کرام )کے سامنے مختلف اوقات میں وقوع پذیر ہوا۔ اسی طرح آپﷺ کی دی ہوئی پیشن گوئیوں کا کبھی غلط ثابت ہونا یا آپﷺ کی باتوں کا خلاف عقل و خِرد ہونا یا آپﷺ کی دی ہوئی بشارات کا مکمل نہ ہونا بھی کبھی ثابت نہیں کیا جاسکا۔
آج انسانیت کو صرف اس مذہب کی ضرورت ہے جس نے علمی اور عملی طور پر انسانیت کی خدمت کی ہو۔ آج دنیا سائنسی و تمدّنی ترقیوں کی راہ پر گامزن ہے۔ انسان چاند اور سورج سے آگے کے سیاروں اور کائناتی کہکشاؤں پر غلبہ کی کمندے ڈال رہا ہے۔ تسخیر کائنات کا یہ تصوّر مشرکانہ عقائد اور مظاہر پرستی کے رد پر مبنی ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ خالقِ کائنات پر ایمان لا کر اس کی جملہ مخلوقات بشمول مادّی کائنات کے تمام مظاہر پر غلبے اور انہیں تسخیر کرنے کا تصوّر پہلی مرتبہ تمام مذاہب میں اسلام نے پیش کیا ہے۔
دینِ اسلام وہ سچا دین ہے جو علم اور سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی حقانیت کا مسلسل اظہار کرتا چلا جارہا ہے۔ اسلام کو نہ سائنس کی ترقی سے کسی قسم کا خطرہ ہےاور نہ ہی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایجادات اسلام کی حقانیت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ جیسے جیسے مختلف تحقیقات کے نتیجے میں نئی دریافتوں کا دائرہ بڑھتا چلا جارہا ہے ویسے ویسے اسلامی تعلیمات و احکامات کےرموز و اسرار بھی اسلام کی حقانیت کو منکشف کرتے چلے جارہے ہیں۔ بنیادی اسلامی تعلیمات جدید چیلنجز کے مقابلے میں آج تک غیر متزلزل انداز میں کھڑی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کو دنیا کی مادّی ترقی اور علمی پیشرفت سے کبھی غیر متعلق ہونے کا کوئی خطرہ لاحق ہونے کا امکان اس لیے نہیں ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا سچا اور آخری الہامی دین ہے جو کائنات کے خالق و مالک نے اپنے آخری نبی ﷺ پر اُتارا ہے ویسے ہی وہ بالکل آج بھی مکمل طور پر محفوظ شکل میں موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسانی وجود اور کائناتی حقیقت کی ہر دریافت اسلامی تعلیمات کی حقانیت کا مزید اثبات کررہی ہوتی ہیں، مثلاً رحم مادر میں بچے کا پروان چڑھنا، چاند، سورج اور دوسرے سیاروں کا اپنے اپنے مدار میں گردش کرنا، سمندر میں کڑوے اور میٹھے پانی کے درمیان نظر نہ آنے والے پردوں کی موجودگی کا ہونا، سمندر کی تاریکی میں تہہ بہ تہہ حجابات کا ہونا، سود، شراب، سٹے اور بَدکاری کی حرمت وغیرہ سمیت سینکڑوں اسلامی تعلیمات کے حسن و قبح کی تصدیق جدید انکشافات، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سچ اور حق ثابت ہوتی چلی جارہی ہیں۔
اسلام انسان کے ان بنیادی اور فطری سوالات کے جوابات کو واضح اور تفصیلی طور پر دیتا ہے جو آج بھی تمام ترقیوں کے باوجود انسان کے لیے چیستان بنے ہوئے ہیں۔ وہ سوالات خود اپنی ذات سے متعلق ہوں یا اس کے خالق و مالک کی ذات سے متعلق ہوں، کائنات سے متعلق ہوں یا انسان کے اپنے رب کے ساتھ تعلق کی نوعیت پر مبنی ہوں، انسانوں کے اپنے درمیان فرائض سے متعلق ہوں یا ان کے باہمی حقوق سے ان کا تعلق ہو۔
پاکیزگی کا دین
اسلام وہ دین ہے جس کو دنیا کا ہر عفّت مآب و با عصمت (Chaste)اور نیکوں کار و پرہیز گار(Pious) شخص جاننے کے فوراً بعد بغیر کسی تردد کے دل و جان سے قبول کرلیتا ہے۔ اسلام ہر مسلمان سے جسمانی اور روحانی پاکیزگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ جسمانی طہارت کے ذریعے باطن کی پاکیزگی مطلوب ہوتی ہے اور باطنی صفائی کے ذریعے انسان کے مادّی وجود اور ارد گرد کی مادّی دنیا میں پاکیزگی کا ظہور اسلام کا مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کا اپنے ماننے والوں سے تمام عبادات، معاملات اور اَخلاقیات میں پاکیزگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ 15 ہر مسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ نماز کی ادائیگی فرض ہے۔ یہ نمازیں اس وقت تک ادا نہیں کی جاسکتیں جب تک جسمانی طہارت حاصل نہ کرلی جائے ۔ اسی لیے اسلام ، مسلمان کو اپنے ظاہری جسمانی اعضاء کو دن میں پانچ مرتبہ وضو کے ذریعہ پاک رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ وضوکے لیے پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں علامتی وضو(تیمم) کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کسی انسان کو بشری تقاضے کے تحت ناپاکی لاحق ہوجائے تو اسے غسل کرکے اپنے پورے جسم کو سر کے بالوں سے پاؤں تک دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب تک جسم کو پانی یا پھر تیمم سے پاک نہیں کرلیا جائے اس وقت تک انسان ناپاکی کی حالت میں رہتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ کسی بھی قسم کی فرض عبادت ادا نہیں کرسکتا۔
اسلام نے انسان کی جائز نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی نکاح کی صورت میں بھرپور انتظام کر رکھا ہے۔ اسلام قلب و نظر کی پاکیزگی اور مال و دولت کی طہارت کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا حقیقی ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسی غرض کے حصول کے لیے دن میں پانچ مرتبہ فرض نمازوں کی ادائیگی، سال میں پورے ایک مہینے تک صبح سے شام تک مسلسل روزہ رکھنا، سال میں ایک مرتبہ صاحبِ نصاب کے لیے زکوٰۃ کی فرائض کا ادا ہونا اور وہ شخص جو جسمانی اور مالی طور پر حج کی مشقت برداشت کرسکتا ہو اس کے لیے زندگی میں ایک بار بیت اللہ کا فرض حج ادا کرنا مقرر کیا گیا ہے۔ تمام فرض اور واجب عبادات کا مقصد دل کی پاکیزگی کا حصول ہے۔ اسلام میں قلب و جسم کی پاکیزگی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ مردوں اور عورتوں کو برے خیالات سے بچانے کے لیے نگاہوں کو خیالات کو بھی پاکیزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جسمانی اور روحانی پاکیزگی کے اس جامع تصور کے نتیجے میں ہر نیک فطرت، نرم دل، خوش اخلاق شخص جو اسلام کے بارے میں آگاہی حاصل کرتا ہے اُسے اسلام قبول کرنا ایسا ہی لگتا ہے گویا کہ وہ اپنی فطرت کی پکار پر لبیک کہہ رہا ہو۔ اس کے برعکس مجرمانہ ذہنیت کے حامل لوگ جو زندگی میں جَرائم اور گناہوں سے رجوع کرنے کی خواہش نہیں رکھتے اور پوری زندگی لوگوں کی جان، مال، عزّت اور عصمت کے ساتھ کھیلنے والے ہیں۔ وہ اسلام کی صورت میں اپنے لیے پابندی کا قانون برداشت کرنے پر تیارنہیں ہوتے۔ اسی طرح و ہ لوگ جو اپنی زندگیاں حلال و حرام کی تمیز، جائز و ناجائز کے فرق، اچھے اور بُرے کے درمیان تفریق کے بغیر گزارنا چاہتے ہیں۔ انہیں اسلام میں داخل ہونا بہت گراں گزرتا ہے۔ مجرم صفت اور گناہوں کی لت میں ڈوبے ہوئے وہ لوگ جو دل و جان سے اپنے سابقہ جَرائم اور گناہوں پر شرمندہ ہوکر اپنے رب سے توبہ کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے رب تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کی سب سےبڑی پناہ گاہ اسلام ہے۔
قلب و روح کی طہارت کے ساتھ ساتھ اسلام جسم و بدن کی پاکیزگی پر بھی بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں پنج وقتہ فرض نمازوں، قرآن کریم کی تلاوت، حج کی ادائیگی سمیت جملہ دوسری عبادات جسمانی طہارت کے بغیر جائز نہیں ہیں۔ جسم کو پاک و صاف رکھنے کے لیےکم از کم ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعۃ المبارک کے دن غسل کرنا بھی نبیٔ کریم ﷺ کی سنّت مبارکہ ہے۔ اسی طرح عیدین کے موقع پر جسمانی طہارت غسل اوروضو کے ذریعے حاصل کی جانی بھی نبیٔ کریمﷺ کی سنّت مبارکہ ہے۔ مسلمان گھر اور مسجد دونوں جگہ عبادات کی ادائیگی کرتا ہے۔ لہٰذا جس طرح مسجد کو پاک و صاف رکھنا ضروری ہے ویسے ہی ایک مسلمان کا گھر اور اس کے ارد گرد کا ماحول بھی پاک و صاف رکھنا ضروری ہے۔
دینِ انسانیت
تمام انسانوں کا حقیقی دینِ اسلام اور فقط اسلام ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلافِ مذہب کے باوجود اسلام تمام انسانوں کو یکساں ادب و احترام کے قابل سمجھتا ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ کی زندگی میں جب آپﷺ مدِینہ میں قیام پذیر تھے تو ایک دن آپﷺ نے دیکھا کہ ایک رستے سے جنازہ گزر رہا ہے۔ لوگ میت اٹھائے قبرستان کی طرف جارہے ہیں۔ اس وقت آپﷺ بیٹھے ہوئے تھے جنازہ کو دیکھ کر آپﷺ اس جنازے کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ آپﷺ کے ایک ساتھی نے کہا کہ اے خدا کے رسول! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا(یعنی یہ جنازہ کسی مسلما ن کانہیں تھا)، آپﷺ نے سن کر فرمایا: "کیا وہ انسان نہیں تھا؟ "۔ نبیٔ کریم ﷺ یہودی مذہب سے مسخ شدہ عقائد و تبدیل شدہ تعلیمات کی وجہ سے اختلاف ضرور رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپﷺ نے یہودی کو ایک انسان کی حیثیت سے دیکھا اور انسان کی حیثیت سے ا س کا احترام کیا۔ دوسرے کے معاملے میں یہی احترام بین المذاہب ہم آہنگی کی اصل بنیاد ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ نے تمام مسلمانوں کے لیے حضرت موسیٰ
اور حضرت داؤد
سمیت تمام انبیاء پر ایمان لانے کو لازم قرار دیا اور ساتھ ہی تورات مقدّس پر ایمان کے بغیر کسی بھی مسلمان کے ایمان کو نامکمل قرار دیا ۔ نبیٔ کریم ﷺ نے یہودی علما کے ساتھ مختلف موضوعات پر علمی مباحثوں اور علمی اختلافات کے باوجود کبھی یہودیت کو بطورِ مذہب کے طعن و تشنیع کانشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی یہودی انبیاء و رسل کا ذکر کرتے ہوئے کبھی ان کے لیے گستاخی اور اہانت پر مبنی کوئی جملہ استعمال کیا۔ بغیر کسی وجہ کے کسی بھی یہودی کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی۔ آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام نے مدِینہ منوّرہ اور اس کے مضافات میں موجود یہودی عبادت گاہوں اور ان کے دینی تعلیم کے مدارس کو بھی کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ آپﷺ نے آخری حد تک کوشش کی کہ مدِینہ منوّرہ میں رہنے والے یہود آپﷺ کے حلیف بنے رہیں۔ البتہ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مدِینہ کے یہودیوں نے کبھی بھی آپﷺ کے ساتھ دوستی یا وفاداری والا معاملہ نبھانے کی کوشش نہیں کی۔ جس کا نقصان خود یہودِ مدِینہ کو ہی اٹھانا پڑا۔
یہودیوں کی طرح نبیٔ کریم ﷺ نے بطور مذہب کےعیسائیت (Christianity) کا بھی ہمیشہ ادب و احترام کیا۔ مدِینہ منوّرہ سے کچھ فاصلے پر عیسائیوں کا سب سے بڑا علاقہ نجران تھا۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں عیسائی آباد تھے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ساٹھ(60) آدمی جن میں چودہ(14) عیسائی سردار اور تین (3) بڑے اصحاب الرائے تھے، جن میں ایک کا نام سید(اِیہم)، دوسرے کا نام حارثہ بن علقمہ اور تیسرے کا نام عبد المسیح تھا۔ اپنے ساتھ ایک بہت بڑے وفد کو لے کر نبیٔ کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان کے قیام و طعام اور رہائش کے لیے نبیٔ کریم ﷺ نے مسجد نبوی کے اندر تمام انتظامات فرمائے، انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے مسجد نبوی کے اندر ہی عبادت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ آپﷺ نے مسیحی سرداروں کے ساتھ گفتگو کے دوران حضرت عیسیٰ
اور حضرت مریم
کے لیے انتہائی ادب و احترام پر مبنی القابات مثلاً حضرت عیسیٰ
کے لیے نبی اللہ، دنیا و آخرت میں وجیہ، اللہ کا مقرب بندہ، پیدائشی پیغمبر، کلمۃ اللہ، روح اللہ، اللہ کی نشانی، تخلیق میں حضرت آدم
کی مثل اور حضرت مریم
کے لیے پاک باز، معصوم، کنواری، اللہ کے برگزیدہ پیغمبر کی والدہ ماجدہ، مومنہ اور قانتہ (عبادت گزار) جیسے گراں قدر القابات سے عزّت افزائی فرمائی۔ آج بھی قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ و حضرت مریم
