مغربی تہذیب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمگیر غلبہ کے بعد زبان وادب اورلسانی اصطلاحات و تعبیرات کے میدان میں باقی اقوام کی مذہبی، روحانی، تہذیبی، ثقافتی، تاریخی، لسانی اور ادبی شناخت کو مٹانے یا مغلوب کرنے کے لئے تحریف لسانی اور اصطلاحات سازی کی ایسی فیکٹری لگا رکھی ہے کہ جس کے نتیجہ میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط کے مابین امتیاز کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، الّا یہ کہ ان اصطلاحات کی حقیقت اور ماہیت سے کماحقہ آگاہی حاصل ہو۔

اصطلاحات میں تبدیلی کا مقصد

مغربی تہذیب کا اصل مقابلہ اسلام کے ساتھ ہے، کیونکہ مغربی مفکرین اور دانشور اسلام کے سوا کسی دوسری تہذیب کو اپنے مقابلے میں نہیں سمجھتے۔ اس لیے مغربی تہذیبی اقدار اور مغرب کی وضع کردہ اصطلاحات کا سب سے بڑا نشانہ اسلام ہی بنتا ہے۔ ان اصطلاحات کا عمومی اور بے دریغ استعمال کسی اور قوم و ملت کے لئے شاید اتنے نقصان کا باعث نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کے ماسوا کسی بھی دوسری قوم کے لیے "الحق" اور ابدی صداقت کا کوئی ابدی اُصول موجودنہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے تغیر اور حالات و معاملات کے تقاضوں سے اپنے مذہب کو ہم آہنگ رکھنے کے لئے مستقل تغیروتبدل، بلکہ کتب مقدسہ میں تحریف کرنا اور مذہب کو زمان و مکان سے ہم آہنگ کرنا، نہ کہ زمان و مکاں کو مذہب سے ہم آہنگ کرنا، تمام مذاہبِ عالم اپنی مذہبی و اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اسی لئے دیگر اقوام کے نزدیک مذہبی اصطلاحات اور تعبیرات کے معانی و مفاہیم میں تبدیلی کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ضرورت کے تحت بجالانا ہی اہم خیال کیا جاتاہے۔ لہذا جن مذاہب میں بذات خود حق و باطل کے ابدی اُصول موجود نہ ہوں، اُن کے لئے دائمی و ابدی اصطلاحات، جو دائمی و ابدی تعلیمات وتصورات پر دلالت کرتے ہوں، مفقود ہوجایا کرتی ہیں۔ اُن مذاہب کی اصل غرض و غایت یہ نہیں رہتی کہ ان کے پیرو کار ان مذاہب کی اصولی اور بنیادی تعلیمات کو اُس کی روح کے ساتھ قبول کرتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل غرض و غایت فقط یہ رہ جاتی ہے کہ اُن کے پیروکاروں کی تعداد اگر بڑھ نہ سکے تو کم بھی نہ ہو، خواہ اس کے لئے انہیں جدید افکارونظریات اور اقدار و معاملات کے ساتھ مصالحت (Adjustment) ہی کیوں نہ کرنی پڑجائے۔

اس تناظر میں بعض مذاہب اپنی اصولی تعلیمات سے اپنے پیروکاروں کی رضامندی کی خاطر دست بردار ہونے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ہندومت اور عیسائیت ایسے مذاہب ہیں جن میں ترمیم اور تبدیلی کے لئے اہل مذہب کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ اس کےنتیجہ میں مندرو کلیسا اور پادری وپنڈت کو مالی و مادی منفعت کی کوئی صورت نظر آتی ہو۔ لہذا اِن دونوں مذاہب سمیت جملہ مذاہب عالم کے لئے لسانی واصطلاحی تغیرات اور زبانی تعبیرات کے وہ نئے مفاہیم جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے مختلف جہاں رکھتے ہوں، ان کو اپنے مذہب کا حصہ بنانا یا ان سے اپنے مذہب کی مبادیات میں تبدیلی کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