کے لیے انتہائی گراں قدر یہ القابات اسی طرح اور ان ہی الفاظ کے ساتھ موجود ہیں۔ نبیٔ کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کسی چرچ کو گرانے کی اجازت نہیں دی بلکہ مسلمان فوج اگر مدِینہ منوّرہ سے باہر نکل کر دشمن پر جنگ سے مجبور ہوجاتی تو انہیں اس بات کی نہایت سختی کے ساتھ تاکید کی جاتی کہ وہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ اور مذہبی پیشوا سے تعرّض نہ کرے۔ حضور ﷺ کے بعد آپﷺ کے خلفائے راشدین او ر پھر مسلمان حکمرانوں کے ادوار میں بھی بغیر کسی وجہ کے یہودیوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ذِلّت آمیز سلوک کی اجازت کبھی بھی کسی مسلمان فوج کو مسلمان خلفاء و حاکمین کی طرف سے حاصل نہیں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوب
نے وہاں موجود یہودیوں اور عیسائیوں کو قتل کرنے کے بجائے انہیں نہ صرف معاف کیا بلکہ انہیں بیت المقدس میں رہنے کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔
مسلمانوں نے ہندوستان پر نو سو 900 سال حکومت کی لیکن ہندوستان کے بُت پرستوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اگر مسلمان جبری طور پر اہلِ ہند کے مذہب کو بدلنا چاہتے تو آج ہندوستان میں مشرکین اتنی بڑی تعداد میں نہ ہوتے۔ مسلمانوں نے حکومت، طاقت اور اقتدار کے باوجود نہ تو سرکاری طور پر ان کے بتوں کو توڑا اور نہ ہی ان کے مندروں کو مسمار کیا بلکہ ان کو ان کے سابقہ مذہب بُت پرستی پر عمل کرنے کی مکمل اجازت اور آزادی عطا کی ۔
اسلام دین فطرت
اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ وہ کامل، عالمگیر اور ابدی دین ہے جو انسان کی فطرت، عقل، ضمیر اور تمام فطری ضروریات کے عین مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا، اسلام اسی فطرت کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اعلان کرتا ہے:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ... 30 16
پس اپنے آپ کو یکسو ہو کر اس دین کی طرف قائم رکھو، یہی اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ دینِ اسلام کوئی مصنوعی یا انسان ساختہ نظریہ نہیں بلکہ وہی فطری نظامِ زندگی ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کسی خاص قوم، نسل، زبان، جغرافیہ یا زمانے کا مذہب نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی آخری اور کامل ہدایت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہمیشہ سے صرف ایک ہی رہا ہے، اور وہ یہ کہ تمام مخلوقات اپنی مرضی کو اپنے خالق کی مرضی کے تابع کر دیں۔ اسی کا نام دینِ فطرت ہے۔ ہر دور میں آنے والے تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسی ایک دین کی دعوت دی۔ ان کی شریعتوں میں وقتی اور جزوی احکام مختلف ہو سکتے تھے، لیکن عقیدہ، توحید، بندگی اور خدا کے سامنے کامل اطاعت کا اصول ہمیشہ ایک ہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
نے بھی اپنی تعلیمات میں اسی حقیقت کو بیان فرمایا۔ انجیلِ متی میں آپ کی دعا کے الفاظ نقل ہوئے ہیں:
"اے ہمارے باپ! تو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے، تیری بادشاہت آئے، تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔" 17
اس دعا کا بنیادی مفہوم یہی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق گزارے۔ یہی خدا پرستی کی اصل روح ہے اور یہی تمام آسمانی مذاہب کی مشترک دعوت رہی ہے۔
اسلام کا بنیادی ماخذ قرآنِ کریم ہے، جو آج بھی اپنی اصل اور محفوظ صورت میں موجود ہے۔ اس لیے اگر انسان اپنی زندگی کی رہنمائی اسلام کے بجائے کسی انسانی فلسفے، نظریے یا تحریف شدہ مذہبی تعلیم سے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص میڈیکل ڈاکٹر بننا چاہتا ہو لیکن اس کے لیے وہ تعلیم کامرس کے مضامین کی حاصل کررہا ہو یا کوئی شخص ہوائی جہاز کا پائلٹ بننا چاہتا ہو اور اُس کے لیے وہ تعلیم، زبان، اَدب اور شاعری کی حاصل کرے ۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ کامیابی کے بجائے ناکامی اور فائدے کے بجائے نقصان ہی ہوگا۔ اس تناظر میں ہر با شعور آدمی اِس حقیقت کوبخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اُس کے لیے زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ اور مقصدِ زندگی کا حصول صرف وہی ذات اورہستی کرسکتی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ صرف اور صرف انسان اور کُل کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ غیر متبدل ہدایت (اسلام) انسان کی زندگی کے لیے صحیح اور مکمل رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔
انسانی زندگی کو منظم رکھنے کے لیے ہمیشہ دو چیزوں کی ضرورت رہی ہے: ایک ایسا کامل نظامِ حیات جو زندگی کے تمام شعبوں کی رہنمائی کرے، اور دوسرے ایسے افراد جو اس نظام کو عدل و انصاف کے ساتھ نافذ کریں۔ لیکن انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو بے لگام اختیار اور مطلق آزادی مل جائے تو وہ اکثر اپنی حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔ طاقت، دولت، اقتدار اور اختیار اگر اخلاقی حدود سے آزاد ہو جائیں تو وہ انسان کے اندر تکبر، ظلم اور سرکشی پیدا کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں فتنہ، فساد، ناانصافی اور خونریزی جنم لیتی ہے۔
تاریخ میں فرعون، ہامان، قارون اور شداد جیسے افراد اسی بے لگام اقتدار کی علامت ہیں۔ اسی طرح رومی، یونانی اور تاتاری سلطنتوں نے طاقت کے نشے میں کمزور اقوام کو غلام بنایا۔ جدید دور میں ہٹلر، اسٹالن اور دیگر آمروں نے لاکھوں انسانوں کو ظلم کا نشانہ بنایا، جبکہ آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں جب ریاستیں یا حکمران اپنے آپ کو قانون اور اخلاق سے بالاتر سمجھتے ہیں تو انسانیت شدید ظلم، جنگ اور تباہی کا شکار ہوتی ہے۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ محض آزادی، اگر جواب دہی اور اخلاقی حدود سے خالی ہو، تو انسان کے لیے خیر کے بجائے شر کا سبب بن جاتی ہے۔
اس کے برعکس تاریخ نے جبر پر مبنی نظاموں کے نقصانات بھی دیکھے ہیں۔ کمیونسٹ روس اور دیگر اشتراکی ریاستوں میں مساوات کے نام پر فرد کی آزادی، مذہبی حقوق اور فطری اختیارات سلب کر لیے گئے۔ اگرچہ ان نظاموں کے کچھ معاشی فوائد بیان کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ سخت آمریت میں تبدیل ہو گئے جہاں انسان اپنی شخصیت، رائے اور فطری صلاحیتوں کے اظہار سے محروم ہو گیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ بے مہار آزادی انسان کی فطرت کے مطابق ہے اور نہ ہی مکمل جبر۔ انسان کی فطرت ایک ایسے متوازن نظام کا تقاضا کرتی ہے جس میں آزادی بھی ہو مگر ذمہ داری کے ساتھ، اختیار بھی ہو مگر احتساب کے ساتھ، حقوق بھی ہوں مگر فرائض کے ساتھ، اور فرد کی عزّت بھی محفوظ رہے اور معاشرے کا امن بھی برقرار رہے۔ یہی متوازن نظام اسلام پیش کرتا ہے۔
اسلام انسان کو آزادی دیتا ہے، لیکن اس آزادی کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، اخلاقی اصولوں اور قانونِ الٰہی کا پابند بھی بناتا ہے۔ اسلام جبر اور بے لگام آزادی دونوں کی نفی کرتا ہے اور اعتدال، عدل، ذمہ داری اور جواب دہی پر مبنی ایسا نظام عطا کرتا ہے جس میں فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست سب کے حقوق محفوظ رہتے ہیں۔ ایک مسلمان اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتا ہے کہ اسے اپنے ہر قول و فعل کا حساب ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور دینا ہے، اس لیے وہ اپنی آزادی کا استعمال بھی ذمہ داری اور تقویٰ کے ساتھ کرتا ہے۔
اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت خوبصورت مثال سے واضح فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن اس گھوڑے کی مانند ہے جو ایک مخصوص لمبائی کی رسی سے کھونٹے کے ساتھ بندھا ہو۔ وہ اپنی مقررہ حدود کے اندر آزادی سے حرکت کرتا ہے لیکن رسی کی حد سے آگے نہیں جا سکتا۔ (مسند احمد) اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسان کی آزادی ختم نہیں کرتا بلکہ اسے ایسی حدود کا پابند بناتا ہے جو خود انسان اور پورے معاشرے کی بھلائی کے لیے ضروری ہیں۔
اسلام کی نگاہ میں ایمان اور کفر بھی کسی قوم، نسل، زبان یا خاندان کا نام نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر اور طرزِ عمل کا نام ہے۔ مؤمن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد رکھے، اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کر دے اور اپنی پوری زندگی اپنے خالق کی مرضی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس کافر وہ ہے جو اللہ کی اطاعت سے انکار کرے، اپنی خواہشات، عقل یا نفس کو آخری معیار بنا لے اور اپنی زندگی کو خدائی ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کے مطابق گزارے۔ قرآنِ کریم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ... 23 18
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایمان اور کفر کوئی موروثی یا نسلی شناخت نہیں بلکہ انسان کے اختیار اور کردار سے وابستہ حقیقت ہے۔ ایک شخص جو آج بظاہر مسلمان ہے، اگر اپنے عقیدے، کردار اور عمل میں اللہ کی اطاعت چھوڑ دے تو اللہ کی نگاہ میں محروم ہو سکتا ہے، اور جو شخص آج اسلام سے دور ہے، اگر اخلاص کے ساتھ ایمان اور تقویٰ اختیار کر لے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب بندہ بن سکتا ہے۔ اس لیے اصل معیار انسان کا نسب نہیں بلکہ اس کا ایمان، تقویٰ اور اطاعت ہے۔
درحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی ایک عظیم امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ یہاں خدا کا بندہ بن کر رہے، نہ کہ دوسروں پر خدا بننے کی کوشش کرے۔ اس اعتبار سے دنیا میں رہنے کے صرف دو راستے ہیں: خدا پرستی اور نفس پرستی۔ خدا پرستی کا کامل، جامع اور محفوظ نظام صرف اسلام ہے، جبکہ نفس پرستی انسان کو خواہشات، مادہ پرستی، ظلم اور گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ آج مذہب یا فلسفے کے نام پر بہت سے نظریات موجود ہیں، لیکن خالص خدا پرستی، جو انسان کو اپنے رب کے سامنے مکمل بندگی سکھائے، اپنی محفوظ اور کامل صورت میں صرف اسلام کے اندر موجود ہے۔
اسلام کی یہی جامعیت اسے ہر دور کے لیے قابلِ عمل بناتی ہے۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، سیاست، طب، خاندانی نظام، انسانی حقوق اور بین الاقوامی تعلقات جیسے تمام شعبوں میں اسلام ایسے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے جو ہر زمانے میں انسان کی صحیح رہنمائی کرتے ہیں۔ اس کا سرچشمہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہے، اس لیے وہ زمانے کی تبدیلی سے فرسودہ نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے انسان کو فطرت، عقل اور وحی کی روشنی میں متوازن راہ دکھاتا ہے۔
اسلام ہی دینِ فطرت ہے، کیونکہ یہ انسان کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے، اس کی عقل اور روح دونوں کی رہنمائی کرتا ہے، آزادی اور ذمہ داری میں توازن قائم کرتا ہے، حقوق و فرائض میں اعتدال پیدا کرتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہی وہ دین ہے جو انسان کو خدا کا سچا بندہ بناتا ہے، اسے نفس کی غلامی سے آزاد کرتا ہے اور اسے حقیقی امن، عدل، فلاح اور دائمی کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے
دینِ توحید
انسان کا حقیقی خالق اور مالک اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔صرف وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ انسان کو بتائے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔وہ مقصد زندگی کو کیسے حاصل کر سکتا ہے۔خدا کی عبادت کا سچا اور صحیح راستہ (Straight path)کیا ہے۔دنیا کی زندگی گزارنے کا طور طریقہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دنیا کی نعمتوں سے نوازے جانے کی غرض و غایت کیا ہے۔انسان کس طرح اپنے رب کی معرفت کو پا سکتا ہے اور کس طرح اپنے رب کی رضا کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے۔کیسے وہ اپنے رب کی ناراضگی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ہر وقت دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کا امیدوار کس طرح بنا جا سکتا ہے۔ آخرت کے لحاظ سے کامیاب انسان کون ہے اور اخرت کے اعتبار سے ناکام انسان کون ہوتا ہے۔انسان کیوں اس بات پر مجبور ہے کہ وہ ایک رب کی عبادت کرے اور کیوں اسے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ رب تعالیٰ کے ماسوا کسی دوسری مخلوق کی عبادت نہ کرے۔خدا کی پرستش اور عبادت کے نتیجے میں کس طرح کی معرفت اسے حاصل ہوتی ہے اور خدا کے ماسوا کسی اور کو پوجنے کے نتیجے میں کس طرح انسان اپنی دنیا اور اخرت دونوں کا نقصان کر بیٹھتا ہے۔توحید کے مقابلے میں شرک کی مذمت کیوں کی گئی ہے شرک کی اقسام ستارہ پرستی، سورج پرستی، بت پرستی، مظاہر پرستی، قبر پرستی، اکابر پرستی، دولت پرستی، اقتدار پرستی، مفاد پرستی، شیطان پرستی اولاد پرستی اور مادّیت پرستی، یہ سب، نفس پرستی کی مختلف اقسام ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اس طرزِ عمل کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ 23 20
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مُہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، پھر اُسے اللہ کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے۔
نفس پرستی انسان کی دنیاوی زندگی میں انسان کو ایک بے شعور جانور بنائے رکھتی ہے اور اُس کا یہ روّیہ اُخروی نجات کے لحاظ سے اُسے ایک عظیم خسارہ سے دوچار کرکے انسان کو اس کے مقام عزّت و عظمت سے گرا کر اسے جانوروں کی صفت میں لا ڈالتی ہے۔شرک کی تمام اقسام کو اللہ تعالیٰ نے ظلم قرار دیا ہے۔ اور ایسا شخص جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائے تو اسے عقل و خرد سے عاری سمجھا گیا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ انسان کی عزّت اور عظمت یہ ہے کہ وہ فقط اپنے خالق و مالک کا سچا بندہ بن کر دنیا کی زندگی میں اسے راضی کرنے کی کوشش کرے۔ نفس پرستی اور اس کی جملہ اقسام کی مذمت اس لیے کی گئی ہے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کے مقابلے میں اپنے نفس کی اطاعت اور بندگی کرنے کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا سب سے پہلے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حقیر چیزوں پر مرناشروع کردیتا ہے تاکہ گھٹیا اور ذلیل مقاصد کا حصول اس کے لیے ممکن ہوسکے۔ قرآنِ کریم نے ایسے شخص کو انسانوں کے زُمرے سے خارج قرار دے کر اُسے جانوروں سے بھی زیادہ بے عقل اور بے سمجھ گردانا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ 179 21
اور بیشک ہم نے جہنّم کے لیے جِنّوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد) کو پیدا فرمایا وہ دل (و دماغ) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں۔
توحید پر ایمان کانتیجہ
توحید پر ایمان رکھنے والا خدا کی عظمت میں جی رہا ہوتا ہے اور اس کی زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات کی توجیہ اور تعبیر اس کے لیے ممکن رہتی ہے۔ہر خوشی اور غم کا موقع اسے اپنے رب کی یاد سے معمور کر دیتا ہے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔خدا اس کی توجہات کا مرکز اور محور بن جاتا ہے اور وہ اپنے اس مرکز اور محور سے کسی بھی صورت میں ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام انسانوں کی فطرت میں توحید کا تصوّر ودیعت کر رکھا ہے۔ اسی لیے شرک کا معاملہ اس کے لیے ہمیشہ اجنبی معاملہ رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ہر معاملے میں کسی دوسری مخلوق کی طرف دوڑنا اور اپنے جیسے انسانوں سے توقعات وابستہ کرنا اور کسی ایک یا زیادہ انسانوں کے سامنے ان کے دنیاوی قوّت و طاقت یا فضائل و کمالات کی وجہ سے گر پڑنا۔ اپنی چاہت اور آرزوؤں کو بت کی صورت میں ڈھال کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا۔ اپنی جبینِ نیاز کو کسی مورت (Idol)کے سامنے جھکا دینا خود ساختہ اور دیوی اور دیوتاؤں کے سامنے گر پڑنا وہ اعمال ہیں جو انسان کو توہمات (Superstitions)کا شکار کر کے اپنی حقیقت سے بے خبر کر دیتے ہیں۔کسی بھی انسان کا شرک میں مبتلا ہو جانا دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انسان اپنے لیے اس کائنات میں اور جملہ موجودات کے درمیان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظمت و اہمیت اور مقام و مرتبہ سے بے خبر ہے۔ اس کے مقابلے میں توحید کو انمول دولت کی طرح پا لینے والے اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خوش بخت لوگ ہیں جو دنیا میں اپنی اصل فطرت اور حقیقت کو دریافت کرنے والے ہوتے ہیں۔انسان کے لیے سب سے گراں قدر اثاثہ اس کا اپنے رب سے فطری و قلبی تعلق ہے۔قلبی تعلق کا اظہار دو سطح پر ہوتا ہے ایک محبت اور دوسرا خوف۔قرآنِ کریم میں اہلِ ایمان کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ محبت ایک اللہ سے ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ۔ (اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اﷲ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں، )اور سب سے زیادہ خوف بھی صرف ایک خدا سے ہی رکھتے ہیں۔
مذہب اُمید
اللہ کا سچا دین صرف اسلام ہی ہے کیونکہ ہر نبی نے اپنی قوم کے سامنے صرف اور صرف اسلام کی دعوت پیش کی۔اسلام کی تعلیمات انسان کو مایوسی کی اتھا ہ گہرائیوں سے نکال کر اس کے لیے ہمیشہ اُمید کا چراغ روشن کیے رکھتی ہے۔انسان نے پوری زندگی گناہ کیے ہوں، جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ رہا ہو، اپنی پوری زندگی خدا سے دوری میں گزاری ہو، ہر قدم پر ناکامیاں کسی انسان کا مقدر بن گئی ہوں، قدم قدم پر اعمال اور کاموں کے نتائج اس کے حوصلے کو توڑنے والے بن جائیں تو ایسی صورت میں اسلام کی تعلیمات اسے اُمید اور حوصلے کا درس دیتی ہے۔دنیا کی زندگی میں مشکلات اور ناکامیاں، محرومیاں اور مجبوریاں اسلام کے نقطۂ نظر سے انسان کی زندگی کا حتمی نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے امتحان اور آزمائش کا معاملہ ہے جسے صبر اور استقامت کے ساتھ برداشت کرنا ایک مؤمن کی زندگی کا ناگزیر وصف ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے تم اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو اللہ کی رحمت سے صرف منکر ہی نا اُمید ہوتے ہیں۔اس آیت کی رو سے مسلمان خواہ وہ کتنے ہی مشکل حالات سے دوچار ہو وہ زندگی کے آخری لمحے تک پر اُمید (Hopeful)رہتا ہے۔ قرآنِ کریم میں دوسری جگہ پر ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم اللہ سے وہ اُمید رکھتے ہو جو کافر نہیں رکھتے۔ 22 اس کا مطلب یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان اہل ایمان ظلم و ستم اور تکالیف و مصائب کے طویل سلسلوں کے درمیان رہ کر بھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ اسے اس بات کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کسی بھی لمحے اسے آکر ڈھانپ لے گی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خود کشی کی موت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
دینِ اسلام بالکل واضح طور پر انسان کو آگاہ کرتا ہے کہ انسان کے لیے دنیا میں زندگی دار الامتحان(Examination Hall) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جس کو زندگی بخشی وہ امتحان کی خاطر ہے۔ امتحان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اس کی پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ کون اس کی رضا کو اپنی رضا اور اس کی چاہت کو اپنی چاہت پر مقدم کرتا ہے۔ انسانوں میں کون ہے جو اس کو مان کراس کی ماننے پر آمادہ ہے۔ یہ بے مقصد دنیا، بے مقصد زندگی یا بے مقصد موت کے لیے بنایا ہوا کارخانۂ قدرت نہیں ہے۔ بلکہ یہاں کی زندگی اُس امتحان پر مبنی ہےجس کا نتیجہ ہر شخص کے عمل کے مطابق جَزا یا سز ا کی صورت میں ظاہر ہوکر رہے گا۔
دینِ رحمت و محبت
اسلام بلا شبہ رحمت، محبت، خیر خواہی، ہمدردی اور انسان دوستی کا دین ہے۔ اس کی ہر تعلیم انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے درمیان محبت، امن، عدل اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہے۔ اسلام کا مقصد صرف چند مذہبی رسومات کی ادائیگی نہیں بلکہ ایسے باکردار، رحم دل اور خیر خواہ انسان پیدا کرنا ہے جو اپنی ذات سے دوسروں کے لیے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایمان، عبادات، اخلاق اور معاملات سب کی بنیاد رحمت اور محبت پر رکھی ہے۔ اگر اسلام کی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ دین نفرت، انتقام اور ظلم کا نہیں بلکہ رحمت، شفقت، عفو و درگزر اور خدمتِ انسانیت کا علم بردار ہے۔
قرآنِ کریم کا آغاز ہی اللہ تعالیٰ کی دو عظیم صفات "الرحمٰن" اور "الرحیم" سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان جب "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھتا ہے تو وہ درحقیقت اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ اس کائنات کا خالق بے پایاں رحمت اور بے مثال محبت کا مالک ہے۔ قرآنِ کریم کی تقریباً ہر سورت اسی مبارک آیت سے شروع ہوتی ہے، گویا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمہاری زندگی کا ہر کام رحمت، محبت اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ شروع ہونا چاہیے۔ اسلام کے پورے نظامِ حیات کی بنیاد اسی تصورِ رحمت پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت بلکہ تمام مخلوقات کو محیط ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
... وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ... 156 23
"اور میری رحمت ہر چیز کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔"
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی رحمت قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ 107 24
"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
یہ آیت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت بلکہ تمام مخلوقات کے لیے رحمت کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے دشمنوں کو دوست، غلاموں کو عزت، عورتوں کو وقار، یتیموں کو سہارا اور کمزوروں کو تحفظ عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی پوری زندگی رحم، عفو، درگزر اور انسان دوستی کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔
اسلام انسان کو سب سے پہلے اپنے رب سے محبت کرنا سکھاتا ہے اور پھر اسی محبت کے نتیجے میں اس کی تمام مخلوق سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔ ایک سچا مسلمان یہ جانتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی رب کی مخلوق ہیں، اس لیے ان کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور خیر خواہی دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ اسلام انسانوں کو نسل، رنگ، زبان، قوم یا معاشرتی حیثیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتا بلکہ تقویٰ اور حسنِ کردار کو فضیلت کا معیار قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں محبت کسی خاص طبقے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
اسلام نے محبت کو صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ عملی رویہ بنایا ہے۔ مسلمان جب کسی دوسرے انسان سے ملتا ہے تو اسے "السلام علیکم" کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ اس مختصر سے جملے کا مفہوم ہے: "آپ پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی، امن اور رحمت ہو۔" یہ محض ایک رسمی سلام نہیں بلکہ محبت، خیر خواہی اور امن کی دعا ہے۔ جو شخص ہر ملاقات کا آغاز دوسرے کے لیے سلامتی کی دعا سے کرتا ہے، وہ کبھی دوسروں کے لیے شر، نفرت یا نقصان کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
اسی طرح نماز، جو اسلام کا سب سے بڑا عملی رکن ہے، اپنے اختتام پر بھی سلام اور رحمت کے پیغام کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ نمازی دائیں اور بائیں جانب رخ پھیر کر "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہتا ہے۔ گویا وہ اپنے اردگرد موجود تمام انسانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتا ہے۔ دن میں کم از کم پانچ مرتبہ ایک مسلمان یہ دعا دہراتا ہے، جس کے ذریعے اس کے دل میں امن، محبت اور خیر خواہی کے جذبات مسلسل تازہ ہوتے رہتے ہیں۔