اصطلاحات میں تبدیلی کے نقصانات

ہیومن بینگ کا اپنے نظریات اور نفسانی چاہتوں کے فروغ کے لئے نئی اصطلاحات کا ایجاد کرنا اور دیگر کے حقیقی معانی و مفاہیم اور اطلاقات میں تحریف ناقابل معافی جرم ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان بالآخر رب کا بندہ بننے کے بجائے نفس کا بندہ بن جاتا ہے، جس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسے قرآن کریم کی اصطلاح میں فتنہ کہا جائے تو غلط نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم نے فتنہ بمعنی آزمائش اور دھوکہ دہی کے بھی استعمال کیا ہے۔ یہ لسانی و اصطلاحاتی فتنہ اپنے تباہ کن نتائج کے اعتبار سے قتلِ اُمت و اقوام سے زیادہ سخت فتنہ اس لئے ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسان مقدسات کو غیر مقدسات، محرمات کوغیر محرمات، ممنوعات کو مباہات، جبکہ دوسری طرف سے حلال کو حرام، جائز کو ناجائز اور اچھے عمل اور تصور کو بُرے سے بدل دیتا ہے، جس کا نتیجہ خود اسلام کی اساسیات اور مبادیات پر، مصالحت اور شعائر اسلامی کو ان کے اصل معنی اور مقام سے بدل دینے کا مترادف ہوسکتا ہے، جو خود اسلامی علمیت (Epistemology) کے لئے ایک ایسے تحدی (Challenge) کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس میں بیت اللہ، حرم پاک، قرآن کریم، اذان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج، جہاد، اجتہاد سمیت دوسری تمام اصطلاحات تحریف و تبدل سے دوچار ہوسکتیں ہیں۔ لہذا اسلامی اصطلاحات کا استعمال صرف اس کے اصل موضع و مقام اور معنی و مفہوم میں کیا جانا بہت ضروری ہے۔

اصطلاحات کے بدلنے سے ایک اور خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ انسانی معاشروں اور اقوام کی ماہیت قلبی اس طور پر ہوجاتی ہے کہ خلق خدا، بندگی رب یعنی عبدیت کے دائرے سے نکل کر نفس پرستی، طاغوت پرستی، دنیا پرستی اور عیش پرستی کی راہ پر لگ جاتی ہے۔ وحی الہی، آسمانی تعلیمات اور صحف سماویہ نے اصطلاحات کو ایک خاص دینی، روحانی، ایمانی و ایقانی تناظر میں بیان کیا ہوتا ہے جس کا مقصد اُن اصطلاحات کے ذریعے بندوں کی بندگی کو قرب الہی میں بدل کر انہیں ابدی نعمتوں کا اُمید وار بنانا ہوتا ہے۔