اسلام کی نظر میں عبادت کی اصل روح انسانوں کی خدمت اور ان کے دکھ درد کو بانٹنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی ایک پریشانی دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک بڑی پریشانی دور فرما دے گا۔ جو کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا، اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔" 25
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ اس کے بندوں پر رحم کرنا ہے۔ جو شخص دوسروں کے غم بانٹتا ہے، ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے، کمزوروں کا سہارا بنتا ہے اور معاشرے میں آسانیاں پیدا کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔
اسلام نے صرف مدد کرنے کی ترغیب ہی نہیں دی بلکہ انسانوں کے حقوق پامال کرنے سے سختی سے منع بھی کیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے قیامت کے دن کے مفلس کے بارے میں فرمایا کہ وہ شخص نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسی عظیم عبادات لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا، کسی پر ظلم کیا ہوگا یا کسی کا خون بہایا ہوگا، تو اس کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔ اگر نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ 26
یہ حدیث اسلام کے تصورِ عدل اور محبت کی عظیم ترین تشریح ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس وقت تک کامل نہیں ہوتی جب تک بندوں کے حقوق ادا نہ کیے جائیں۔ جو شخص لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے، ان کی عزت پامال کرتا ہے یا ان پر ظلم کرتا ہے، وہ اسلام کی حقیقی روح سے محروم ہے، خواہ اس کی ظاہری عبادات کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔
اسلام نے محبت اور خیر خواہی کے معیار کو انتہائی بلند مقام عطا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"27
یہ حدیث انسانی تعلقات کا ایک آفاقی اور سنہری اصول پیش کرتی ہے۔ ہر انسان اپنے لیے عزت، محبت، امن، انصاف، صحت، خوش حالی اور سکون پسند کرتا ہے، لہٰذا ایک سچا مسلمان انہی نعمتوں کی تمنا دوسروں کے لیے بھی کرتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتا جو وہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ یہی جذبہ معاشرے میں حقیقی محبت، اخوت، مساوات اور امن کو جنم دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"خیر الناس أنفعهم للناس" 28
"سب سے بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔"
یہ مختصر مگر جامع ارشاد اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول ہے۔ اسلام میں عظمت کا معیار دولت، اقتدار یا شہرت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونا ہے۔ جو شخص اپنے علم، مال، قوت، وقت یا صلاحیتوں کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین انسانوں میں شمار ہوتا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ اس رحمت و محبت کی عملی تفسیر ہے۔ طائف کے لوگوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، آپ لہولہان ہوگئے، مگر آپ نے ان کے لیے بددعا کرنے کے بجائے فرمایا کہ شاید ان کی آئندہ نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ فتح مکہ کے موقع پر وہی لوگ آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے جنہوں نے برسوں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تھا، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔" یہ وہ عظیم اخلاقی مثال ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔
اسلام کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ جانوروں، پرندوں، درختوں اور ماحول تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے والی عورت کے لیے مغفرت کی بشارت اور ایک بلی کو بھوکا مارنے والی عورت کے بارے میں وعید اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ہر جاندار کے ساتھ شفقت اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی طرح درخت لگانے، زمین کو آباد کرنے اور ماحول کی حفاظت کو بھی صدقۂ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔
آج کی دنیا نفرت، تشدد، جنگ، انتہا پسندی، معاشرتی تقسیم اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام کا پیغامِ رحمت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
اسلام کا حقیقی چہرہ رحمت، محبت، عدل، شفقت، خدمتِ خلق اور خیر خواہی کا چہرہ ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنے کردار، گفتار اور عمل سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، مظلوم کا سہارا بنے، ضرورت مند کی مدد کرے، معاف کرنا سیکھے، نفرت کے بجائے محبت بانٹے اور اپنے نبیِ مکرم ﷺ کی اس صفت کو اپنانے کی کوشش کرے کہ آپ "رحمۃ للعالمین" تھے۔ جب مسلمان اس تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہ صرف ایک اچھا فرد ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، امن، محبت اور خیر کا پیامبر بن جاتا ہے، اور یہی اسلام کے دینِ رحمت و محبت ہونے کا حقیقی مفہوم ہے۔
سادہ عقائد کا دین
دینِ اسلام اپنے عقائد اور تعلیمات میں ہر قسم کی پیچدگی سے پاک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے عقائد اور تعلیمات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ اِس کےساتھ ساتھ یہ عقائد اور تعلیمات ہر قسم کی انسانی تحریف اور تبدیلیوں سے محفوظ ہیں ۔ انہیں انتہائی محفوظ طریقے سے تحریری اور زبانی طور پر ایک نسل سے دوسری نسل تک اہلِ ایمان نے بغیر کسی انقطاع کے منتقل کیا ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائداور تعلیمات جن کا جاننا اور ماننا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے ۔ ان عقائد اور تعلیمات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک حصہ ایمان سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ ایمان کے ساتھ عمل سے متعلق ہے۔ پہلا حصہ جسے ایمانیات یا ارکان ایمان کہا جاتا ہے۔ وہ درج ذیل ہے۔
- اللہ تعالیٰ پر ایمان ۔
- اللہ کے فرشتوں پر ایمان۔
- اللہ کی نازل کردہ آسمانی کتابوں پر ایمان۔
- اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان۔
- آخرت پر ایمان۔
- اچھی اور بری تقدیر پر ایمان۔
- مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان۔
دوسرا حصہ ارکانِ اسلام پر مشتمل ہے ۔ جس کے پانچ اجزاء ہیں۔ پہلا جزء اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسولِ کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کا اقرار ہے جبکہ باقی چار ارکان ایمان کا تعلق عمل سے ہے ۔
ہر مسلمان عاقل ، بالغ ، مقیم اور صاحبِ شعور پر دن میں پانچ مرتبہ نماز کی ادائیگی فرض ہے جبکہ صحت مندی اور اپنے شہر یاملک میں ہونے کی صورت میں ماہِ رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض ہیں۔ زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی کے لیے صاحبِ استطاعت ہونا ضروری ہے۔
دین عقل و شعور
اسلام انسانی عقل کو اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور حق و باطل میں تمیز کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیتا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام اندھی تقلید کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور انسان کو کائنات، اپنی ذات اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ حقیقت تک پہنچ سکے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر سوال کیا گیا ہے:"أَفَلَا تَعْقِلُونَ " 29 (کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟) اور "أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ" 30 (کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے؟)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عقل علم، تحقیق اور ایمان کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
تاہم اسلام عقل کو مطلق اور خود مختار اختیار نہیں دیتا بلکہ اسے وحیِ الٰہی کی رہنمائی کے تحت دیکھتا ہے۔ انسانی عقل محدود ہے اور بعض حقائق، خصوصاً غیب کے معاملات، اپنی قوّت سے مکمل طور پر نہیں جان سکتی۔ اس لیے اسلام عقل اور وحی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے؛ عقل وحی کو سمجھنے، اس کے دلائل پر غور کرنے اور اس کی حکمتوں کو دریافت کرنے کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ وحی عقل کی رہنمائی کرتی ہے جہاں عقل کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں بھی عقل کے مثبت استعمال کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ قرآنِ کریم آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے نظام، بارش کے نزول اور انسانی پیدائش پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ انسان اللہ کی قدرت کو پہچان سکے۔ اسی طرح نبیٔ کریم ﷺ نے مختلف معاملات میں صحابۂ کرام سے مشورہ فرمایا، جو عقل اور اجتماعی دانش کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھودنے کی تجویز حضرت سلمان فارسی
نے پیش کی، جسے قبول کیا گیا۔ مزید برآں مسلمانوں نے عقل اور تحقیق کی بنیاد پر طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم میں نمایاں خدمات انجام دیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عقل کو ترقی، تحقیق اور انسانی فلاح کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔
مختصراً، اسلام کے نزدیک عقل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قیمتی نعمت ہے جو انسان کو علم، حکمت اور حق کی پہچان تک پہنچاتی ہے، لیکن اس کی صحیح رہنمائی وحیِ الٰہی کے ذریعے ہوتی ہے۔ یوں اسلام عقل اور وحی کے درمیان ایک متوازن اور ہم آہنگ تعلق قائم کرتا ہے جو انسان کی فکری اور روحانی ترقی کی ضمانت بنتا ہے۔
دین نظم و ضبط
اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں نظم و ضبط، ترتیب اور ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک منظم اور باقاعدہ معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے احکامات میں وقت کی پابندی، قوانین کی پاسداری، ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اجتماعی نظم کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآنِ کریم اور سنّت نبوی ﷺ انسان کو ایک منظم زندگی گزارنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں کامیاب ہو سکیں۔
اسلام میں نظم و ضبط کی سب سے واضح مثال پانچ وقت کی نماز ہے۔ ہر نماز کا ایک مقررہ وقت ہے اور مسلمان پابندی کے ساتھ ان اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے روزے مخصوص وقت پر شروع اور ختم ہوتے ہیں، جس سے وقت کی پابندی اور خود نظم و ضبط کی تربیت ملتی ہے۔ حج بھی نظم و ضبط کا عظیم نمونہ ہے جہاں لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس، ایک ہی طریقے اور مقررہ اوقات کے مطابق مناسک ادا کرتے ہیں۔
اجتماعی زندگی میں بھی اسلام نظم و ضبط کی تعلیم دیتا ہے۔ با جماعت نماز (Congregational Prayer)میں تمام نمازی ایک اِمام کے پیچھے ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں، آگے پیچھے ہونے یا بے ترتیبی کی اجازت نہیں ہوتی۔ نبیٔ کریم ﷺ صفوں کو سیدھا رکھنے کی خصوصی تاکید فرماتے تھے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی نظم و ضبط کو پسند کرتا ہے۔ اسی طرح جہاد، سفر اور دیگر اجتماعی امور میں امیر یا قائد کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ انتشار اور بے نظمی پیدا نہ ہو۔
اسلامی تاریخ میں غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد اور غزوۂ خندق جیسے مواقع پر مسلمانوں کے منظم نظم و ضبط نے اہم کردار ادا کیا۔ نبیٔ کریمﷺ نے ہر شخص کی ذمہ داری متعین فرمائی اور تمام امور منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیے۔ مدِینہ کی اسلامی ریاست بھی قانون، عدل اور نظم و نسق کی ایک بہترین مثال تھی۔
مختصراً، اسلام عبادات، معاشرت، معیشت، سیاست اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں نظم و ضبط کی تعلیم دیتا ہے۔ نماز، روزہ، حج، جماعت، مشاورت اور قانون کی پابندی جیسے احکام اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام واقعی ایک مکمل اور منظم ضابطۂ حیات ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔
جمالیات کا دین
اسلام ایک ایسا دین ہےق جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں حسن، توازن اور خوبصورتی کو اہمیت دیتا ہے۔ اسلام کا تصوّر جمالیات محض ظاہری خوبصورتی تک محدود نہیں بلکہ یہ فکر، کردار، اخلاق، عبادات، معاشرت، فنون اور پوری کائنات کے حسن کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسلام کے نزدیک حسن و جمال اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور انسان کو بھی اپنی زندگی میں حسن پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسی لیے نبیٔ اکرم ﷺ نے فرمایا:
إن الله جميل يحب الجمال. 31
"(اللہ وہ ہے) بے شک اللہ تعالیٰ جمیل (خوبصورت) ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔"
اسلام کا تصوّر جمالیات اس عقیدے پر مبنی ہے کہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اس کی ہر تخلیق میں حسن، حکمت اور توازن پایا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو بار بار آسمانوں، زمین، پہاڑوں، دریاؤں، نباتات اور انسانی وجود میں موجود حسن پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ... 32
"جس نے ہر چیز کو بہترین انداز میں پیدا کیا۔"
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حسن اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی تخلیقی سنّت کا حصہ ہیں۔
اسلام میں جمالیات کا دائرہ صرف ظاہری اشیاء تک محدود نہیں بلکہ انسان کے باطن، اخلاق اور کردار کو بھی شامل ہے۔ سچائی، عدل، امانت داری، رحم دلی، صبر، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کو روحانی حسن قرار دیا گیا ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مومن کے اعمال میں سب سے وزنی چیز حسنِ اخلاق ہوگا۔ اس طرح اسلام ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ باطنی خوبصورتی کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔
عبادات میں بھی جمالیات کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ نماز میں صفوں کی درستگی، پاکیزگی، خشوع و خضوع اور باقاعدگی حسن و نظم کا عملی مظہر ہیں۔ مساجد کی تعمیر، اذان کی دلنشین آواز، قرآنِ کریم کی خوش الحانی سے تلاوت اور اسلامی خطاطی سب اسلامی جمالیات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسلام عبادت کو محض ایک رسم نہیں بلکہ حسن، وقار اور روحانی لطافت کا ذریعہ بناتا ہے۔
اسلام فنونِ لطیفہ اور تخلیقی سرگرمیوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے، بشرطیکہ وہ اخلاقی اور روحانی حدود کے اندر ہوں۔ اسلامی تہذیب میں فنِ تعمیر، خطّاطی، آرائش، شاعری اور ادب نے غیر معمولی ترقی کی۔ دنیا کی عظیم مساجد، اسلامی خطّاطی و قرآنی آرٹ کے شاہکار اور اسلامی فنِ تعمیر کے نمونے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسلام حسنِ تخلیق اور جمالیاتی ذوق کی قدر کرتا ہے۔ تاہم اسلام کا مقصد "فن برائے فن" نہیں بلکہ "فن برائے زندگی" ہے، یعنی ایسا فن جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور فکری ترقی میں معاون ہو۔
معاشرتی زندگی میں بھی اسلام حسن و جمال کی تعلیم دیتا ہے۔ صاف ستھرے لباس پہننا، خوشبو لگانا، ماحول کو پاک رکھنا، گفتگو میں شائستگی اختیار کرنا، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور معاملات میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا اسلامی جمالیات کا حصہ ہیں۔ نبیٔ کریم ﷺ اپنے لباس، طرزِ گفتگو اور طرزِ معاشرت میں حسن اور نفاست کو پسند فرماتے تھے۔
مختصراً، اسلام کا تصوّر جمالیات ایک جامع اور متوازن تصوّر ہے جو ظاہری اور باطنی دونوں حسن کو اہمیت دیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک خوبصورتی صرف شکل و صورت کا نام نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، کردار، عبادات، معاشرت اور فنون میں حسن پیدا کرنے کا نام ہے۔ یوں اسلام انسان کو ایک ایسی زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے جس میں روحانی، اخلاقی، فکری اور مادّی حسن کا حسین امتزاج موجود ہو، اور یہی حقیقی اسلامی جمالیات ہے۔
توہم پرستی کے رد کا دین
اسلام ایک ایسا دین ہے جو عقل، فطرت اور مضبوط دلائل کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ ان مذاہب اور عقائد کے بالکل برعکس ہے جو پراسرار رسومات، غیر معقول عقائد اور اندھی تقلید پر استوار ہوں، اور جن کی صداقت کو محض بے دلیل ایمان کی بنیاد پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہو۔ اسلام انسان کو ہر قسم کے وہم، خرافات اور توہم پرستی سے نجات دلا کر عقل و شعور، تحقیق و تدبر اور حقیقت پسندی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
اسلام میں توہم پرستی کی نفی اور عقل و استدلال کی تائید کے حوالے سے معروف محقق گاڈفری ہگنز اپنی کتاب Apology for Muhammad میں لکھتے ہیں:
"محمد ﷺ کے دین میں نہ کوئی مقدس باقیات (Relics) ہیں، نہ کوئی بت، نہ کوئی تصویر، اور نہ ہی 'خدا کی ماں' (Mother of God) کا کوئی عقیدہ، جو اس مذہب کو آلودہ کرے۔ اس میں ایسے نظریات بھی نہیں پائے جاتے جیسے اعمال کے بغیر صرف ایمان کو نجات کا ذریعہ قرار دینا، یا زندگی بھر کے گناہوں کے بعد موت کے وقت کی توبہ کو کافی سمجھنا، یا گناہوں کی معافی کے پروانے، کلی معافی، یا پادری کے سامنے گناہوں کے اعتراف کا عقیدہ؛ کیونکہ ایسے تصورات پہلے دین کو بگاڑتے ہیں اور پھر لوگوں کو ایک ایسے مذہبی طبقے کے تسلط میں دے دیتے ہیں جو خود بھی بدعنوان اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہرگز نہیں! اسلام کی تعلیم تو صرف ایک ایسے واحد خدا کی عبادت ہے جو نہ کسی ماں کا محتاج ہے، نہ کسی پراسرار عقیدے کا، اور نہ ہی خود ساختہ معجزات کا۔ نیز یہ عقیدہ کہ محمد ﷺ ایک انسان اور اللہ کے رسول تھے، جنہیں صرف اس لیے بھیجا گیا کہ وہ انسانوں کو خالقِ کائنات کی تنہا عبادت کی دعوت دیں۔ یہی عرب کے موحدین کے مذہب کی سادہ، خالص اور معقول تعلیم تھی۔"
یہ اقتباس اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام اپنی اساس میں ایک خالص توحیدی، عقلی اور فطری دین ہے۔ اس میں کسی قسم کی توہم پرستی، خرافات، بے بنیاد مذہبی رسومات یا انسانوں کی گھڑی ہوئی اعتقادی پیچیدگیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام انسان کو براہِ راست اللہ تعالیٰ سے وابستہ کرتا ہے اور نجات کے لیے کسی درمیانی مذہبی طبقے، مقدس شخصیات یا پراسرار رسومات کا محتاج نہیں بناتا۔
قرآنِ کریم بھی بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات، اپنی تخلیق، تاریخ اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرے۔ متعدد مقامات پر سوال کیا گیا ہے: "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"، "کیا تم غور نہیں کرتے؟" اور "کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں بلکہ علم، دلیل، تدبر اور یقین کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر اس عقیدے اور رسم کو مسترد کیا جو عقلِ سلیم، وحیِ الٰہی اور فطرتِ انسانی کے خلاف ہو۔
اسلام کی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس نے توہم پرستی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بت پرستی، نجومیوں اور کاہنوں پر اندھا اعتماد، بدشگونی، تعویذ گنڈوں پر غیر شرعی اعتقاد، ستاروں کی پرستش اور دیگر جاہلانہ رسوم کی سختی سے تردید فرمائی۔ آپ ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ نفع و نقصان، عزّت و ذِلّت ، زندگی اور موت سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اس لیے ایک مسلمان کو ہر قسم کے وہم و گمان سے آزاد ہو کر صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ یہی عقیدہ انسان کے اندر اعتماد، خودداری، فکری آزادی اور مضبوط کردار پیدا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے انسان کو خوف، وہم اور خرافات کی زنجیروں سے آزاد کر کے عقل، علم، تحقیق اور مشاہدے کی بنیاد پر زندگی گزارنے کی تعلیم دی۔ یہی تعلیم بعد میں مسلمانوں کے علمی عروج کا سبب بنی، جس کے نتیجے میں طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا، فلسفہ اور دیگر علوم میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ گویا اسلام صرف توہم پرستی کی نفی ہی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی فکری اور علمی تہذیب کی بنیاد بھی رکھتا ہے جو عقل، وحی، اخلاق اور سائنسی جستجو کو باہم ہم آہنگ کرتی ہے۔
یقینِ کامل کا سرچشمہ
اسلام کا سب سے نمایاں اور منفرد امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کو محض چند مذہبی رسومات یا عبادات کا مجموعہ نہیں دیتا بلکہ اسے ایسا کامل، روشن اور غیر متزلزل یقین عطا کرتا ہے جو اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ یہی یقین اسلام کی حقیقی روح ہے۔ اگر ایمان جسم ہے تو یقین اس کی جان ہے، اور اگر عبادت درخت ہے تو یقین اس کی جڑ ہے۔ جتنا یقین مضبوط ہوگا اتنا ہی ایمان پختہ، کردار بلند، اخلاق پاکیزہ اور عمل صالح ہوگا۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں بار بار ایسے اہلِ ایمان کی تعریف کی گئی ہے جو اپنے رب پر ایمان لانے کے بعد شک و تردد کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ہر حال میں حق پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
قرآنِ مجید فرماتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ 15 33
حقیقی مؤمن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد کسی قسم کے شک میں مبتلا نہیں ہوتے، بلکہ اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل یقین سے ہوتی ہے، اور یقین ہی انسان کو ایثار، قربانی اور استقامت کے بلند ترین مقام تک پہنچاتا ہے۔
اسلام میں یقین محض ایک ذہنی کیفیت یا فلسفیانہ تصور نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ یہ یقین انسان کے دل، عقل، جذبات، ارادے اور کردار سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اس کے ساتھ ہے، اس کے اعمال کو دیکھ رہا ہے، اس کی دعا سن رہا ہے اور ہر حال میں اس کی مدد کرنے پر قادر ہے، تو پھر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ یہی یقین خوف کو شجاعت میں، مایوسی کو امید میں، کمزوری کو قوت میں اور بے مقصدی کو عظیم مقصد میں بدل دیتا ہے۔
اسلام انسان کو صرف اللہ پر یقین ہی نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر بنیادی سوال کا ایسا واضح اور قطعی جواب بھی دیتا ہے جو اس کے دل و دماغ کو مطمئن کر دیتا ہے۔ انسان کون ہے؟ اسے کس نے پیدا کیا؟ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ نیکی اور بدی کا انجام کیا ہے؟ عدل و ظلم کی آخری منزل کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہر دور کے مفکرین، فلاسفہ اور مذاہب کو مصروف رکھا، مگر اسلام نے ان سب کا نہایت واضح، مربوط اور معقول جواب پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو فکری انتشار کے بجائے یقین اور اطمینان عطا کرتا ہے۔
یقین و استقامت کا کامل نمونہ