ہیومن رائٹز اور حقوق العباد میں فرق

اسلام اپنی ابدی تعلیمات کے ساتھ اپنی اصطلاحات کے مفاہیم اور اطلاقات میں بھی ابدیت کا حامل ہے۔ اسی لئے کسی بھی شخص، جماعت، قوم اورتہذیب کو کسی بھی صورت یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اسلام کے متعین کردہ الہامی اصطلاحات کو اپنے من پسند اور انسانی فہم و ادراک پر مشتمل معنی و مفاہیم یا تعبیرکا جامہ پہنا سکے۔ آج پوری دنیا میں مسلمان ممالک بڑے فخر سے حقوق انسانی کے چارٹرکو حقوق العباد کا مجموعہ یا مترادف سمجھ کر قبول بھی کرتے ہیں اور اُس کی تعریف میں زمین وآسماں کے قلابے بھی ملاتے ہیں، حالانکہ حقوق انسانی اور حقوق العباد میں بہت بڑا اصولی فرق ہے۔ بعض لوگ اپنی لاعلمی یاعدم توجہی کے باعث یہاں تک دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ اقوام متحدہ کا عالمی منشور برائے حقوق انسانی (Charter of Human rights) شاید خطبہ حجۃ الوداع (Last Sermon of Holy Prophet) سے ماخوذ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں، کیونکہ حقوق کے تناظر میں چند چیزیں آپس میں یقیناً ملتی جلتی ہیں، جس سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ شاید حقوقِ انسانی اور حقوق العباد میں کوئی فرق نہیں، حالانکہ یہ سمجھنا ایک بڑی علمی، فکری اور نظریاتی بلکہ اعتقادی غلطی ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ حقوق العباد بندوں کے دوسرے بندوں کے حوالے سے اُن فرائض اور واجبات کا نام ہے جس کا تعین بندوں نے نہیں کیا بلکہ رب تعالیٰ نے خوٍد یا پھر اپنے نبی آخرالزماں کے ذریعے فرمایا ہے، لہذا ان حقوق کی حیثیت غیر متبدل اور الہامی ہے۔ جس میں تنسیخ، ترمیم واضافہ کا حق کسی انسان یا ادارے کو ہرگز حاصل نہیں ہے۔ ان حقوق کی حیثیت اسی طرح ہے جس طرح اسلام میں فرائض وعبادات کا مجموعہ غیر متبدل بنیادوں پر قائم ہے۔ انسانوں کا قلیل یا کثیر، بے اختیار یا بااختیار اورکم عقلمند یا بہت زیادہ عقلمند مل کر بھی اس مجموعے میں رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح دنیا کی کوئی پارلیمینٹ یا عدلیہ کو یہ حق حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ اسلام کے پیش کردہ حقوق العباد کے تصور اور تعلیم کے متبادل کوئی اور فلسفہ یا تعلیمات کے مجموعے کو حقوق العباد کے نام سے پیش کرے۔

اسلام تمام انسانوں کے یکساں حقوق کا بالکل بھی قائل نہیں ہے، کیونکہ تمام انسان علم، اخلاق، کردار، سیرت، عمل، محنت، عبادت، تقویٰ اور رویوں میں برابر نہیں ہیں۔ اسی لئے اسلام میں حقوق کی ادائیگی کو فرائض کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے۔ مطلق حقوق کا تصور خود انسانی معاشروں میں بھی عملی طور پر ناممکن ہے۔ کیونکہ اپنے ذمہ کے فرائض ادا کیے بغیر باپ اپنے بیٹے کو، ماں اپنی بیٹی کو، استاد اپنے شاگرد کو اورکارخانہ دار اپنے ملازم کو کسی قسم کا حق یا حقوق دینے کا پابند نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو اپنا فریضہ تخلیق یعنی عبدیت و بندگی بجالانے سے انکاری ہو وہ اُن تمام حقوق سے یکسر محروم ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے اُن کی بندگی و اطاعت پر رضا مندی کی وجہ سے مختص فرمائے ہیں۔ برسبیل تنزل اس معاملہ کو کسی ملک کے عام شہری اور مجرم شہری کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے، یعنی عام شہری جو ملک کے قوانین کا پاسدار اور ریاست کا وفادار ہو اور وہ شخص جو ملکی قوانین کو رد کرنے والا اور ریاست کا غدار ہو، شہری ہونے کے اعتبار سے یکساں ہونے کے باوجود حقوق کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتے کیونکہ ایک شہری کے حقوق فرمانبردار شہری کی حیثیت سے اور دوسرے کی باغی اور مجرم شہری کی حیثیت سے تعین کیا جاتے ہیں۔

اسلام میں حقوق العباد کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ حقوق اللہ کی ادائیگی مقدم اورحقوق العباد کی ادائیگی مؤخر ہے۔ یعنی حقوق العباد کا شعور حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجے میں پیداہوتا ہے۔ محض حقوق انسانی کا نعرہ بظاہر تو بہت ہی خوبصورت نعرہ ہے لیکن اس نعرہ کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کوئی اعتقادی و الہامی اساس و بنیاد نہیں ہے۔ حقوق انسانی کے معاملے میں سب سے بڑا ابہام یہ ہے کہ آخر "انسان" کون ہے؟ اور "انسان" کون نہیں ہے؟ کیونکہ اگر روئے زمین پر بسنے والے تمام افراد انسان ہیں تو پھر جنگوں میں غیر مسلح اور غیر جنگجو افراد بشمول بچوں، عورتوں، بوڑھوں، بیماروں، معذوروں اور عام لوگوں کا قتل عام کسی شخص یا ادارے کی طرف سے نہیں بلکہ حقوق انسانی کے سب سے بڑے نام نہاد دعویدار مغربی ممالک کی طرف سے کیوں کیا جاتاہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ مغرب جس انسان اور اُس کے حقوق کی بات کرتا ہے اُس سے مراد ہر شخص نہیں ہوتا بلکہ اس "انسان" سے مراد ہیومن (Human) ہوتا ہے جو اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اللہ کا بندہ اور خدا کے کسی بھی پیغمبر کا پیروکار نہیں ہوسکتا کیونکہ Human جس مذہب کا پیروکار ہوتا ہے وہ Humanism کہلاتاہے۔ 1 یہ ہیومن (Human) کا کسی بھی الہامی مذہب، الہامی عقائد و تصورات اور نظریات کے برعکس انسانی پیش کردہ فکروفلسفہ اور قوانین و نظریات کا پیروکار ہوتا ہے۔ مغربی مفکر"کانٹ" صرف اُس شخص کو ہیومن بینگ (Human being) قرار دیتا ہے جو اپنی آزادی کا قائل ہو۔ آزادی سے مراد انسان کا اپنے نفس، خواہش اور شہوت کا غلام بن جانا ہے۔ جتنا کوئی شخص اپنے نفس اور خواہش، شہوت کا غلام بنتا چلا جائے گا اتنا ہی وہ آزادی کا حقیقی علمبردار بنتا چلا جائے گا۔ یہی وہ انسان ہے جو خالق کائنات کو رب نہیں مانتا بلکہ اپنے نفس کو ہی اپنا رب بنا لیتا ہے۔ لہذا اُس کا نفس اُسے جس بات کا حکم دے وہ جائز اور ناجائز، حلال و حرام اور صحیح و غلط کی تمیز سے بالاترہوکر اُسے بجالانا اپنا فریضہ جانتا ہے کیونک ان کے نزدیک خیر و شر وہی ہے جس کا تعین ہیومن بینگ کرے۔ ایسے انسان کی عقل خواہشات کے تابع ہوجاتی ہے اس لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ خارج میں موجود کوئی قوت (دین، مذہب، خدا، عقیدہ) نہیں کرتی بلکہ داخلی طور پر عقل خود حرص وہوس اور شہوات سے مغلوب ہوکر اچھے اور بُرے کا فیصلہ کرتی ہے۔ لہذا اگر کسی ہیومن کی خواہش شراب پینے، جوّا اور سٹہ کھیلنے، سود کمانے یا بدکاری کرنے کی ہو تو اُسے بلا تردد ان تمام کاموں کو بجا لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ انسانی نفس کی خواہش اور چاہت ہے۔ البتہ اُسے صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان تمام رزائل کو روبہ عمل لانے کے دوران کسی اور ہیومن بینگ کی آزادی کی راہ میں اُسے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ایسا انسان ہی حقیقی معنی میں مغرب کی نظر میں اصلی ہیومن بینگ ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیسویں صدی عیسویں میں خلق خدا کی بڑی اکثریت Human being بن گئی ہے ورنہ سترویں صدی سے پہلے Human being کا کوئی وجود نہیں تھا۔ لہذا مغرب جب حقوق انسانی (Human Rights) کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد وہ مادر پدرآزاد، انسان نما جانور ہیں جو وحی کے مقابلے میں عقل، دین کے مقابلے میں فلسفہ، خدا کے مقابلے میں نفس کی بندگی اور کلام اللہ کے مقابلے میں انسانی فکر و دانش کو ہادی و رہنما سمجھنے کے قائل ہوں۔ یہ وہ انسان (Human being) ہیں جو خود کو قائم بالذّات سمجھ کر اس بات کے دعویدار ہیں کہ انہیں خود اس بات کا کلی ادراک ہے کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا اُن کے لئے بہتر نہیں ہے۔ اس لئے وہ اپنے درمیان سے اُن انسانوں کو، جنہیں وہ دانشور، فلسفی، سائنسدان، اہل فکر و نظر سمجھتے ہیں اُن کی انفرادی اور اجتماعی آراء، جو تھنک ٹینک (Think tank)، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے ذریعہ پیش ہوتی ہیں، اس بات کا مکمل استحقاق رکھتی ہیں کہ کسی کام یا عمل کے صحیح و غلط اور جائز و ناجائز ہونے کا فیصلہ کریں۔ اسی طرح انسانوں کا نظام زندگی، مقصد زندگی اور شاہراہِ زندگی کا تعین بھی یہ افراد اور ادارے کریں۔ جس طرح دنیا کے ہر مذہب کا ایک دیوتا ہوتا ہے اس انسان (Human being) کا بھی ایک دیوتا ہے اور وہ خود انسان ہے۔