اسلام کی صداقت کا سب سے روشن مظہر خود رسول اکرم ﷺ کی مبارک زندگی ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ اللہ پر کامل یقین رکھنے والا انسان دنیا کی سخت ترین آزمائشوں میں بھی متزلزل نہیں ہوتا۔ اعلانِ نبوت کے بعد مکہ کے مشرکین نے آپ ﷺ کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کی۔ کبھی تمسخر اڑایا، کبھی جھٹلایا، کبھی سنگ باری کی، کبھی معاشرتی بائیکاٹ کیا، کبھی قتل کی سازشیں کیں، لیکن ان تمام آزمائشوں کے باوجود آپ ﷺ کے یقین میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔
شعبِ ابی طالب کی تین سالہ محصوری انسانی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں شمار ہوتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء ناپید تھیں، بچے بھوک سے بلکتے تھے، معاشی مقاطعہ جاری تھا، ہر طرف دشمنی کا ماحول تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کے لبوں پر کبھی شکوہ نہ آیا۔ آپ ﷺ کا اعتماد صرف اپنے رب پر تھا، کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضرور غالب کرے گا۔ یہی یقین بعد میں حقیقت بن کر سامنے آیا، جب وہی کمزور اور مظلوم جماعت دنیا کی رہنمائی کرنے والی امت بن گئی۔
یقین کی لازوال تصویر
ہجرتِ مدِینہ کے موقع پر غارِ ثور کا واقعہ یقینِ کامل کی ایک ایسی مثال ہے جس کی نظیر پوری تاریخ میں کم ملتی ہے۔ کفارِ مکہ ہر طرف سے تلاش کرتے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق
کو اندیشہ ہوا کہ اگر کسی نے نیچے جھانک لیا تو ہم دونوں نظر آ جائیں گے۔ یہ انسانی اعتبار سے انتہائی نازک لمحہ تھا، لیکن اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ نے وہ تاریخی الفاظ ارشاد فرمائے جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے حوصلے اور یقین کا سرچشمہ رہیں گے:
...لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا... 40 34
غم نہ کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔
غور کیجیے! ظاہری اسباب ختم ہو چکے تھے، دشمن چند قدم کے فاصلے پر تھا، لیکن اللہ کے رسول ﷺ کا یقین ظاہری حالات کا محتاج نہیں تھا۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ جب تک اللہ کا فیصلہ نہ ہو، کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی یقین ایک مؤمن کی اصل قوت ہے۔
غزوۂ بدر: یقین نے قلتِ وسائل کو فتح میں بدل دیا
غزوۂ بدر اسلام کی تاریخ کا وہ عظیم معرکہ ہے جہاں دنیا نے یقین کی طاقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ایک طرف ایک ہزار سے زیادہ مسلح جنگجو تھے اور دوسری طرف صرف تین سو تیرہ مسلمان، جن کے پاس نہ مناسب اسلحہ تھا، نہ سواریاں اور نہ جنگی سازوسامان۔ ظاہری اسباب کے اعتبار سے فتح کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا، لیکن مسلمانوں کے پاس ایک ایسی قوت تھی جو کسی ہتھیار سے زیادہ طاقتور تھی، اور وہ تھی اللہ تعالیٰ پر کامل یقین۔
رسول اللہ ﷺ نے پوری رات اللہ تعالیٰ کے حضور دعا فرمائی۔ آپ ﷺ کی عاجزی، گریہ و زاری اور توکل اس حقیقت کا اظہار تھے کہ کامیابی صرف ظاہری طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور تاریخ نے دیکھا کہ قلیل تعداد نے عظیم لشکر کو شکست دے دی۔ قرآن نے اس واقعے کو ہمیشہ کے لیے اس اصول کی دلیل بنا دیا کہ جب ایمان اور یقین زندہ ہوں تو کمزور ترین جماعت بھی بڑی طاقتوں پر غالب آ سکتی ہے۔
شکست میں بھی یقین کی فتح
حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو غزوۂ اُحد میں وقتی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس واقعے نے بھی اہلِ ایمان کو یقین اور صبر کا عظیم درس دیا۔ بہت سے صحابہ زخمی ہوئے، ستر جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے، خود رسول اللہ ﷺ زخمی ہوئے، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے اپنے رب پر اعتماد نہیں چھوڑا۔ قرآن نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ آزمائشیں ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی پختگی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
اسی لیے اسلام انسان کو صرف فتح کے وقت شکر کرنا نہیں سکھاتا بلکہ آزمائش کے وقت صبر، استقامت اور اللہ پر اعتماد بھی سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سچا مؤمن کامیابی میں مغرور نہیں ہوتا اور ناکامی میں مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا تعلق نتائج سے پہلے اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے۔
نظریاتی طاقت
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مادّی طاقتیں اپنی قوت، دولت، اسلحے کے انبار اور سیاسی غلبے کے باوجود ہمیشہ عارضی اور وقتی طاقتیں ہی ثابت ہوئی ہیں، جبکہ مضبوط نظریات صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ سلطنتیں بنتی اور بکھرتی اور حکومتیں قائم ہو کر ختم ہوتی رہی ہیں، لیکن وہ نظریات جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ اور ابدی اقدار پر مبنی ہوں، انہیں ختم کرنا کسی طاقت کے بس میں نہیں ہوتا۔
مادّی وسائل، عسکری طاقت، معاشی برتری اور سیاسی اقتدار اگرچہ کسی قوم کو وقتی غلبہ عطا کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس کے دوام کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل قوت وہ نظریہ ہے جو انسان کو اس کی زندگی کا مقصد، اخلاقی اصول، فکری رہنمائی اور اجتماعی نصب العین عطا کرے۔ یہی نظریہ قوموں میں قربانی، استقلال، ایثار اور مسلسل جدوجہد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی قوم اپنے نظریے پر کامل یقین رکھتی ہو تو وہ محدود وسائل کے باوجود بڑی سے بڑی مادّی طاقت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے۔
اسلام اسی نوعیت کا ایک زندہ اور ناقابلِ تسخیر نظریہ ہے جس نے ہر دور میں سخت ترین آزمائشوں کے باوجود اپنی تازگی، قوت اور اثر انگیزی کو برقرار رکھا ہےبظاہر وقتی طور پر مغلوب ہونے کے باوجود اللہ کے فضل و کرم سے اپنے طاقتور حریف پر غالب آکر رہا ہے۔
قرآنِ کریم اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ 33 35
"وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔"
اسلام کا غلبہ محض عسکری یا سیاسی غلبہ نہیں بلکہ سب سے پہلے فکری، نظریاتی، اخلاقی اور روحانی غلبہ ہے۔ اسلام کی اصل قوت اس کی دلیل، اس کی صداقت، اس کے اعلیٰ اخلاق اور اس کی آفاقی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ دلوں کو فتح کیا ہے اور انسانوں کو ان کی مرضی سے اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔
اسلام کو جب ہم نظریہ حیات کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسلام محض چند مذہبی رسوم، ثقافتی روایات یا نسلی شناخت کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر، زندہ اور ابدی نظریۂ حیات ہے۔ اس کی اساس کسی قوم، زبان، جغرافیے یا تہذیب پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی (Divine Revelation)پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کا وجود کسی مخصوص انسانی گروہ کی موجودگی، اسلامی معاشرے یا مذہبی ثقافت کا محتاج نہیں۔ اگر دنیا کی تمام ظاہری علامتیں مٹا دی بھی دی جائیں تو بھی اسلام اپنے عقائد، تعلیمات، اخلاقی اصولوں اور فکری بنیادوں کے ذریعہ زندہ رہتا ہے، کیونکہ اس کی اصل بنیاد ظاہری رسوم و رواج یا مادّی و ثقافتی علامات کے بجائے انسانی دل و دماغ میں راسخ ہونے والے ایمان پر ہے۔
اسلام اس اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی نظریاتی طاقت ہے کہ اس کی بنیاد کسی نسل، زبان، جغرافیے یا قومی مفاد پر نہیں بلکہ توحید، رسالت، آخرت اور عدلِ الٰہی جیسے ابدی حقائق پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام جہاں بھی پہنچا وہاں اس نے انسانوں کو صرف مذہبی رسوم نہیں سکھائیں بلکہ ان کی فکر، اخلاق، تہذیب، سیاست، معیشت، معاشرت اور اجتماعی زندگی کو ایک نئی اور انقلابی سمت عطا کی۔ اسلام نے انسان کو بتایا کہ اس کی زندگی کا مقصد محض دولت، اقتدار یا دنیاوی لذتیں نہیں بلکہ اپنے رب کی بندگی، عدل کا قیام، انسانیت کی خدمت اور آخرت کی کامیابی ہے۔ یہی بلند مقصد اسلام کو تمام انسانی نظریات سے ممتاز بناتا ہے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ حق اگرچہ بعض اوقات کمزور دکھائی دے، لیکن انجام کار غالب ہوکر رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ... 18 36
"بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں، پھر وہ اس کا سر کچل دیتا ہے اور وہ فوراً مٹ جاتا ہے۔"
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ باطل خواہ کتنا ہی مضبوط اور منظم کیوں نہ دکھائی دے، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے، جبکہ حق اپنی فطری قوت کی بنا پر بالآخر غالب آتا ہے۔
اسلام ایک نظریہ ایک دین
اسلام کی نظریاتی برتری کا سب سے بڑا ثبوت صرف اس کی تعلیمات نہیں بلکہ وہ عظیم تاریخ بھی ہے جو ان تعلیمات کے عملی نفاذ سے وجود میں آئی۔ دنیا میں بہت سے فلسفے اور نظریات ایسے گزرے ہیں جو کتابوں کی زینت تو بنے، لیکن عملی زندگی میں انسانیت کی رہنمائی نہ کر سکے۔ اسلام اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس نے نہ صرف ایک اعلیٰ نظریہ پیش کیا بلکہ ایسے انسان بھی پیدا کیے جنہوں نے اس نظریے کو اپنے کردار، سیاست، عدالت، معیشت اور تمدن میں مجسم کر کے دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی قوت کا اندازہ صرف اس کے نظری اصولوں سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے بھی کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نوخیز اسلامی ریاست شدید آزمائشوں سے دوچار ہو جائے گی۔ عرب کے مختلف قبائل میں ارتداد کی تحریکیں اٹھیں، جھوٹے مدعیانِ نبوت سامنے آئے اور بیرونی طاقتیں اسلامی ریاست کو کمزور سمجھنے لگیں۔ ایسے نازک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق
نے غیر معمولی بصیرت، استقامت اور ایمانی قوت کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے واضح اعلان فرمایا کہ اگر لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زکوٰۃ کی ایک رسی بھی دیتے تھے اور اب اس سے انکار کریں گے تو میں اس پر بھی ان سے قتال کروں گا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی نہیں بلکہ اسلام کی نظریاتی وحدت اور دینی اصولوں کے تحفظ کا اعلان تھا۔ یہی استقامت بعد میں اسلامی ریاست کے استحکام کی بنیاد بنی۔
حضرت عمر بن خطاب
کے دورِ خلافت میں اسلام کی نظریاتی قوت نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ وسیع فتوحات کے باوجود اسلامی ریاست کا مقصد صرف زمینوں پر قبضہ کرنا نہیں تھا بلکہ عدل، دیانت، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کا قیام تھا۔ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر حضرت عمر
کا سادہ لباس، رعایا کے ساتھ مساوی سلوک، اور اہلِ شہر کو دی جانے والی امان اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ اسلام کی اصل طاقت اخلاقی برتری میں تھی، نہ کہ عسکری غلبے میں۔ اسی دور میں بیت المال، عدالتی نظام، احتساب، انتظامی تقسیم اور عوامی فلاح کے ایسے ادارے قائم ہوئے جنہیں تاریخِ حکومت میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
اسلامی تاریخ میں نظریاتی قوت کی ایک روشن مثال نورالدین زنگی کی شخصیت ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کو محض سیاسی اقتدار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ عدل، علم، جہاد اور اصلاحِ معاشرہ کو اپنی حکمرانی کا مقصد قرار دیا۔ مدارس، مساجد، شفاخانے اور رفاہی ادارے قائم کیے، علماء کی سرپرستی کی اور مسلم معاشرے میں دینی و اخلاقی بیداری پیدا کی۔ انہی کی تیار کردہ فکری، عسکری اور اخلاقی بنیادوں پر بعد میں صلیبی حملوں کے خلاف ایک مضبوط اسلامی قیادت ابھری۔
اسی سلسلے کی درخشاں کڑی صلاح الدین ایوبی ہیں۔ انہوں نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا، لیکن ان کی عظمت صرف فتح میں نہیں بلکہ فتح کے بعد کے کردار میں نمایاں ہوتی ہے۔ جہاں صلیبیوں نے 1099ء میں بیت المقدس پر قبضے کے وقت بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا تھا، وہاں صلاح الدین ایوبی نے عفو و درگزر، مذہبی رواداری اور انسانی احترام کی مثال قائم کی۔ دشمنوں کے زخمیوں کا علاج کرایا، عام شہریوں کی جان و مال کو تحفظ دیا اور بہت سے قیدیوں کو فدیہ لیے بغیر آزاد کر دیا۔ یہی وہ اخلاقی قوت تھی جس نے اسلام کی نظریاتی برتری کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا۔