ہیومن رائٹز کی موجودگی میں کروڑوں انسانوں کا قتل؟

ہیومن بینگ (Human being) کی مذکورہ بالا تعریف پر کوئی مسلمان خواہ کمزور سے کمزور ایمان والا ہی کیوں نہ ہو پورا نہیں اُترتا۔ لہذا اُسے (Charter of Human Rights) کے تحت کوئی حق نہیں مل سکتا، بلکہ جس طرح جان لاک (John Locke) نے سرخ ہندیوں کو جو ایک روایت کے مطابق حضرت یونس Alaihis Salam کے پیروکار تھے، ان کا قتل اور اُن کی املاک کی لوٹ مار کو اس لئے جائز قرار دیا تھا کہ اُس کے بقول سرخ ہندی نہ تو انسان تھے اور نہ ہی انہیں اپنے انسان ہونے کا شعور تھا، بلکہ جان لاک ان کے قتل کو اس لئے ضروری سمجھتا تھا کہ اُس کی نظر میں سرخ ہندیوں کی حیثیت آوارہ بھینسوں سے بالکل مختلف نہ تھی، جن کو ختم کیے بغیر امریکی دولت میں اضافہ ممکن نہ تھا۔ اسی طرح بیسویں صدی کے بڑے سیاسی مفکر جان رالز لکھتا ہے کہ جو افراد مطلق آزادی کو قدرِ مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے ان کو ختم کرنا اتنا ہی ضروری ہے کہ جتنا ایک متعدی وباء (Pandemic) کا ختم کرنا۔ لہذا آزادی کو رد کرنے والوں کو جواب دلیل سے نہیں گولی سے دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح مسلمان، جو ہیومنزم کے اس باطل عقیدہ کے قائل نہیں، ان کا قتل کرنا، ان کی املاک کو لوٹنا، نہ صرف جائز ہے، بلکہ ہیومنزم کے فروغ کے لئے ضروری ہے۔ ثانیاً، کیونکہ یہ ہیومن ہیں ہی نہیں، ان کو چارٹر آف ہیومن رائٹز کے تحت کوئی حقوق حاصل نہیں۔ انہی گمرہ کن تعلیمات اور افکار و نظریات کو پیش نظر رکھ کر مغربی ممالک اور امریکہ نے عراق و افغانستان کے مسلمانوں کا بلا تخصیصِ جنس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا اور اپنے اس گھناؤنے عمل پر کبھی کسی پشیمانی، پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ اسی طرح گوانتا ناموبے اور ابوغریب میں مسلمان مجاہدین پر ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی روح فرسا تشدد کیا گیا کیونکہ یہ مسلمان آزادی کے قائل نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی سچی اور حقیقی بندگی اور رسول کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی اطاعت و فرما برداری کی راہ کو حق سمجھتے اور جانتے ہیں۔ لہذا ان مجاہدین کو سگریٹ سے داغنا، کرنٹ لگانا، ان کی کھال اُدھیڑنا، ان کو جلانا، اپنا پیشاب پینے پر مجبور کرنا، ان کے ساتھ استہزاء اور ٹھٹا کرنا، اِن کے بچوں کو قتل کرنا، ان کی خواتین کی عصمت دری کرنا، ان کے بزرگوں کی توہین کرنا، اس لئے جائز ہوجاتا ہے کہ یہ مغرب کی نظر میں انسان ہی نہیں ہیں۔ لہذا ہمارے یہاں وہ تمام ادارے اور تنظیمات جو حقوق انسانی کی علمبردار بنی ہوئی ہیں اور حقوق انسان اور حقوق العباد کو یکساں سمجھتے ہیں انہیں اس ضمن میں اپنی غلط فہمی جتنی جلدی ممکن ہو دور کرلینی چاہیے ورنہ وہ اپنے آپ کو انسان سمجھتے رہیں گے جبکہ مغرب اُن کو جانور سمجھنے پر بھی راضی نہیں ہوگا۔ کیونکہ مغرب کی نظر میں جانوروں کی بھی اچھے خاصے حقوق ہوا کرتے ہیں، جنہیں وہ ادا کرنا ضروری خیال کرتے ہیں اور ان کو قتل کرنا سنگین جرم و ظلم گردانتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کو اور ہر وہ شخص جو ہیومنزم کے نظریہ کا مخالف ہے اس کے قتل عام کو صحیح بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔

 
  • 1  طاغوتی قوتوں کی آسمانی عقیدہ و اعتقادکے خلاف جنگ کا آغاز سولھویں صدی میں نکولومیکیاولی (۱۴۶۹ء-۱۵۲۷ء)کی ۱۵۱۳ء میں بدنامِ زمانہ تصنیف ’شہزادہ‘ (The Prince) سے ہوا کیونکہ آسمانی اقدارکے مقابلے میں ’شہزادہ‘ مبہم ڈرامائی جنگ کا مرکزی کردار تھا۔ میکیاولی اس مذموم منصوبہ بندی کا خالق تھا جس کو اقبالؒ نے ’مرسلے از شیطان‘ کے لقب سے یاد کیا، یعنی ’شیطان کا بھیجا ہوا پیغمبر‘۔ میکیاولی نے جھوٹ، تحریف، دھوکادہی اوربددیانتی کے سہارےہیومنزم (Humanism) یا ’اکرام انسانیت‘ کے فلسفہ کو پروان چڑھایا تاکہ انسان تکبر اور گھمنڈ میں مبتلاہوکر خالق کائنات کےخلاف سینہ سپرہوجائے۔ یہ نمرود اور فرعون کی طرح سیاسی، تمدنی اورمعاشرتی اُمورمیں ایک خدا کی خدائی سلب کرنے کی شیطانی کوشش تھی جو ہیومنزم کی اصطلاح میں لپٹے ہوئے انسان کی خدائی کا جھوٹا دعویٰ تھا۔ اِس نظریے کو مارٹن لُوتھر (۱۵۶۴ء) نے مذہب کی شکل دی جو دنیاپرستی پر مبنی زمینی مذہب قرار پایا۔

ہمدانی، مفتی سیّد شاہ رفیع الدین اور ڈاکٹر حبیب الرحمٰن۔ (2026)اصطلاحات کا دھوکہ حقوق انسانی کے تناظر میں، Islamic Thoughts۔
https://islamicthoughts.net/articles/ur/istilahat-ka-dhoka-huqooq-e-insani-ke-tanazur-mein