اسلام کی نظریاتی طاقت کا ایک اور عظیم مظہر محمد ثانی کی قیادت میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا، جس کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے صدیوں پہلے دی تھی۔ فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے شہر کے باشندوں کو مذہبی آزادی، جان و مال کا تحفظ اور قانونی حقوق فراہم کیے۔ انہوں نے علم، فن، تعمیرات اور تہذیب کی سرپرستی کی، جس کے نتیجے میں قسطنطنیہ (استنبول) ایک عظیم علمی، تہذیبی اور عالمی مرکز بن گیا۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ اسلام کی فتوحات کا مقصد محض سیاسی توسیع نہیں بلکہ عدل و تہذیب کا فروغ تھا۔
برصغیر کی تاریخ بھی اسلام کی نظریاتی قوت کا ایک منفرد باب ہے۔ یہاں اسلام صرف عسکری فتوحات کے ذریعے نہیں پھیلا بلکہ زیادہ تر اہلِ علم، صوفیاء، مبلغین اور صالح کردار رکھنے والے مسلمانوں کی دعوت، دیانت، مساوات اور حسنِ اخلاق کے ذریعے لوگوں کے دلوں تک پہنچا۔ علی ہجویری، خواجہ معین الدین چشتی، بابا فرید الدین گنج شکر اور نظام الدین اولیاء جیسے بزرگوں نے اپنی دعوت، خدمتِ خلق، اخلاص اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے دل جیتے۔ ان کی کامیابی کی بنیاد تلوار نہیں بلکہ کردار تھا، اور یہی اسلام کی حقیقی نظریاتی قوت ہے۔
اسلام کی نظریاتی قوت کا ایک عظیم تاریخی مظہر منگولوں کی تاریخ میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ تیرہویں صدی میں چنگیز خان اور اس کی افواج نے دنیا کی عظیم تہذیبوں کو روند ڈالا۔ چین، وسطی ایشیا، ایران، عراق، شام اور مشرقی یورپ تک ان کی یلغار نے انسانی تاریخ کے بدترین قتلِ عام کو جنم دیا۔ 1258ء میں بغداد کی تباہی اسلامی تہذیب کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ لاکھوں انسان قتل ہوئے، علمی مراکز تباہ کر دیے گئے، عظیم کتب خانے نذرِ آتش ہوئے اور دجلہ کا پانی کتابوں کی سیاہی سے سیاہ ہونے کی مثال تاریخ میں محفوظ ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسلامی تہذیب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے، لیکن چند ہی دہائیوں بعد وہی منگول قبائل اسلام کے حسنِ اخلاق، عدل، علم اور روحانیت سے متاثر ہو کر مسلمان ہونے لگے۔ جن لوگوں نے مسلم شہروں کو تباہ کیا تھا، انہی کی نسلوں نے بعد میں مساجد تعمیر کیں، قرآن کی خدمت کی، اسلامی علوم کی سرپرستی کی اور اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ اپنے نظریاتی، اخلاقی اور روحانی حسن کے ذریعے دلوں کو فتح کرتا ہے۔
جدید دور میں بھی اسلام کی یہی نظریاتی طاقت مختلف آزمائشوں کے باوجود نمایاں نظر آتی ہے۔ بوسنیا و ہرزگوینا میں مسلمانوں نے نسل کشی، قتلِ عام، اجتماعی قبروں، خواتین کی بے حرمتی اور بے شمار مظالم کا سامنا کیا، لیکن ان کی اسلامی شناخت ختم نہ کی جا سکی۔ ظلم ختم ہوا تو اسلام پہلے سے زیادہ مضبوط صورت میں ان کے معاشرے میں موجود تھا۔ اسی طرح فلسطین کے مسلمانوں نے دہائیوں سے مسلسل جنگ، محاصرہ، بے گھری اور انسانی المیوں کا سامنا کیا ہے۔ گذشتہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط صیہونی مظالم اور درندگی نے ظلم و ستم کی ہر حد پار کر ڈالی ہے۔ بچوں ، عورتوں، بوڑھوں، معذوروں، بیماروں پر جبری بھوک اور قحط مسلط کرکے فضائی بمباری اور زمینی غاصب فوج کے ذریعے ان کا سفاکانہ اور اجتماعی قتل عام ، نوجوانوں کو بلاجواز تعذیب اور تشدد کا نشانہ بنانا، فلسطینی مسلمانوں کے گھروں کا انہدا م ان کی جائیدادوں پر قبضہ ، ان کے کھیت و کھلیان کو جلانا ، ا ن کی عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنا اور اسپتالوں، اسکولوں، حفاظتی مراکز اور درسگاہوں کو بمباری کے ذریعے تباہ کرنا ، ان کی معیشت کو ملیا میٹ کردینا ان کی تجارتوں کو ختم کردینا الغرض ہر طرح کے ظلم و ستم کے باوجود صیہونی ریاست ان مسلمانوں کو ان کے عقیدہ کو برگزشتہ کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ان کی اکثریت نے اپنے دین، اپنی شناخت اور اپنے عقیدے سے دست بردار ہونے کے بجائے صبر و استقامت کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ کیفیت اس امر کی علامت ہے کہ ایمان کی بنیاد پر قائم ہونے والا نظریہ محض مادّی قوت سے مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ میں شاید ہی کوئی مذہب ایسا ہو جسے اسلام کی طرح مسلسل دبانے، مٹانے اور ختم کرنے کی منظم کوششیں کی گئی ہوں، مگر ہر مرتبہ نتیجہ اس کے برعکس نکلا ہے۔ جب بھی اسلام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے گئے، وہ پہلے سے زیادہ قوت، تازگی اور وسعت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی بقا کسی مادّی سہارے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی فطری صداقت پر قائم ہے۔
اس حقیقت کی نمایاں مثال سابق سوویت یونین ہے جہاں تقریباً سات دہائیوں تک اشتراکی حکومت نے مذہب، خصوصاً اسلام، کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا۔ مساجد بند کی گئیں، دینی مدارس ختم کر دیے گئے، قرآنِ مجید کی اشاعت محدود کر دی گئی، اذان، نمازِ جمعہ، دینی تعلیم، اسلامی شعائر اور مذہبی شناخت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ لاکھوں مسلمانوں کو جیلوں، جلاوطنی اور مختلف مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاستی طاقت، تعلیمی نظام، ذرائع ابلاغ اور سرکاری اداروں کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا کہ نئی نسل اسلام سے بے گانہ ہو جائے۔ اس کے باوجود حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ان تمام کوششوں کے باوجود اسلام مسلمانوں کے دلوں سے محو نہ کیا جا سکا۔ جیسے ہی اشتراکی نظام کا خاتمہ ہوا اور وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کو آزادی ملی، مساجد دوبارہ آباد ہونے لگیں، قرآنِ مجید کی تعلیم عام ہوئی، اذان کی صدائیں بلند ہوئیں، دینی مدارس قائم ہوئے اور لاکھوں افراد نے دوبارہ اسلامی شناخت کو فخر کے ساتھ اختیار کیا۔ یہ منظر اس حقیقت کا عملی ثبوت تھا کہ نظریات کو طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً وہ نظریہ جو وحیِ الٰہی پر مبنی ہو۔
اسی طرح میانمار (برما) کے مسلمانوں کی تاریخ بھی اسلام کی نظریاتی قوت کی ایک زندہ مثال ہے۔ طویل عرصے تک وہاں مسلمانوں کو شدید مظالم، نقل مکانی، شہریت سے محرومی اور مذہبی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی بستیاں جلائی گئیں، عبادت گاہیں منہدم کی گئیں، ہزاروں بے گناہ افراد قتل کیے گئے اور لاکھوں مسلمان اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ ان تمام مظالم کا مقصد مسلمانوں کو صرف جسمانی نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کی دینی شناخت کو بھی مٹانا تھا۔
لیکن ظلم کی شدت بھی مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل نہ کر سکی۔ جن خاندانوں نے اپنا گھر، زمین، روزگار اور عزیز و اقارب کھودیے، انہوں نے اپنے دین کو نہیں چھوڑا۔ مہاجر کیمپوں میں رہنے والے یہ مسلمان آج بھی قرآن کی تلاوت کرتے، نماز ادا کرتے اور اپنی نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے وابستہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا رشتہ صرف زمین یا ریاست سے نہیں بلکہ ایمان اور عقیدے سے ہے، اور یہی تعلق اسے دنیا کے تمام نظریات سے ممتاز بناتا ہے۔
اسلام کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم وقتی طور پر انسانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن حق کو مٹا نہیں سکتا۔ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں مگر ایمان کو قتل نہیں کر سکتیں۔ جیلیں انسان کو قید کر سکتی ہیں مگر اس کے عقیدے کو قید نہیں کر سکتیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے چودہ صدیوں سے اسلام کو ہر آزمائش میں سرخرو رکھا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی نظریاتی طاقت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس دین کا معاملہ ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ رات اور دن کا سلسلہ قائم رہے، اور اللہ تعالیٰ ایسا کوئی گھر باقی نہیں چھوڑے گا، خواہ وہ شہری ہو یا دیہاتی، مگر اس میں اس دین کو ضرور داخل کرے گا۔" 37
یہ پیش گوئی صرف مسلمانوں کے لیے تسلی کا پیغام نہیں بلکہ اس ابدی حقیقت کا اعلان بھی ہے کہ اللہ کا دین اپنی فکری، اخلاقی اور روحانی قوت کے ذریعے ہر دور میں انسانوں کے دلوں تک پہنچتا رہے گا، خواہ اس کی راہ میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ کھڑی کر دی جائیں۔
اسلامی نظریۂ حیات آج اور کل
آج کا انسان بے مثال سائنسی ترقی، حیرت انگیز ٹیکنالوجی، وسیع معاشی وسائل اور جدید ذرائعِ ابلاغ کے باوجود اضطراب، بے سکونی اور فکری انتشار کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے مادّی ترقی کو زندگی کا مقصد اور اخلاقی و روحانی اقدار کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔ نتیجتاً انسان نے کائنات کو تو مسخر کر لیا، لیکن اپنے نفس پر قابو نہ پا سکا؛ اس نے زمین کی وسعتوں کو فتح کر لیا، مگر اپنے دل کی دنیا ویران کر بیٹھا۔ طاقت میں اضافہ ہوا لیکن امن کم ہوگیا، دولت بڑھی لیکن اطمینانِ قلب ناپید ہوگیا، معلومات میں بے پناہ اضافہ ہوا مگر حکمت اور بصیرت کا فقدان پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گیا۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ محض مادّی ترقی انسان کی نجات کے لیے کافی نہیں بلکہ اسے ایک ایسے نظریۂ حیات کی ضرورت ہے جو اس کی عقل، روح، اخلاق اور معاشرے سب کی یکساں رہنمائی کرے۔
اسلامی نظریۂ حیات اسی ضرورت کا مکمل اور دائمی جواب ہے۔ اسلام انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ وہ دنیا کو ترک کر دے، بلکہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کو آخرت کی ذمہ داری کے ساتھ آباد کرے۔ اسلام علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے، لیکن علم کو اخلاق سے وابستہ کرتا ہے؛ دولت کمانے کی اجازت دیتا ہے، مگر اسے عدل، امانت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بناتا ہے؛ اقتدار کو جائز قرار دیتا ہے، مگر اسے ظلم، استبداد اور استحصال کے بجائے امانت اور جواب دہی سے مشروط کرتا ہے۔ یہی نظریاتی و اعتقادی توازن اسلام کو دیگر انسانی نظریات سے ممتاز بناتا ہے۔
قرآنِ کریم بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ عدل، خیر اور اصلاح کا نظام قائم کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ 105 38
"اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔"
یہ آیت اس ابدی اصول کو بیان کرتی ہے کہ دنیا کی حقیقی قیادت بالآخر انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو ایمان، تقویٰ، عدل اور صالح کردار کے حامل ہوں۔ اگرچہ تاریخ میں بعض اوقات ظالم اور جابر قوتیں وقتی غلبہ حاصل کر لیتی ہیں، لیکن ان کی حکومتیں ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ہیں، جبکہ حق اور عدل کا پیغام باقی رہتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی امتِ مسلمہ کو یہی یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت خود فرمائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے۔" 39
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی بقا کسی مخصوص نسل، قوم یا ریاست کے ساتھ وابستہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اہلِ ایمان کے اخلاص کے ساتھ وابستہ ہے۔ تاریخ میں جب بھی مسلمان اپنے دین کی حقیقی تعلیمات سے وابستہ رہے، انہوں نے نہ صرف اپنی اصلاح کی بلکہ پوری انسانیت کو علم، عدل، امن، رواداری اور تہذیب کی نئی راہیں دکھائیں۔
گزشتہ دو صدیوں میں استعمار، مادیت، سیکولر فکر، اشتراکیت ، سرما یہ داریت اور مختلف فکری تحریکوں نے یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کی کہ مذہب کا دور ختم ہو چکا ہے اور انسان صرف عقل، سائنس اور معاشی ترقی کی بنیاد پر اپنی تمام مشکلات حل کر لے گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ سائنسی ترقی وحی پر مبنی نظریۂ حیات کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح مادّی و مصنوعی طرزِ زندگی اخلاقی تربیت کا نعم البدل نہیں بن سکتی اور نہ ہی محض معاشی خوشحالی روحانی سکون فراہم کر سکتی ہے۔ اسی طرح سیاسی آزادی عدل و انصاف کے بغیر حقیقی امن پیدا نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر سائنسی و مادّی ترقیوں کے باوجود آج دنیا بھر میں انسان دوبارہ حقیقی نظریۂ حیات، مقصدِ زندگی ، اخلاقی اقدار اور روحانی رہنمائی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
اس حوالے سے ان تمام مسائل کا واحد حل اسلام کی صورت میں انسانوں کو نہایت خالص اور اصلی شکل میں دستیاب ہے۔ اس کی وجہ اسلام کی وہ نظریاتی قوت ہے کہ جو مکمل طور پر انسان کی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ اسلام عقل کو بھی مطمئن کرتا ہے، دل کو بھی سکون دیتا ہے، روح کو بھی غذا فراہم کرتا ہے اور معاشرے کو بھی عدل و توازن عطا کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام کا پیغام وقت گزرنے کے ساتھ پرانا نہیں ہوتا بلکہ ہر نئے دور میں پہلے سے زیادہ معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ حالات بدلتے ہیں، تہذیبیں تبدیل ہوتی ہیں، سیاسی نقشے بدل جاتے ہیں، لیکن قرآن کی ہدایت، رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات اور اسلام کے ابدی اصول ہر زمانے میں انسان کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام نے کبھی انسانوں کو نسل، رنگ، زبان یا وطن کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا بلکہ انہیں ایک ہی خاندان، یعنی خاندانِ آدم کا فرد قرار دیا۔ اسلام کی نگاہ میں عزّت و برتری کا معیار صرف تقویٰ، کردار اور نیکی ہے۔ یہی آفاقیت اسلام کو ایک عالمی نظریہ بناتی ہے، جبکہ بیشتر سیاسی اور معاشی نظریات کسی نہ کسی قومی، نسلی یا علاقائی مفاد کے گرد گھومتے ہیں۔ اسلام پوری انسانیت کو ایک رب، ایک اخلاقی معیار اور ایک مشترک انسانی وقار کے تحت جمع کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
دنیا کو بہت کچھ دینے والے حقیقی طورپر کچھ بھی نہ دے سکے
جدید دنیا کی بڑی صنعتی، معاشی اور فوجی ریاستیں اور طاقتیں بے شمار مادّی وسائل رکھنے کے باوجود دنیا کو ایک ایسا ہمہ گیر(Comprehensive) نظریہ پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں جو پوری انسانیت کو یکساں طور پر مطمئن کر سکے۔ جاپان اپنی صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط میں دنیا کے ممتاز ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کی ترقی بنیادی طور پر مادّی میدان تک محدود ہے۔ اسی طرح روس اور چین عسکری، معاشی اور سیاسی اعتبار سے طاقتور ممالک ہیں، مگر وہ ایسا آفاقی نظریۂ حیات پیش نہیں کرتے جو نسل، قومیت اور جغرافیے سے بلند ہو کر پوری انسانیت کو ایک مشترک اخلاقی اور روحانی بنیاد فراہم کر سکے۔ ان کی قوت ریاست کے انتظامی ڈھانچوں، معیشت اور عسکری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اَب مصنوعی ذہانت پر قائم ہے، جبکہ اسلام کی قوت انسان کے ضمیر، ایمان اور اخلاق میں پیوست اس کی اعتقادی ، نفسیاتی اور روحانی تسکین کا باعث ہے۔
اسلام اس کے برعکس ایک ایسا مکمل نظامِ حیات پیش کرتا ہے جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق، قانون، معیشت، معاشرت، سیاست، تعلیم اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ یہی جامعیت اسلام کو صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک زندہ اور ہمہ گیر تہذیبی و نظریاتی قوت بناتی ہے۔ اسلام انسان کو دنیا اور آخرت، روح اور جسم، فرد اور معاشرہ، آزادی اور ذمہ داری، حقوق اور فرائض کے درمیان ایسا متوازن نظام عطا کرتا ہے جس کی مثال انسانی افکار اور نظریات میں شاید ہی موجود ہو ۔
اسی لیے تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ مادّی سپر پاورز وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ کبھی فارس، کبھی روم، کبھی منگول، کبھی برطانیہ، کبھی سوویت یونین اور کبھی امریکہ عالمی طاقت کے منصب پر فائز رہے، مگر ان سب کی سیاسی برتری ایک نہ ایک وقت زوال پذیر ہوئی۔ اس کے برعکس اسلام چودہ صدیوں سے مسلسل ایک زندہ نظریاتی حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ اس کے ماننے والوں کو کبھی سیاسی غلبہ حاصل رہا اور کبھی وہ کمزور ہوئے، لیکن اسلام کی فکری، روحانی اور اخلاقی قوت کبھی ختم نہیں ہوئی۔ یہی وہ امتیاز ہے جو اسلام کو ایک نظریاتی سپر پاور بناتا ہے، کیونکہ نظریات کی دنیا میں بقا اس کی ہوتی ہے جس کی بنیاد وحی، فطرت اور ابدی صداقت پر قائم ہو، نہ کہ عارضی اقتدار اور مادّی وسائل پر۔
اسلام کی فکری و اخلاقی عظمت نے متعدد غیر مسلم مفکرین کو بھی متاثر کیا۔ برطانوی مؤرخ William Montgomery Watt نے اپنی تحقیقات میں اس بات پر زور دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی غیر معمولی کامیابی کو محض سیاسی عوامل سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے پسِ منظر میں آپ کی دیانت، اعلیٰ کردار اور پیغام کی غیر معمولی قوت کارفرما تھی۔ اسی طرح فرانسیسی مؤرخ Gustave Le Bon نے اسلامی تہذیب کے علمی، سائنسی اور تمدنی اثرات کو یورپ کی فکری ترقی کے اہم اسباب میں شمار کیا۔ امریکی مؤرخ John William Draper نے بھی اسلامی تہذیب کی علمی خدمات کو یورپی نشاۃِ ثانیہ کے پس منظر میں اہم قرار دیا۔ یہ آراء اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام کی قوت صرف مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے علمی و تہذیبی اثرات کو متعدد غیر مسلم اہلِ علم نے بھی تسلیم کیا ہے۔
ان تمام تاریخی شواہد سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلام کی اصل طاقت نہ اس کے ماننے والوں کی تعداد میں ہے، نہ دولت کے انبار میں اور نہ ہی عسکری قوت میں؛ بلکہ اس کی بنیاد ایمان، علم، عدل، اخلاق، خدمتِ انسانیت اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر ہے۔ جب بھی مسلمان ان اصولوں سے وابستہ رہے، انہوں نے دنیا کی فکری اور اخلاقی قیادت کی؛ اور جب ان سے دور ہوئے تو ان کی سیاسی طاقت بھی کمزور پڑ گئی۔ اس لیے اسلام کی نظریاتی برتری کا راز ماضی کی یادگاروں میں نہیں بلکہ ان ابدی اصولوں میں پوشیدہ ہے جو ہر دور میں انسانیت کو عدل، امن، علم، رحمت اور فلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
اسلام کی اصل طاقت اس کے ماننے والوں کی تعداد، دولت یا عسکری قوت نہیں بلکہ اس کی حقانیت، اس کی فطری تعلیمات اور اس کے ربانی سرچشمے میں مضمر ہے۔ اگر مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر قرآن و سنت سے اپنا تعلق مضبوط کریں، علم و تحقیق کو فروغ دیں، عدل و احسان کو اپنی اجتماعی زندگی کا شعار بنائیں اور اپنے کردار سے اسلام کی نمائندگی کریں تو وہ دوبارہ دنیا کی فکری اور اخلاقی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اپنے دین کے حقیقی نمائندہ بنے تو دنیا نے ان سے علم، تہذیب، انصاف اور انسان دوستی سیکھی، اور جب وہ اپنی اصل تعلیمات سے دور ہوئے تو ان کا زوال شروع ہو گیا۔
اس لیے اسلام کی نظریاتی برتری کا تقاضا یہ نہیں کہ مسلمان محض ماضی کے کارناموں پر فخر کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے کردار، علم، تحقیق، دیانت، عدل اور خدمتِ انسانیت کے ذریعے اس نظریے کی صداقت کو عملی طور پر ثابت کریں۔ نظریات صرف کتابوں میں زندہ نہیں رہتے بلکہ اپنے پیروکاروں کے اخلاق، اعمال اور معاشرتی کردار میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اگر مسلمان قرآن کو اپنا دستور، سنتِ نبوی ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ اور تقویٰ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کی بنیاد بنا لیں تو اسلام ایک مرتبہ پھر دنیا کے لیے امید، امن، انصاف اور رحمت کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔
- 1 القرآن، سورہ البقرہ 2 : 23
- 2 القرآن، سورہ یونس 10 : 38
- 3 القرآن، سورۃ الکافرون 199: 1ـ 6
- 4 القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 2
- 5 القرآن، سورۃ الحجرات49: 15
- 6 القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 143
- 7 القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 201
- 8 احمد عبد الرحمن البناساعاتی، بدائع المنن فی جمع وترتیب مسندالشافعی والسنن، جـ1، مطبوعہ: مکتبۃ الفرقان، القاھرۃ، مصر،1403ھ، ص: 14
- 9 ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 10، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیۃ، 1999ء، ص: 5
- 10 ابو داود سلیمان بن الاشعث السجستانی، سنن ابی داود، حدیث: 2614، مطبوعہ: دا رالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 2009ء، ص: 528
- 11 ابو عبد اللہ احمد بن محمد الشیبانی، مسند الامام احمد بن حنبل، حدیث: 2728، جـ4، مطبوعہ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان، 2001ء، ص: 461
- 12 ابو داود سلیمان بن الاشعث السجستانی، سنن ابی داود، حدیث: 2615، مطبوعہ: دا رالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، السعودیۃ، 2009ء، ص: 528
- 13 القرآن، سورۃ الاسراء 17: 70
- 14 ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 2443، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیۃ، 1999ء، ص: 394
- 15 القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 222
- 16 القرآن، سورۃ الروم 30: 30
- 17 کتابِ مُقدس، متی: 6 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 976)
- 18 القرآن، سورۃ الجاثیہ 45: 23
- 20 القرآن، سورۃ الجاثیہ 45: 23
- 21 القرآن، سورۃ الاعراف 7: 179
- 22 القرآن، سورۃ النساء 4: 104
- 23 القرآن، سورۃ الاعراف7: 156
- 24 القرآن، سورۃ الانبياء21: 107
- 25 ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 2699، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیہ، 2000ء، ص: 1173
- 26 ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 2581، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیہ، 2000ء، ص: 1129ـ 1130
- 27 ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل البخاری، صحیح البخاری، حدیث: 13، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیۃ، 1999ء، ص: 5
- 28 ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی، المعجم الاوسط، حدیث:5787، جـ 6، مطبوعہ: دار الحرمین، القاھرۃ، مصر، 1995ء، ص: 58
- 29 القرآن، سورۃ البقرۃ 2: 44
- 30 القرآن، سورۃ النساء 4: 82
- 31 ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 91، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیہ، 2000ء، ص: 54
- 32 القرآن، سورۃ السجدۃ 32: 7
- 33 القرآن، سورۃ الحجرات 49: 15
- 34 القرآن، سورۃ التوبۃ 9: 40
- 35 القرآن، سورۃ التوبۃ 9: 33
- 36 القرآن، سورۃ الانبیاء21: 18
- 37 ابو عبد اللہ احمد بن محمد الشیبانی، مسند الامام احمد بن حنبل، حدیث: 16957، جـ28، مطبوعہ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان، 2001ء، ص: 154
- 38 القرآن، سورۃالانبیاء 21: 105
- 39 ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حدیث: 1920، مطبوعہ: دار السلام ، الریاض، السعودیہ، 2000ء، ص: 857
ڈاکٹر حبیب الرحمٰن اور ہمدانی، مفتی سیّد شاہ رفیع الدین۔ (2026)اسلام ہی کیوں؟، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/islam-hi-kyun